اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

2 اگست، 2019

کوکا۔کولا اور پاکستان بزنس کونسل کے اشتراک سے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی ہدف 6 کی تکمیل کے سلسلے میں جامع کارپوریٹ واٹر پالیسی پر ورکشاپ

 

کوکا۔کولا اور پاکستان بزنس کونسل کے اشتراک سے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی ہدف 6 کی تکمیل کے سلسلے میں جامع کارپوریٹ واٹر پالیسی پر ورکشاپ 


کراچی، 01 اگست، 2019۔ کوکا۔کولا پاکستان نے پاکستان بزنس کونسل کے سینٹر آف ایکسی لینس ان ریسپانسبل بزنس (CERB) کے ساتھ اشتراک کیا ہے جس کے تحت اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی ہدف 6 میں صاف پانی و نکاس بشمول اندرونی و بیرونی طور پر پانی کے بہتر استعمال،جو کہ کارپوریٹ واٹر پالیسی کا اہم جزو ہے،پر عمل درآمد کے لئے منعقدہ ورکشاپ میں اظہار خیال کیا گیا۔ آئی ایم ایف کی تحقیق کے مطابق پاکستان دنیا کا تیسرا ملک ہے جہاں پانی کی شدید قلت ہے اور سال 2025 تک پانی کی معدومیت کے منڈلاتے خطرے کے پیش نظر بحران پر قابو پانے کے لئے فوری اقدمات پر زور دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ورکشاپ میں مختلف پس منظر کے حامل ماہرین تعلیم، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں، انڈسٹری، کارپوریٹ سیکٹر اور فلاحی اداروں سے تعلق رکھنے والے 30سے زائد افراد نے شرکت کی۔ اس فعال ورکشاپ کا مقصد ہر شخص کی توجہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی ہدف 6 کی جانب مبذول کرانا تھا تاکہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے دیگر کاروباری اداروں کو اپنی سپلائی چین میں پانی سے متعلق خطرات سے آگاہ کرنے میں معاونت حاصل ہو اور وہ اپنی جامع کارپوریٹ واٹر اسٹریٹجی تیار کرسکیں اور اس میں وقت کے ساتھ میں بہتری لائیں۔ 

اس ورکشاپ کے آغاز میں شرکاء نے رہائشی و صنعتی استعمال سے متعلق پانی بشمول مجموعی پانی کی صورتحال پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر اعزازی مہمان واٹر کمیشن کے چیف کنوینر و ماہر آب ڈاکٹر احسن صدیقی جبکہ محکمہ ماحولیات، ماحولیاتی تبدیلی و ساحلی ترقی کے سیکریٹری ڈاکٹر سعید احمد منگنیجومہمان خصوصی تھے جنہوں نے ہر شعبے کے لئے پائیدار طریقے سے پانی کی فوری بچت پر اظہار خیال کیا۔ بعد ازاں شرکاء کی جانب سے پانی کے استعمال کا احتساب، پانی کے استعمال میں بچت لانے کے ہدف اور عالمی ترقیاتی ہدف 6  کی تکمیل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ 

کوکا۔کولا کمپنی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ تازہ پانی کی دستیابی آج کے دور کا اہم مسئلہ ہے جو ایک جانب کمپنی کی کاروبار ی صلاحیت خطرے میں ڈال سکتا ہے جبکہ  دوسری جانب یہ دنیا بھر میں لوگوں کو روزگار اور آمدن کے مواقع فراہم کرکے ان کی زندگیوں پر مثبت اثرات بھی مرتب کرتا ہے۔ ورکشاپ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کوکا۔کولا پاکستان و افغانستان کے جنرل منیجر رضوان خان نے کہا، "اس طرح کی ورکشاپس کے انعقاد سے ہماری انڈسٹری اور پارٹنرز کی حوصلہ افزائی ہوگی جس کی بدولت وہ طویل المیعاد حکمت عملی کے ذریعے پانی کی بچت کے لئے اپنی متعلقہ سپلائی چینز میں زائد پانی کے استعمال کا مسئلہ حل کریں گے۔ اگرچہ کوکا۔کولا سسٹم کے اندر ہمارے ریجن سے متعلق پانی کی صورتحال مثبت ہے اور سال 2017 سے اب تک 10 سے زائد پروجیکٹس کے ذریعے مقامی آبادیوں کو 2.75 ارب لیٹر پانی واپس لوٹایا جاچکا ہے لیکن ماحولیات کے تحفظ کے لئے ہمیں اب بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔" 

پاکستان بزنس کونسل کی سال 2017 کی تحقیق کے مطابق اسکے 65 فیصد رکن کمپنیوں کی کارپوریٹ واٹر پالیسی موجود ہے تاہم ان میں بیشتر کمپنیوں کو پائیدار طریقہ کار اختیار کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ پاکستان بزنس کونسل کے سی ای او احسان ملک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، "اس ورکشاپ کے انعقاد سے پانی کے تحفظ سے متعلق مزید آگہی پیدا کرنے میں کامیابی ہوئی اور لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوئی کہ وہ اپنا فعال کردار ادا کرکے پانی مزید بہتر انداز سے استعمال کریں جبکہ نجی شعبے کی بھی حوصلہ افزائی ہوئی کہ وہ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے لئے پرعزم انداز سے کام کریں۔"

کوکا۔کولا کمپنی اپنی کاروباری سماجی ذمہ داری کا وسیع دائرہ کار رکھتی ہے جس میں چار اہم شعبے خواتین، کچرے سے پاک دنیا، دیکھ بھال اور پانی شامل ہیں۔ سال 2007 میں دی کوکا۔کولا کمپنی نے زمین میں پانی لوٹانے کے ہدف کا اعلان کیا جس میں اس بات پر توجہ دی گئی ہے کہ سال 2020 تک اسکے پانی کے استعمال کی مقدار کے برابر پانی لوٹایا جائے۔ پاکستان دنیا کے ان 61 ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کی حفاظت کے منصوبوں پر کام کا آغاز کیا گیا ہے۔ 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں