اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

16 اگست، 2019

تین سال گزرنے کے باوجود صوبائی محکمہ صحت نے فرحان کی موت میں غفلت کے مرتکب ڈاکٹروں کے حلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی

تین سال گزرنے کے باوجود صوبائی محکمہ صحت نے فرحان کی موت میں غفلت کے مرتکب ڈاکٹروں کے حلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی 


چترال (نامہ نگار) صحافی کے بیٹے محمد فرحان مرحوم کے بیٹے کے موت میں غفلت کے مرتکب ڈاکٹروں کے حلاف تین سال گزرنے کے باوجود محکمہ صحت کے ارباب احتیار نے کوئی کاروائی نہیں کی۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈنٹل کونسل (PMDC) اسلام آباد کے ڈسپلنری کمیٹی کے اجلاس جو 2جولائی 2019 کو منعقد ہوا تھا جس میں ڈاکٹر محمد فیاض ولد ڈاکٹر محمد آیاز ڈسٹرکٹ چلڈرن سپیشلسٹ، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال ضلع ہنگو کا لائسنس چھ ماہ کیلئے، ڈاکٹر جہانگیر کا لائسنس چھ ماہ کیلئے اور ڈاکٹر اکرام الدین ولد مصلح الدین اسسٹنٹ پروفیسر پیڈیاٹرک سرجری (کنسلٹنٹ) لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کا لائسنس ایک سال کیلئے پی ایم ڈی سی لٹر نمبر PF.8-1411/2016-Legal/317967مورحہ 11.06.2019 کو معطل کئے گئے اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے MTI نے لٹر نمبر1840/LRH/PA مورحہ 26.06.2019کے تحت ڈاکٹر اکرام الدین کنسلٹنٹ چلڈرن سرجیکل یونٹ کی ملازمت کو ایک سال کیلئے معطل کیا گیا پاکستان میڈیکل اینڈ ڈنٹل کونسل کے فیصلے مطابق جن ڈاکٹروں کے لائسنس معطل کئے گئے وہ اس دوران نہ تو سرکاری ہسپتال میں کسی مریض کا معائنہ نہیں کرسکتے ہیں اور نہ نجی کلینک میں۔ ہیلتھ ریگولٹری اتھارٹی کو ہدایت کی گئی کہ وہ ان ڈاکٹروں کا کلینک سربمہرSeal کردے تاکہ مریضوں کا معائنہ نہ کرسکے۔ 

فرحان کے موت میں اس کا والد سینئیر صحافی گل حماد فاروقی نے تین مرتبہ سیشن کورٹ اور ایک مرتبہ پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرکے باقاعدہ کیس دائر کیا۔ عدالتی حکم پر چھ ڈاکٹروں نے عدالت سے قبل از گرفتاری ضمانت (BBA) حاصل کی۔ جن میں حیات آباد میڈیکل کمپلکس کے سرجیکل اے یونٹ کے انچارج پروفیسر ڈاکٹر مظہر خان، نصیر اللہ خان بابر میموریل ہسپتال کے ڈاکٹرارشاد آفریدی، ڈاکٹر سپین گل، ڈاکٹر اعجاز چترالی، ڈاکٹر محمد ذہین اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر کفایت خان نے عدالت سے ضمانت حاصل کی۔ جبکہ چار ڈاکٹر بار بار نوٹس کے باوجود نہ تو عدالت میں حاضر ہوئے نہ پولیس کو گرفتاری پیش کی جس پر پولیس کے تفتیشی افسران نے عدالت سے رجوع کی اور جناب شیراز خان سول جج XV کے فاضل عدالت نے دو اگست 2019 کو ڈاکٹر اصغر نواز، ڈاکٹر محمد فیاض ولد محمد آیاز ڈسٹرکٹ چلڈرن سپیشلسٹ DHQ ہستپال ضلع ہنگو، ڈاکٹر جہانگیر اور ڈاکٹر محتیار زمان کو اشتہاری قراردیکر ان کو حکم دیا کہ وہ مورخہ 02 ستمبر 2019 کو عدالت میں پیش ہو۔ متعلقہ پولیس نے ان اشتہاری مجرمان کی اشتہارات ہسپتال کے مین گیٹ، نوٹس بورڈ اور شاہراہ عام پر بھی چسپاں کردیا مگر تاحال ان اشتہاری ملزمان نے ابھی تک نہ تو پولیس کو گرفتاری دی ہے اور نہ ہی عدالت سے رجوع کیا۔ اس سلسلے میں تھانہ خان رازق شہید کے تفتیشی آفیسر خلیل الرحمان خان سب انسپکٹر، اور تھانہ کے ایس ایچ او سے بھی رابطہ کیا گیا جنہوں نے اس بات کی تصدیق کرلی۔ 

واضح رہے کہ محمد فرحان کو 28 جولائی 2016 کو دوپہر کے وقت پیٹ میں شدید درد محسوس ہونے لگی اور الٹیاں آنے لگی جسے گھر کے قریب اخونزادہ ویلفئیر کلینک کے ڈاکٹر عمران کو دکھایا جس نے درد کی دوا لکھ کر اسے گھر بھیج دیا مگر آفاقہ نہ ہونے کی صورت میں اسے 29 جولائی کو نصیر اللہ خان بابر میموریل ہسپتال کوہاٹ روڈ پشاور لے گئے جہاں کیجولٹی میں ڈاکٹر ارشاد آفریدی نے اسے درد کا انجکشن لگاکر گھر بھیج دیا مگر درد زیادہ ہونے کی صورت میں اسے دوبارہ اسی ہسپتال میں صبح نو بجے چلڈرن او پی ڈی لے گئے۔ جہاں ڈاکٹر سپین گل نے اسے الٹر ساؤنڈ کیلئے بھجا اور ڈاکٹر اعجاز چترالی نے الٹرا ساؤنڈ کرنے کے بعد بتایا کہ یہ نارمل ہے۔ 

اسے گھر لایا گیا مگر تیس جولائی کو اسے مزید درد ہونے لگا جسے فوری طور پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے کیجولٹی یونٹ لے گیا جہاں ڈاکٹر جہانگیر اسے چلڈرن سرجیکل یونٹ ریفر کیا مگر پیڈیاٹرک سرجیکل یونٹ میٰں ڈاکٹر جہانگیر نے اس کا ایکسرے کرکے اسے معمولی بیماری قراردیکر گھر بھیج دیا۔ اسی دن رات گیارہ بجے محمد فرحا ن کو شدید درد ہونے لگا اور چھوٹا پیشاب بھی بند ہوا جسے فوری طور پر LRH لے گئے اور رات کو بھی صبح والا ڈاکٹر یعنی جہانگیر ڈیوٹی پر تھا اس نے ایک بار پھر اسے چلڈرن سرجیکل یونٹ کو ریفر کیا جہاں ڈاکٹر اصغر نواز، ڈاکٹر محمد فیاض، ڈاکٹر جہانگیر وغیرہ ڈیوٹی پر معمور تھے انہوں نے رات ایک بجے فرحان کو دوبارہ گھر بھیجا اور اس کا نہ آپریشن کیا نہ داحل کیا۔

اسے گھر لایا گیا دو اگست کو اسے حیات آباد میڈیکل کمپلکس صبح او پی ڈی لے گئے۔ جہاں انکشاف ہوا کہ اس کا اپنڈکس پھٹ گیا ہے۔ اور اسے سرجیکل اے یونٹ میں داحل کیا گیا۔ فرحان کے والد نے ڈاکٹر صدیق چترالی کو فون کرکے درخواست بھی کی کہ اس کے بیٹے کا اپنڈکس پھٹ چکا ہے اور فوری طور پر اس کی آپریشن کا بندوبست کیا جائے جس نے یقین دہانی تو کرائی مگر ہسپتال جاکر مریض کا معائنہ تک نہیں کیا۔ 

شام کے بعد کافی دیر بعد فرحان کا آپریشن چند جونیر ڈاکٹروں نے کی جو ناکام ہوا اور اسے ICU ریفر کیا گیا مگر انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں بیڈ حالی نہیں تھی اسے اگلے دن خیبر ٹیچنگ ہسپتال KTH لے گئے جہاں وہ ایک گھنٹے کے بعد انتقال کرگئے۔ 

اس کے والد نے ان ڈاکٹروں کے حلاف متعلقہ تھانوں، ایس پی کینٹ، ایس پی سٹی، انسپکٹر جنرل آف پولیس کو درخواستیں دئے مگر ڈاکٹروں کے حلاف FIR درج نہیں کیا گیا جس پر اس کے والد نے عدالت سے رجوع کیا۔عدالت نے حکم دیا کہ ان ڈاکٹروں کے حلاف مقدمہ درج کیا جائے مگر اس باوجود پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا اس کے بعد ایس ایچ او تھانہ خان رازق شہید کے ایس ایچ او انسپکٹر محمد نور کے حلاف توہین عدالت کا مقدمہ درج کیا جس پر اس نے ایف آئی آر تو درج کیا مگر کسی ملزم کا نام تک درج نہیں کیا اور ہسپتال کے عمارت پر مقدمہ درج ہوا۔ اس کے بعد اس کے والد نے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پیٹیشن جمع کی۔ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس ابراہیم اشتیاق پر مشتمل ڈویژنل بنچ نے حکم سنایا کہ ان ڈاکٹروں کے حلاف مقدمہ درج کیا جائے اور ایس ایس پی آپریشن کو حکم دیا کہ وہ متعلقہ ایس ایچ او کے حلاف قانونی کاروائی کرے کہ اس نے کیوں بروقت مقدمہ درج نہیں کیا۔ اور PMDC کو بھی ہدایت کی گئی کہ وہ ان ڈاکٹروں کے حلاف قانونی کاروائی کرے۔ 

فرحان مرحوم کے والد گل حماد فاروقی نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ شعبہ صحافت سے پچیس سالوں سے وابستہ ہے مگر اتنی کوشش کے باوجود اسے انصاف نہیں ملا۔ محکمہ صحت کے سیکرٹری، ڈی جی اور وزیر اعلےٰ کو بھی متعد د درخواستیں دئے مگر ابھی تک ان ڈاکٹروں کے حلاف کوئی کاروائی نہ ہوسکی۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں از خود نوٹس لے اور غفلت کے مرتکب ان ڈاکٹروں کو قرار واقعی سزا دلوادیں تاکہ آئندہ کسی اور کے ساتھ اس قسم کا زیادتی نہ ہو۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں