اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

23 اگست، 2019

کیلاش قبیلے کا سالانہ مذہبی تہوار ’اوچال‘ تمام رنگینیوں اور رعنائیوں کے ساتھ احتتام پذیر۔ کئی نئے جوڑے بھی رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے؛ سیاحوں کی جانب سے خراب سڑکوں اور سہولیات کی عدم دستیابی کی شکایت

کیلاش قبیلے کا سالانہ مذہبی تہوار  ’اوچال‘ تمام  رنگینیوں اور رعنائیوں کے ساتھ احتتام پذیر۔ کئی نئے جوڑے بھی رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے؛ سیاحوں کی جانب سے خراب سڑکوں اور سہولیات کی عدم دستیابی کی شکایت 



چترال (گل حماد فاروقی) کیلاش قبیلے کا سالانہ مذہبی تہوار اوچال اپنی تمام تر رنگینیوں اور رعنائیوں کے ساتھ وادی کیلاش میں احتتام پذیر ہوئی۔ یہ تہوار کیلاش لوگ سال کے درمیان میں مناتے ہیں جو اکثر گندم کی کٹائی کے بعد منعقد ہوتا ہے۔ اوچال کے تہوار میں کیلاش لوگ دودھ سے بنی ہوئی چیزیں پنیر، پینک، شوپینیک وغیرہ لوگوں میں مفت تقسیم کرتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں۔ 

کیلاش لڑکی آرمینہ کہتی ہے کہ اس تہوار میں لڑکے ڈھولک بجاتے ہیں جبکہ لڑکیاں (خواتین) اکھٹے رقص پیش کرتی ہیں اور گیت گاتی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ ہم لوگوں کو اکٹھا کرتے ہیں اور خوشیاں مناتے ہیں اور دعائیں بھی مانگتے ہیں۔ 

برطانیہ سے آئی ہوئی ایک خاتون سیاحCharlotte Hophinsen کا کہنا ہے کہ مجھے یہا ں آکر بہت مزہ آیا اور ہمیں چاہئے کہ ہم کیلاش ثقافت کو محفوظ رکھے اسے حتم نہ ہونے دے کیونکہ انہی تہواروں کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاح یہاں کا رح کرتے ہیں۔ 



اوچال کا ایک حاص رسم بھی منایا جاتا ہے جس میں وادی کے لوگ پھول اور پتے اکھٹے کرکے ماتم زدہ گھروں میں جاتے ہیں جہاں فوتگی ہوئی ہو اور اس طرح پھول ان کے ہاتھوں میں دیکر سگ حتم کرکے وہ لوگ بھی ان کے رسم میں شریک ہوتے ہیں۔ 

کیلاش لوگ اکثر رات کو بھی رقص کرتی ہیں اور چراغاں ہاتھوں میں لیکر چرسو آتے ہیں جہاں وہ رقص کرتے ہیں اپنے ساتھ پنیر وغیرہ بھی لاتے ہیں اور اسے نہ صرف کیلاش لوگوں کو دی جاتی ہیں بلکہ مسلمانوں کو بھی پیش کیا جاتا ہے۔ 

اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی وزیر زادہ کیلاش کا کہنا ہے کہ اس موقع پر ہم اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں جو ہمیں اتنی نعمتیں دی ہیں اور حصوصی دعائیں بھی مانگتے ہیں۔ وزیر زادہ نے اس موقع پر دنیا بھر اور حصوصی طور پر پڑوسی ملک ہندوستان کو پیغام دیا کہ اگر کسی نے اقلیتوں کے ساتھ محبت، رواداری اور نرمی دیکھنی ہو تو وہ پاکستان آکر کیلاش لوگوں کے مسلمانوں کا شفقت دیکھے اور اس سے سبق حاصل کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کیلاش بہت قلیل تعداد میں ہے مگر مسلمان بھائیوں کی شفقت اور ان کی مہربانی سے ہم اپنے تمام مذہبی رسومات نہایت آزادی کے ساتھ مناتے ہیں۔

اوچال تہوار میں چترال کی ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور انتظامیہ کے افسران نے بھی شرکت کی جن کی آمد پر کیلاش روایات کے مطابق ان کو زرق برق کے رنگین چوغے پہنائے گئے جو عزت کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔ 

اوچال کی تہوار کو دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح وادی کیلاش پہنچ چکے تھے مگر اکثر سیاحو ں نے وادی کی حراب سڑکوں اور سہولیات کی فقدان کی شکایت کی۔ اس بات کو ایم پی اے وزیر زادہ نے بھی تسلیم کیا کہ پہلے غیر ملکی سیاحوں پر این او سی لینے کی شرط تھی جس کی وجہ سے یہاں کا سیاحت تباہ ہوا تھا اب وہ شرط حتم ہوگئی مگر سڑکیں اتنی حراب ہیں کہ جب کوئی سیاح یہاں ایک بار آتا ہے تو دوبارہ آنے سے گریز کرے گا۔ 

وادی کے لوگوں کے ساتھ ساتھ سیاحوں نے بھی حکومتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ کم از کم وادی کیلاش کی سڑکوں کی حالت بہتر کرے کیونکہ سڑکوں کی حالت اتنی حراب ہے کہ دس کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے پر نو گھنٹے لگتے ہیں۔ اگر حکومت وادی کی مواصلاتی نتظام بہتر کرنے پر توجہ دے تو یہاں سیاحت کو بہت فروغ ملے گی جو یقینی طور پر اس پسماندہ حطے سے غربت کے حاتمے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں