اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

25 اگست، 2019

وادی کیلاش میں عوامی مسائل حل کرنے کے سلسلے میں کھلی کچہری کا انعقاد۔ عوام نے شکایاتک ے انبھار لگادئے۔ پچھلی بار کھلی کچہری میں یقین دہانی کے باوجود ابھی تک ہسپتال میں ڈاکٹر نہیں ہے۔

 

وادی کیلاش میں عوامی مسائل حل کرنے کے سلسلے میں کھلی کچہری کا انعقاد۔ عوام نے شکایاتک ے انبھار لگادئے۔ پچھلی بار کھلی کچہری میں یقین دہانی کے باوجود ابھی تک ہسپتال میں ڈاکٹر نہیں ہے۔ 



چترال(گل حماد فاروقی) عوام کے مسائل ان کے دہلیز پر حل کرنے کے سلسلے میں ضلعی انتطامیہ نے وادی کیلاش کے بمبوریت میں ایک کھلی کچہری منعقد کی جس کا اہتمام تحصیل میونسپل انتظامیہ نے کی تھی۔کھلی کچہری میں مسلم اور کیلاش دونوں کمیونٹی کے لوگوں نے شکایات کے انبھار لگادئے۔ 

عوام نے شکایت کیا تھا کہ ایک سال پہلے اس طرح کھلی کچہری میں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ بنیادی مرکز صحت بمبوریت میں ایک ہفتے کے اندر ڈاکٹر بھیج دیا جائے گا مگر ایک سال گزرنے کے باوجود ہسپتال ابھی تک ڈاکٹر سے محروم ہے جس کی وجہ سے یہاں کے عوام کئی مشکلات سے دوچار ہیں۔ 

عوام نے یہ بھی شکایت کہ وادی کیلاش میں سیاح بہت زیادہ آتے ہیں مگر یہاں ناقص انتظامات کی وجہ سے وہ جگہہ جگہہ گند پھنکتے ہیں اور وادی کی ماحول آلودہ ہوجاتا ہے۔ صوبائی حکومت نے چترال کی خوبصورتی یعنی Beautification کا اعلان کیا تھا مگر ہمیں اس کا کوئی عملی مظاہرہ نظر نہیں آتا۔ اس گند کو ٹکانے لگانے کیلئے کوئی بندوبست نہیں ہے۔ جس پر تحصیل میونسپل آفیسر قادر نصیر نے کہا کہ اسکے لئے ٹریکٹر کا بندوبست کیا جائے گا۔ 

سابق ناظم بہرام شاہ کیلاش نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت میں ضلعی انتظامیہ کو گیارہ عدد فور ویل ٹریکٹر بلیڈ والا حوالہ کئے گئے تھے جس میں ایک بلیڈ والا ٹریکٹر وادی بمبوریت کو بھی دیا گیا تھا تاکہ بوقت ضرورت سڑک کھول سکے مگر وہ ٹریکٹر فورا غائب ہوگیا اور لگتا ہے کہ کسی افسر کے ذاتی کام میں مصروف ہے۔ڈپٹی کمشنر نوید احمد نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ جبکہ عوام نے اس کے بابت انکوائیری کا مطالبہ کیا کہ وہ ٹریکٹر کہاں غائب ہوگئے۔ 

مسلم کمونٹی سے مولانا عمر شیخ نے شکایت کی کہ وادی کیلاش میں منشیات کی کھلے عام فروخت اور استعمال جاری ہے اور پولیس خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتا ہے۔

چند مقامی لوگوں نے نام نہ بتانے کی شرط پر ہمارے نمائندے کو بتایا کہ پولیس خود منشیات کی اسمگلنگ میں مصروف ہے اور اکثر اوقات پولیس کی گاڑی میں بھی شراب وغیرہ وادی سے باہر لے جانے کی اطلاعات آتے رہتے ہیں مگر پولیس سے کون پوچھے۔ 

مقامی لوگوں نے یہ بھی شکایت کہ وادی میں ہوٹل نہایت محدود ہیں اور سیاح بہت زیادہ آتے ہیں لہذا ان کیلئے کوئی طریقہ کار وضع کیا جائے کہ محدود تعداد میں سیاح یہاں آیا کرے تاکہ وہ ہوٹلوں میں جگہہ نہ ہونے کی صورت میں فٹ پاتھ پر نہ سوئے۔ 

لوگوں نے یہ بھی شکایت کی کہ غیر مقامی لوگ یہاں آکر زمین خریدتے ہیں اور ہوٹل بناتے ہیں جو مقامی ثقافت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ جس پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اگر سب لوگوں کا یہی مطالبہ ہے تو ضلعی انتظامیہ دفعہ 144 لگاکر غیر مقامی لوگوں پر یہاں زمین خریدنے پر پابندی لگادے گا۔

خاتون کیلاش کونسلر نے شکایت کہ وادی کی سڑک اتنی حراب ہے کہ خواتین مریض اس پر سفر کے دوران مزید بیمار پڑتی ہیں اور ہسپتال پہنچنے سے پہلے دوسری دنیا میں چلی جاتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی شکایت کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے روڈ کولی اگر سڑک کی مرمت کرتا رہے تو اس کی حالت اتنی حراب نہیں ہوگی جبکہ روڈ کولی اکثر گھر بیٹھے تنخواہیں لے رہے ہیں یا افسران کے گھروں میں کام کرتے ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر شہزادہ حیدر الملک نے کہا کہ چترال میں 110 ڈاکٹروں کی آسامیاں حالی ہیں اور جونہی صوبائی حکومت ان ڈاکٹروں کو بھرتی کرکے ہمیں بھیج دے ان میں سے ایک ڈاکٹر ضرور بمبوریت میں تعینات کیا جائے گا۔کھلی کچہری سے اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی وزیر زادہ کیلاش نے بھی اظہار حیال کرتے ہوئے کہا کہ وادی کیلاش کی سڑکیں این ایچ اے کے حوالہ کئے گئے ہیں اور بہت جلد اس پر کام شروع کیا جائے گا۔اس کے علاوہ یہاں زنانہ ہاسٹل میں گرلز ڈگری کالج تعمیر کیا جائے گا۔

کھلی کچہر ی میں اسسٹنٹ کمشنر عالمگیر خان، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے علاوہ ذیلی اداروں کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر نے عوام کے مسائل جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی اور تمام محکموں کے سربراہان پر زور دیا کہ وہ عوام کو سہولیات فراہم کرنے میں کردار ادا کرے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں