اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

25 ستمبر، 2019

یاک پولو سیاحوں کو وادی بروغل کھنیچ کر لاتا ہے، سطح سمندر سے 13 ہزار فٹ بلندی پر واقع بروغل کے میدان میں یاک پولو حقیقی طور پر سیاحوں کے لئے ایک دلچسپ کھیل ہے

 

یاک پولو سیاحوں کو وادی بروغل کھنیچ کر لاتا ہے، سطح سمندر سے 13 ہزار فٹ بلندی پر واقع بروغل کے میدان میں یاک پولو حقیقی طور پر سیاحوں کے لئے ایک دلچسپ کھیل ہے




چترال(گل حماد فاروقی)سطح سمندر سے تیرہ ہزار فٹ کے بلندی پر واقع وادی بروغل میں یاک پولو کا میچ نہایت دلچسپ رہا۔ اس میچ کو دیکھنے کیلئے دور و دراز سے سیاح اس وادی کا رح کرتے ہیں۔ یاک کو مقامی زبان میں خوش گاؤ بھی کہا جاتا ہے۔ یاک ایک جنگلی بیل کی طرح جانور ہوتا ہے مگر اس کی دم اور جسم پر لمبے لمبے بال ہونے کی وجہ سے اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے۔ 

یاک کے ناک میں سوراح کرکے اس میں نکیل ڈالا جاتا ہے جس میں رسی ڈا ل کر اسے قابو کیا جاتا ہے۔ یاک پولو اور گھوڑا پولو فرق صرف اتنا ہے کہ گھوڑا تیز دوڑتا ہے مگر یاک تیز نہیں دوڑ سکتا۔

ہر ٹیم می چھ چھ کھلاڑی ہوتے ہیں اور بال مرکز میں پھینکا جاتا ہے۔ اس کے بعد ہر کھلاڑی کوشش کرتا ہے کہ اسے ہاکی نما لکڑی سے مار کر آگے بڑھائے اور جہاں دو ستون کھڑے کئے جاتے ہیں اس کے درمیا ن میں سے گزار کر گول کیا جاتا ہے۔ اور جو کھلاڑی گول کرنے میں کامیاب ہوتا ہے وہ بال کو ہاتھ میں پکڑ کر تیزی سے یاک کو دوڑاتا ہے اور مرکز میں پہنچ کر بال پھینکتا ہے اور اسے ہاکی نما لکڑی سے مارتا ہے جسے اس کے ٹیم کے دیگر کھلاری آگے بڑھاتے ہوئے دوسرا گول کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم اس دوران محالف ٹیم کے کھلاڑی بھر پور کوشش کرتے ہیں کہ اس بال کو لکڑی سے مار کر پیچھے کی طرف دھکیلے اور اپنے ٹیم کے کھلاڑیوں کو پھینک کر محالف سمت میں گول کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ 

اس دوران ایک کھلاڑی کو بال پیشانی میں لگ کر کافی زحمی بھی ہوا اور اس کے پیشانی پر کئی ٹانکے لگ گئے۔ 

یاک پولو میں دونوں ٹیمیں مقامی بروغل کے تھے تاہم دو محتلف دیہات سے تعلق رکھنے والے ان کھلاڑیوں نے تماشاییوں کو خوب محظوظ کیا۔ پچیس منٹ کے بعد ہاف ٹایم ہوتا ہے اور کھلاڑی تازہ دم ہوکر دوبارہ کھیل کے میدان میں اترتے ہیں۔

ہاف ٹائم کے بعد پھر نہایت دلچسپ مقابلہ شروع ہوا اور آحر کر اشکر واز کا ٹیم فاتح قرار پایا جس نے چکار کے ٹیم کو شکست دی۔ 

ڈپٹی کمشنر شاہ سعود اور دیگر مہمانوں نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے تاہم کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ تماشائیوں اور سیاحوں نے بھی شکایت کی کہ پچھلے سالو ں میں بروغل کا تہوار ایک قدرتی میدان میں کھیلاجاتا تھا جہاں گھاس اگ چکے تھے اور کھیل کے دوران مٹی اور گرد و غبار بھی نہیں تھا ساتھ ہی خواتین اور تماشائیوں کیلئے مناسب بیٹھنے کی جگہہ بھی موجود تھی مگر امسال اس کھیل کے میدان پر تقریباً چار کروڑ روپے لگائے گئے اور میدان بھی ناقص ہے۔ جہاں اتنی مٹی اور گرد و غبار اٹھتی ہے کہ تماشائی وہاں بیٹھ نہیں سکتے بلکہ کئی کھلاڑیوں نے بھی شکایت کی کہ ان کو ٹی بی کی بیماری میں مبتلا ہونے کا حطرہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس بابت تحقیقات کی جائے او ر اس میدان میں گھاس لگا کر مٹی اور گرد و غبار سے لوگوں کو بچائے اور خواتین کی بیٹھنے کی لئے بھی مناسب بندوبست کی جائے۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں