اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

26 ستمبر، 2019

 

چترال کا خوبصورت گاؤں چمرکن سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ گھنے جنگلات اور خوبصورت نظارے دل بہلادیتا ہے۔






چترال(گل حماد فاروقی) چترال شہر میں داحل ہوتے ہی ایک لمبا موڑ ہے اور سڑک کے دونوں جانب آنار کے باغات نظر آتے ہیں۔ یہ ہے چترال کا گاؤں چمرکن۔ اس گاؤں کے اوپر جغور گول کے نہر سے پانی کی ندی لائی گئی ہے جو بکر آباد سے گزرتے ہوئے پہاڑ کے دامن میں سے گزرتی ہے۔ یہ نالہ کافی اونچائی پر ہے اور یہاں سے گزرتے ہوئے پورے چمرکن گاؤں کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ اس نالے کی اپنی ایک خوبصورتی ہے ۔ نیچے صاف پانی بہتا ہے اور دونوں طرف محتلف پھلوں کے درخت کھڑے ہیں۔

ان دنوں مکئی کا فصل خوب اگ چکا ہے جو اس علاقے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے۔ مکئی کی فصل کی وجہ سے پورے علاقہ اوپر سے یوں نظر آتا ہے جیسے کسی نے یہاں سبز قالین بھچایا ہو۔

چمرکن گاؤں میں بکر آباد کے پہاڑی کے دامن میں کھڑے ہوکر یہاں کا مشہور موڑ بہت اچھا لگتا ہے۔ گاڑیاں دور سے چڑھائی پر آتی ہیں اور لمبے موڑ سے گزر کر دوبارہ اسی سمت میں سے گزرتے ہیں اوپر سے یوں لگتا ہے کہ کوئی کھلونا ریل گاڑی چل رہا ہے۔

اسی جگہہ سے دریائے چترال کا بھی نظارہ کیا جاسکتا ہے اور چمرکن کے پہاڑوں کے چوٹیوں پر پڑی ہوئی سفید برف سیاحو ں کو اپنی طرف کھینچ لاتی ہے۔ چمرکن گاؤں میٹھے انار کیلئے مشہور ہے اور ان دنوں انار کے باغات بھرے ہوئے ہیں جو کہ انار کا پھل درخت میں بہت خوبصورت لگتی ہے۔ چمرکن کے اوپر بکر آباد کے دامن میں ایک بڑی میدان ہے جو بنجر پڑی ہے مقامی لوگ صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر اس جگہہ سیاحوں کیلئے پکنک سپاٹ بن جائے تو یہاں سیاح آکر چند لمحوں کیلئے محظوظ ہوں گے جس سے اس علاقے کے معیشت پر بھی مثبت اثرات پڑیں گے۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں