اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

25 ستمبر، 2019

تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال بونی میں اپنڈکس کا مریض چترال پہنچ کر معجزاتی طور پر موت سے بچ گیا۔ رات کو کوئی ڈاکٹر نہیں ہوتا

 

تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال بونی میں اپنڈکس کا مریض چترال پہنچ کر معجزاتی طور پر موت سے بچ گیا۔ رات کو کوئی ڈاکٹر نہیں ہوتا


چترال(گل حماد فاروقی) تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں رات کو ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو نہایت مشکلات کا سامنا ہے۔ ہسپتال کے سامنے ایک نوٹس بھی لگا ہے جس پر لکھا ہے کہ تمام مریضوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے رات آٹھ بجے سے صبح آٹھ بجے تک کوئی ڈاکٹر موجود نہیں ہوگا اور اتوار کے دن بھی دن کے وقت بھی ڈاکٹر نہیں ہوگا۔

بونی سے تعلق رکھنے والے احمد حسین نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ اس کا بیٹا عماد حسین جو کلاش ششم کا طالب علم ہے اس کو اچانک پیٹ میں درد ہوا۔ بچے کو کو فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال بونی لے جایا گیا اور اسے داحل کیا۔ اس کا کہنا ہے بچے کو شدید درد ہورہی تھی مگر ساری رات کوئی ڈاکٹر اسے دیکھنے نہیں آیا۔ 

مجبورا! بچے کو اٹھا کر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال لایا جہاں پہنچتے ہی ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کو اپنڈکس ہے اور شام کو ہی ایمرجنسی میں اس کا آپریشن ہوا۔ 

عماد حسین نے بتایا کہ ڈاکٹر نے اسے بتایا کہ اگر یہ ایک گھنٹہ بھی لیٹ ہوتا تو اس کا اپنڈکس پھٹ جاتا اور اس کی جان بھی جاسکتی تھی۔

احمد حسین نے کہا کہ یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ ایک طرف تبدیلی سرکار صحت کا ایمرجنسی کا دعوے کررہے ہیں اور دوسری طرف بونی کی تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں صرف تین ڈاکٹرز ہیں جو رات کے وقت پورے ہسپتال میں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں ہوتا۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر میں اپنے بچے کو چترال ہسپتال نہ لاتا تو اس کی جان بھی جاسکتی تھی۔ 

انہوں نے صوبائی حکومت اور تبدیلی سرکار سے مطالبہ کیا کہ بونی کے اتنے بڑے ہسپتال جو اب ضلع بننے کے بعد یہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹز ہستپال ہونا چاہئے مگر اس میں گیارہ کی بجائے صرف تین ڈاکٹر کام کرتے ہیں اور ابھی تک کوئی لیڈی ڈاکٹر نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ مجبوراً یہاں ایک غیر سرکاری ہسپتال جاکر علاج کراتے ہیں اور وہاں جانا ان کی مجبوری بنتا ہے جہاں بہت مہنگا علاج ہے۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں