اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

25 ستمبر، 2019

بز کشی وادی بروغل کا روایتی کھیل دیکھنے کیلئے کافی تعداد میں سیاحوں نے وادی کا رح کیا۔

 

بز کشی وادی بروغل کا روایتی کھیل دیکھنے کیلئے کافی تعداد میں سیاحوں نے وادی کا رح کیا۔


چترال(گل حماد فاروقی)بزکشی کا کھیل اگرچہ افغانستان کے علاقے نورستان کا کھیل ہے اور وادی کیلاش کے شیخانندہ کے مسلم کمیونٹی زیادہ تر اسے کھیلتے ہیں مگر اب یہ کھیل وادی کیلاش کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی کھیلا جاتا ہے۔ ویسے بروغل بھی افغانستا ن کے علاقے واخان کے سرحد پر واقع ہے اور افغانستان کے لوگوں کا پسندیدہ کھیل بزکشی ہے۔ 

وادی بروغل میں بھی بزکشی کا نہایت دلچسپ کھیل ہوا۔ بزکشی میں ایک بکرا ذبح کرکے اسے کھیل کے میدان میں رکھا جاتا ہے جس پر گھوڑوں پر سوار کھلاڑی جپٹ پڑتے ہیں اور اسے اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو کھلاڑی اسے اٹھانے میں کامیاب ہوا وہ بکرے کو اٹھاکر میدان کے دوسرے سرے تک دوڑ لگا تا ہے اور واپس اسی جگہہ آتا ہے جہاں سے بکرا اٹھایا تھا مگر اس دوران دوسرے کھلاڑی اس سے بکرا چھیننے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر دوسرا کھلاڑی اپنے مشن میں کامیاب ہوا تو وہ بکرے کو لیکر میدان کے دوسرے تک جاتا ہے اور واپس اسی جگہہ آتا ہے۔

بزکشی میں بروغل کے دریا کے آر پار دو دیہات کے ٹیموں نے حصہ لیا جس میں شیر خان نے شیر اعظم کو شکست دیکر ٹرافی اپنے نام کردی۔ تاہم میدان میں مٹی اور گرد و غبار نے اس کا مزہ حراب کیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہم بروغل کا تہوار ایک قدرتی میدا ن میں کھیلتے تھے جہاں قدرتی طور رپر گھاس وپس بھی اگا تھا اور وہاں مٹی، گرد و غبار نہیں تھا اس شحص کو اگر ایک کروڑ روپے دیتے تو وہ اپنا زمین دینے کو تیار تھا مگر اب اس میدان پر چار کروڑ روپے سے زیادہ لاگت آیا مگر یہ لوگوں کو TB کی بیماری میں مبتلا کرنے کا باعث بنتا ہے۔ 

آحر میں کامیاب کھلاڑیوں میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں