اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

8 اکتوبر، 2019

چترال کے یارخون وادی کے گاؤں گازین میں 306کلوواٹ مائیکروپاور پروجیکٹ مکمل، کامیاب ٹیسٹنگ، 335گھروں کو بجلی فراہم ہوگی

 

چترال کے یارخون وادی کے  گاؤں گازین میں 306کلوواٹ مائیکروپاور پروجیکٹ مکمل،  کامیاب ٹیسٹنگ، 335گھروں کو بجلی فراہم  ہوگی



اسلام آباد، 8 اکتوبر، 2019۔  خیبرپختونخوا کے ضلع چترال کے گاؤں گازین  میں 306 کلو واٹ کے مائیکرو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ (ایم ایچ پی) کا کامیابی سے نفاذ کیا گیا۔ اس تقریب کے موقع پر پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف)، مقامی آبادی اور اسکول کے طالب علموں نے چینی انجینئرز کے ہمراہ چین کا یوم آزادی منایا۔  اس موقع پر تقریب میں چینی ثقافت اور تاریخی ورثے کا جشن منایا گیا اور پاکستان کے دور دراز علاقوں میں ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی کامیابی سے تکمیل کے لئے بے لوث انداز سے کام کرنے والے سینکڑوں چینی انجینئرز کی کاوشوں کو سراہا گیا۔ 

اس موقع پر پروجیکٹ منیجر غازی اور گازین گاؤں کے سابق ناظم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، "چین کے ساتھ ہماری دوستی اور تعاون مثالی رہا ہے۔ چین نے ہر طرح کے مواقع پر پاکستان کی مدد کی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید استحکام آئے گا۔ ہم اپنے چینی دوستوں کے لئے چین کے یوم آزادی کے موقع پر نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔" 



اس موقع پر چینی انجینئرز کی ٹیم میں شامل ایلن، لوئی اور چن کے ہمراہ پی پی اے ایف کے حکام اور اے کے آر ایس پی کے عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔  تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے چینی انجینئر ایلن نے کمیونٹی اسکولوں کے طالب علموں سے اظہار خیال کیا جس کے دوران مقامی آبادی نے بارہا اپنے بھرپور نعروں میں چین سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ 

چینی انجینئرز اپنے یوم آزادی کے موقع پر پرجوش نظر آئے اور انہوں نے دور دراز علاقے میں ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی کامیابی سے تکمیل پر پی پی اے ایف، آغا خان رورل سپورٹ پروگرام اور مقامی آبادی کے عزم کو سراہا۔  اس پروجیکٹ کے لئے جرمن ترقیاتی بینک کے ایف ڈبلیو (KfW) نے وسائل فراہم کئے جس پر پی پی اے ایف نے کام کیا۔ اس پروجیکٹ کے ذریعے خیبرپختونخوا میں اپر چترال کی یارخون وادی کے گاؤں گازین کے 335 گھرانوں کی 3 ہزار سے زائدافراد کو بجلی فراہم ہوگی۔ ان مقامات پر چینی انجینئرز مائیکرو ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کی ذمہ داری تفویض کررہے ہیں۔ 

اس کے علاوہ دوسرے 200کلوواٹ کے مائیکرو ہائیڈروپاور پروجیکٹس کے ذریعے اپر دیر کے 700 گھرانے اور چترال کے 200 گھرانے مستفید ہوں گے۔ پی پی اے ایف دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں صاف، ماحول دوست اور توانائی کے پائیدار ذرائع کے ذریعے بجلی کی فراہمی میں صف اول کا کردار ادا کرنے والا ادارہ ہے۔ اس ضمن میں اسکی قابل تجدید توائی کی ٹیم کی جانب سے خیبرپختونخوا کے ضلع چترال اور اپر دیر میں چینی انجینئرز، پروجیکٹ کنسلٹنٹس اور شراکتی تنظیموں کے تعاون جبکہ جرمن ترقیاتی بینک کے ایف ڈبلیو (KfW) کی طرف سے وسائل کی فراہمی کے ساتھ چار مائیکرو ہائیڈرو پاور پروجیکٹس پر فائنل ٹیسٹنگ اور اسکی تفویض کا ابتدائی کام مکمل کیا جاچکا ہے۔ 

اس پروجیکٹ پر عمل درآمد کے لئے پی پی اے ایف کی جانب سے آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (اے کے آر ایس پی)، نیشنل رورل سپورٹ پروگرام (این آر ایس پی)، سرحد رورل سپورٹ پروگرام (ایس آر ایس پی)، کمیونٹی موٹیویشن اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزین (سی ایم ڈی او) اور سوشل ایکشن بیورو فار اسسٹنس ان ویلفیئر اینڈ آرگنائزیشنل نیٹ ورکنگ (سباوون) کے ساتھ اہم شراکتی اداروں کے ذریعے کام کیا جارہا ہے۔ 

اس پروجیکٹ میں فائنل ٹیسٹنگ اور اسکی ذمہ داری تفویض کرنے کے عمل میں بشمول پلانٹ آپریشن کم از کم 72 گھنٹے تک مختلف طرح کے لوڈ اور ڈسچارج، فل لوڈ ٹیسٹنگ اور دیگر تکنیکی ٹیسٹس شامل ہیں۔ ضلع چترل کے علاقے گولین میں مزید ایک مائیکرو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی تفویض کا عمل بھی جاری ہے۔ ٹیم کی جانب سے توقع ہے کہ مقامی آبادیوں کو چاروں مائیکرو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ تفویض کرنے کا عمل ایک مہینے میں مکمل ہوجائے گا۔ 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں