اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

21 اکتوبر، 2019

وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے چترال، گازین میں 306 کلو واٹ ہائیڈرو پاور پلانٹ کا افتتاح کردیا، 5 دیہات بجلی سے مستفید ہونگے

وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے چترال، گازین  میں 306 کلو واٹ ہائیڈرو پاور پلانٹ کا افتتاح کردیا، 5 دیہات بجلی سے مستفید ہونگے



پی پی اے ایف کے اشتراک سے خیبرپختونخوا میں 800 کلو واٹ کے چار ہائیڈرو پاور اسٹیشنز کی کامیابی سے تنصیب 

اسلام آباد (ٹائمزآف چترال نیوز) پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ نے آغا خان رورل سپورٹ پروگرام اور جرمن ترقیاتی بینک کے اشتراک سے سینکڑوں گھرانوں کو قابل تجدید توانائی کی فراہمی کے لئے کامیابی کے ساتھ چترال کے علاقے گازین میں 306 کلو واٹ ہائیڈرو پاور پلانٹ کی کامیابی سے تنصیب مکمل کرلی ہے۔ یہ پاور پلانٹ پانچ دیہات گازین، دبرگر، اناوچ، اسکمود اور کرکون دیہات کے 335 گھرانوں کو بجلی فراہم کرے گا۔ یہ پی پی اے ایف کے ان چار ہائیڈرو پاور اسٹیشنز میں سے ایک ہے جسے خیبرپختونخوا کے دور دراز علاقوں کی آبادی کے لئے حال ہی میں کامیابی سے نفاذ کیا گیا ہے۔ 

گازین میں اس نئے پاور پلانٹ کا افتتاح ہفتہ کو وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان نے جرمن ترقیاتی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر پاکستان والف گینگ مولرز اور پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ کے سی ای او قاضی عظمت عیسیٰ کے ہمراہ کیا۔ 

اس موقع پر وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان نے کہا، "پی پی اے ایف نے آج ایک شاندار کام سرانجام دیا ہے۔ اس ہائیڈرو پاور پلانٹ کی کامیابی سے مقامی سطح پر سینکڑوں افراد کی زندگیاں تبدیل ہوسکتی ہیں۔ پی پی اے ایف اور دیگر اداروں سے میری درخواست ہے کہ پاکستان کے ہر کونے میں لوگوں کو بااختیار بنانے کے لئے کام جاری رکھیں۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہیومن اسکلز ڈیولپمنٹ سینٹر قائم کرکے لوگوں کی پیشہ ورانہ مہارتیں بڑھانے پر توجہ دی جائے۔" 

جرمن ترقیاتی بینک KfWکے کنٹروی ہیڈ والف گانگ مولرز نے کہا، " KfWنے سہولیات سے محروم علاقوں میں رہنے والے افراد کی زندگیوں کو بہتر بنانے کا کام کرنے والے اداروں کو تعاون فراہم کیا ہے۔ اس یادگار پروجیکٹ کی تکمیل پر میں پی پی اے ایف کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ یہ اس خطے کے لئے خوشحالی کا آغاز ہوگا۔" 

پی پی اے ایف کے سی ای او قاضی عظمت عیسی نے اس پروجیکٹ کی تکمیل پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، "پی پی اے ایف نے 20 سال قبل اپنے سفر کا آغاز کیا اور مجھے اس بات پر فخر ہے کہ آج ہمارا عزم اپنے ہم وطنوں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لئے مزید مستحکم ہوگیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سے نہ صرف مقامی لوگوں کی زندگیوں میں معاشی طور پر نمایاں اثرات مرتب ہوں گے بلکہ خواتین کی بااختیاری، خواندگی، اپنے کام کی شروعات اور مہارت کے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔" 

اس پروجیکٹ کے لئے جرمن ترقیاتی بینک کے ایف ڈبلیو کی طرف سے وسائل فراہم کئے گئے جبکہ آغا خان رورل سپورٹ پروگرام اس پر عمل درآمد کرنے والا پارٹنر ہے۔ 

حالیہ سالوں کے دوران پاکستان کے شمالی اضلاع بالخصوص گلگت۔بلتستان اور خیبرپختونخوا میں چھوٹے ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کی تعداد کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ پی پی اے ایف کی جانب سے حال ہی میں چار ہائیڈرو پاور پلانٹس کی کامیابی سے تنصیب سے 800 کلو واٹ بجلی پیدا ہوگی جس سے صوبے کے چھ اضلاع میں 1500 گھرانوں کو بجلی حاصل ہوگی اور 20 ہزار سے زائد افراد 24 گھنٹے مسلسل ماحول دوست بجلی سے مستفید ہوں گے۔ 

پی پی اے ایف کے قابل تجدید توانائی کے پروجیکٹ کے ذریعے خیبرپختونخوا کے دیہی علاقوں بشمول چترال، بونیر، اپر دیر، صوابی، لکی مروت اور کرک میں 68 شمسی توانائی اور 66 ہائیڈرو پاور پروجیکٹس مکمل ہوچکے ہیں۔ ان اضلاع کو انسانی ترقیاتی انڈیکس، غربت کی درجہ بندی اور توانائی کے مواقع اور قابل تجدید توانائی کے ذریعے کی بنیاد پر منتخب کیا گیا ہے۔ 

اس ضمن میں استور کے تین دیہات توری استور، استور اور توہتناس میں 136 کلو واٹ کے پاور پلانٹ سے 79 گھرانے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح بشو گاؤں میں ایس آر ایس پی کی جانب سے 200 کلو واٹ کے پلانٹ پر کام کیا جارہا ہے اور اسکے نتیجے میں 555 گھرانے روشن ہوں گی جس کے لئے جرمن ترقیاتی بینک کے ایف ڈبلیو اور پی پی اے ایف کی جانب سے مالی وسائل فراہم کئے جارہے ہیں۔ اس پروجیکٹ میں سات دیہات بشو بالا، بشو پائین، جکانڈ، تھونی، پنگاز، چمکوٹ، سیاسین اور اسکے ارد گرد کے ملحقہ علاقے شامل ہیں۔ اس پروجیکٹ سے پانچ پرائمری اسکولوں کو بھی بجلی حاصل ہوگی۔ اسی طرح جرمن ترقیاتی بینک اور پی پی اے ایف کے مالی وسائل سے پرسات گاؤں میں ایس آر ایس پی کی جانب سے 125 کلو واٹ بجلی کے منصوبے پر کام کیا جارہا ہے جس سے 227 گھرانوں کو بجلی حاصل ہوگی۔ اس پروجیکٹ سے چار دیہات پرسات، فورغال، چائنور اور پورتگول اور اسکے ملحقہ علاقے مستفید ہوں گے۔ 

ان ہائیڈرو پاور پلانٹس سے ملک کے دور دراز اور بنیادی سہولیات سے محروم علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو اپنی زندگیوں میں تبدیلی لانے میں مدد ملے گی۔ پی پی اے ایف نے ہمیشہ لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لئے پرعزم انداز سے کام کیا ہے جس کا اعتراف قومی و بین الاقوامی سطح پر ایوارڈز کیا گیا ہے۔ پی پی اے ایف نے اپنے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں پر تین بین الاقوامی ایوارڈز انرجی انسٹی ایوارڈ برائے مائیکرو ہائیڈرو پاور پروجیکٹس(2016)، انرجی انسٹی ٹیوٹ برائے شمسی توانائی کے چھوٹے پروجیکٹس (2018) اور الائنس فار رورل الیکٹریفکیشن (اے آر ای) ایوارڈ 2018 حاصل کرچکا ہے۔ 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں