اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

10 اکتوبر، 2019

چترال: آیون میں گیس سلنڈر دھماکے کے نتیجے میں جھلسنے والوں میں سے ایک بچہ اور ایک خاتون بھی چل بسی۔ جان بحق افراد کی تعداد 5 ہوگئی

 

چترال:  آیون میں گیس سلنڈر  دھماکے کے نتیجے میں جھلسنے والوں میں سے ایک بچہ اور ایک خاتون بھی چل بسی۔ جان بحق افراد کی تعداد 5 ہوگئی


چترال: مرنے والو ں کی تعداد پانچ ہوگئی۔  جبکہ چار  زحمی ابھی بھی تشویش ناک حالت میں پڑے ہیں 

چترال(گل حماد فاروقی) آیون گاؤں میں گیس سلنڈر کی دھماکے کی وجہ سے جو آگ لگی تھی اس میں تین بچوں، تین خواتین سمیت آٹھ افراد بری طرح جھلس چکے تھے۔ ان زحمیوں کو برن اینڈ پلاسٹک سرجری سنٹر حیات آباد پشاور لے گئے تھے  جہاں وہ تشویش ناک حالت میں زیر علاج تھے۔ 

ان زحمیوں میں تین پہلے وفات پاچکے تھے جبکہ منظور کا بیٹا ایان  اور اس کی بیوی گلشن بی بی بھی جاں بحق ہوئی اور ان کی لاشوں کیلئے سابق ناظم فضل رحمان اور دیگر لوگ چندہ اکھٹا کرکے چترال لارہے ہیں۔   جبکہ تانیہ اور کہکشان بی بی اور ایک نومولود بچہ پہلے ہی جاں بحق ہوچکے ہیں۔ اسی طرح مرنے والوں کی تعداد پانچ ہوگئی۔

واضح رہے کہ چترال کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں برن، ٹراما پلاسٹک سرجری سنٹر کب کا بن چکا ہے مگر ابھی تک اس برن سنٹر میں عملہ نہیں ہے جس کی وجہ سے جلے ہوئے زحمیوں کا علاج یہاں نہیں ہوتا۔ 

سابق ناظم فضل الرحمان نے ہمارے نمائندے کو فون پر بتایاکہ اب بھی  تین زحمی تشویش ناک حالت میں پشاور کے ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور یہ لوگ نہایت غریب ہیں جو ایک وقت کھانے کیلئے ترستے ہیں۔ انہوں نے مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ ان بے بس زحمیوں کی علاج کیلئے دل کھول کر عطیات  دے تاکہ ان کی علاج ہوسکے۔ 

چترال کے سیاسی اور سماجی طبقہ فکر نے صوبائی حکومت سے پرزو ر مطالبہ کیا ہے کہ  وہ  فوری طور پر برن سنٹر چترال کیلئے عملہ بھیجے کیونکہ یہاں 92 آسامیاں حالی ہیں جن کی وجہ سے یہ جدید ترین طرز پر تعمیر ہونے والا  تمام مشنری سے لیس سنٹر بے کار پڑا ہے اور جلے ہوئے مریضوں کو یہاں داحل  کرنے کی بجائے پشاور ریفر کئے جاتے ہیں۔ اگر یہاں عملہ بھیج کر اس سنٹر کو کھول دیا جائے تو یہاں کے غریب لوگ پشاور تک پہنچنے کی وقت اور پیسے کی ضیاع سے بچ جائیں گے۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں