اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

1 اکتوبر، 2019

بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولوں کی اُستانیوں کی تنخواہیں بند کرنے کے خلاف احتجاج۔ صرف آٹھ ہزار روپے ماہوار تنخواہ میں چالیس سے ساٹھ بچوں کو پڑھانے والے اُستانیوں کی تنخواہیں 9 ماہ سے بند ہیں۔

 

بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولوں کی اُستانیوں کی تنخواہیں بند کرنے کے خلاف احتجاج۔ صرف آٹھ ہزار روپے ماہوار تنخواہ میں چالیس سے ساٹھ بچوں کو پڑھانے والے اُستانیوں کی تنخواہیں 9 ماہ سے بند ہیں۔






چترال(گل حماد فاروقی)بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکول کے 83استانیوں نے آج تنخواہوں ک بندش کے حلاف احتجاج کیا۔ اس موقع پر ان خواتین کے بچوں نے بنیرز اور پلے کارڈ اٹھائے تھے جن پر انصاف کی حصول کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس موقع پر پردوم جمال نے کہا کہ چترال میں 83 استانیاں ہیں جو کرائے کے مکانوں میں ان بچوں اور بچیوں کو پچھلے بیس سال سے پڑھاتی ہیں ان کو صرف آٹھ ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے مگر پچھلے نو ماہ ساے ہماری تنخواہیں بھی بند ہیں اور ہم در بدر کی ٹوکریں کھارہی ہیں۔ انہوں نے دل دہلانے والی انکشاف کیا کہ ان کو پہلے سکول کی عمارت کیلئے کرائے کی مد میں ایک ہزار روپے ملتی تھی اب وہ بند ہوچکا ہے اور یہ خواتین اپنی تنخواہ میں سے عمارت کا کرایہ بھی ادا کرتی ہیں۔ 

پردوم جمال جو بونی کروئی جونالی میں پرھاتی ہے اسے بہترین استانی کی ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ 

جمیلہ بی بی نے کہا کہ انہوں نے اپنی جوانی کی بیس سال ان بچوں کو پڑھانے پر صرف کی اب بڑھاپے کی عمر میں آکران کی تنخواہیں بند کرکے فارغ کررہے ہیں جو سراسر ناانصافی ہے۔ 

بے نظیر سلطان نے کہا کہ ہماری سکولوں کا رزلٹ بھی اچھا ہوتا ہے تو اکثر سرکاری سکولوں کے ٹیچرز ان کے ساتھ ضد کرکے تنگ کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ ان کے سکولوں کا رزلٹ کیوں اچھا اتا ہے حالانکہ سرکاری سکولوں کی ٹیچرز ہزاروں روپے تنخواہیں لیتی ہیں اور ہم صرف آٹھ ہزار روپے میں پورا مہینہ پڑھاتی ہیں۔ 

حلیمہ بی بی نے کہا کہ ہمارے بعض سکولوں میں چھت بھی نہیں ہے اور اکثر باد و باران اور برف باری یا بارش کی صورت میں وہ بچوں کو لیکر کسی حیمے میں پناہ لیتی ہیں یا کسی مکان کے کمرے میں لے جاتے ہیں اتنی مشکل حالات میں پڑھانے کے باوجود ان کوصرف 8000 روپے مہینے کی ملتی تھی اور وہ بھی پچھلے نو ماہ سے بند ہیں۔ ان استانیوں نے بتایا کہ ان کے بعض سکولوں میں چالیس بچے پڑھتے ہیں جبکہ بعض سکولوں میں 63تک بچے زیر تعلیم ہیں اور ان کی تنخواہیں بند ہونے کی صورت میں ان بچوں کا مستقبل بھی تاریک ہونے کا حطرہ ہے۔ چونکہ یہ سکول وفاقی حکومت کی تعاون سے چل رہی تھی تو انہوں نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے مطالبہ کیا کہ ان کی تنخواہیں جاری کی جائے اور ان کو مستقل بنیادوں پر ان ہی سکولوں میں بطور استانی کا حکم جاری کریں تاکہ ان کے زیر سایہ کئی بچے تعلیم سے محروم رہ نہ جائے۔ کیونکہ چترال رقبے کے لحاظ سے ایک بڑا ضلع ہے اور یہاں اکثر دور دراز تک سکول موجود نہیں ہیں تاہم یہ بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکول علم پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں