اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

31 اکتوبر، 2019

اسلام آباد میں تیسری بین الاقوامی 'علم و تحقیق، عمل سے بڑھ کر تبدیلی کی جانب' کانفرنس، ئی جہتوں میں پیش رفت اور لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی کا جائزہ

 

اسلام آباد میں تیسری بین الاقوامی 'علم و تحقیق، عمل سے بڑھ کر تبدیلی کی جانب'  کانفرنس، ئی جہتوں میں پیش رفت اور لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی کا جائزہ


کانفرنس میں ترقیاتی شعبے کی نئی جہتوں میں پیش رفت اور لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی کا جائزہ لیا گیا

اسلام آباد:  پاکستان پاورٹی ایلوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف) نے اسلام آباد میں 'علم و تحقیق، عمل سے بڑھ کر تبدیلی کی جانب' کے موضوع پر تیسری بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس کانفرنس میں علم کی نئی جہتوں میں پیش رفت پر توجہ دی گئی اور پی پی اے ایف کے امدادی کاموں سے غریبوں کی زندگیوں میں تبدیلی کا جائزہ لیا گیا۔ اس کانفرنس میں محققین، قومی و بین الاقوامی مقررین، حکومت پاکستان کے نمائندوں، ماہرین تعلیم، مالی وسائل فراہم کرنے والے ادارے، سول سوسائٹی، میڈیا، پی پی اے ایف کی شراکتی تنظیموں اور دیگر افراد نے شرکت کی۔ 

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "میں پی پی اے ایف کو تحقیق و سیکھنے سے متعلق تیسری بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد پر مبارک پیش کرتی ہوں، نیشنل پاورٹی گریجویشن اننی شیٹو(NPGI)کے ذریعے غربت کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ اس پروگرام کے ذریعے ہمارا عزم ہے کہ روزگار اور سماجی تحفظ کے ساتھ پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے مستفید افراد کو بااختیار اور خود کفیل بنایا جائے۔ حکومت معاشرتی اور معاشی مساوات کے لئے مسلسل کوشاں ہے اور اس کا عزم ہے کہ لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی کے عمل کو مزید آگے بڑھایا جائے۔ احساس پروگرام کے تحت ہمارا عزم ہے کہ پاکستان بھر کے لاکھوں افراد کو اثاثوں کی فراہمی کے ساتھ انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جائے۔ " 

پی پی اے ایف کے سی ای او قاضی عظمت عیسیٰ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "علم و تحقیق کے موضوع پر تیسری بین الاقوامی کانفرنس انتہائی غریب ترین افراد کی زندگیوں کو تبدیل کرنے سے متعلق ہمارے عزم کی توثیق ہے۔ اپنے پاورٹی گریجویشن اقدام کے ذریعے ہمارا عزم ہے کہ معاشی استحکام کے لئے گھرانوں کو مواقع اور تعاون فراہم کیا جائے۔" 

اس کانفرنس میں دیگر قابل ذکر مقررین میں انٹرنیشنل فنڈ برائے ایگریکلچر ڈیولپمنٹ کے کنٹری پروگرام منیجر ہوبرٹ بوائیرارڈ، یونیورسٹی کالج لندن کے اکنامکس کے پروفیسر ڈاکٹر عمران رسول سمیت اعجاز نبی، ریحان رافع جمیل، پاکستان میں اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے پناہ گزیں کی کنٹری نمائندہ روون مینک دیوالہ سمیت افراد شامل ہیں۔ 

پی پی اے ایف کے نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام کی پروگرام ڈائریکٹر اور گریجویشن گروپ کی سینئر گروپ ہیڈ سامعہ لیاقت علی خان نے تقریب کا آغاز کیا اور اس بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کے پیچھے ادارے کے تصور پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، "لوگوں کو غربت سے نکالنے اور ادارے کے قیام پر ہماری مسلسل توجہ ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ طویل المیعاد مسلسل کاوش سے لوگوں کی زندگیوں میں نمایاں انداز سے تبدیلی لائی جاسکتی ہے جس کے ہم ایک عرصے سے منتظر ہیں۔" 

اس دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا بنیادی ہدف مختلف پروجیکٹس کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا جائزہ لینے کے ساتھ پی پی اے ایف اور اسکی شراکتی تنظیموں کا وسیع پیمانے پر امدادی کاموں کا احاطہ کیا گیا جس سے شرکاء مختلف مسائل کے موازنے اور اس سے متعلق عالمی تناظر سمجھنے میں مدد ملی۔ اس عمل کا مقصد نہ صرف شرکاء کے علم میں اضافہ لانا تھا بلکہ پورے ترقیاتی شعبے کے ذریعے لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی لانے کے لئے سہولت کی فراہمی ہے۔ اس کانفرنس کا ایک اور اہم مقصد مختلف اداروں کے درمیان اشتراک مزید بڑھانے کے لئے مواقع فراہم کرنا تھا تاکہ قابل عمل اور جامع تحقیقی کام کو پھیلا کر مزید پائیدار پالیسیوں اور افعال کے ذریعے لوگوں کی زندگیوں پر بہتر اثرات مرتب کئے جائیں۔ 

اس کانفرنس کے پہلے روز پاورٹی گریجویشن پروگرام کے اثرات پر ڈاکٹر عمران رسول نے انتہائی غریب افراد کو اثاثے بمقابلہ نقد  کے طور پر پائیدار انداز سے انتخاب کی سہولت پر اہم تحقیقی نتائج پیش کئے۔ انہوں نے کہا، "منظم عدم مساوات اور بڑے پیمانے پر معاشی رجحانات غربت پر نہایت اثرانداز ہوتے ہیں۔ لوگوں کو غربت سے نکالنے اور انہیں خوشحالی کے راستے پر گامزن کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ انہیں مالی طور پر بااختیار بنایا جائے جس میں اثاثوں کی فراہمی ایک اہم طریقہ ہے۔" 

مقررین نے اس بات پر بھی اظہار خیال کیا کہ لوگوں کو غربت سے نکالنے کے طریقے اور پسماندہ طبقے کے گھرانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہونے سے مقامی مارکیٹوں کو منسلک کرکے دیہی علاقوں کی معاشی صورتحال میں بہتری آسکتی ہے۔ کانفرنس کے پہلے روز مقررین میں ماہرین تعلیم اور ترقیاتی شعبے کے ماہرین بشمول لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز  کی اکنامکس کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ہادیہ ماجد، ترقیاتی شعبے کے ماہر قائم شاہ، انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر فرخ اقبال، فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے چیف ٹیکنیکل ایڈوائزر/ پروجیکٹ منیجر مارسیل اسٹالن اور پاکستان کی پہلی مائیکروفنانس انویسٹمنٹ کمپنی کارانداز کے سی ای او یاسر اشفاق اور ڈائریکٹر ڈاکٹر مہرشاہ نے اظہار خیال کیا۔ 

یہ علم و تحقیق کے موضوع پر مسلسل تیسری بین الاقوامی کانفرنس ہے جس کا انعقاد پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف) کی جانب سے کیا گیا۔ یہ کانفرنس پی پی اے ایف کی طرف سے ترقیاتی شعبے اور تحقیق کے درمیان موجود خلا کو پْر کرکے اپنے طریقوں اور آئیڈیاز میں جدت اور پائیداری لانے کے دیرینہ عزم کا اظہار ہے۔ پروگرام میں مکمل اور جاری تحقیق کے نتائج سامنے لاکر پی پی اے ایف نے ملک کے اندر ترقیاتی کاموں کے شعبے میں نمایاں اور قابل ذکر انداز سے معلومات سامنے لایا ہے۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں