اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

4 اکتوبر، 2019

ایون مولدہ میں گیس سلنڈر پھٹنے کے باعث سات افراد زحمی ہوئے تھے جن میں ایک بچی جاں بحق ہوئی۔غریب حاندان کا مالی امداد کا اپیل

 

ایون مولدہ میں گیس سلنڈر پھٹنے کے باعث سات افراد زحمی ہوئے تھے جن میں ایک بچی جاں بحق ہوئی۔غریب حاندان کا مالی امداد کا اپیل


چترال (گل حماد فاروقی) یکم اکتوبر کو آیون کے مولدہ میں شاکر اللہ ولد شیر عالم کے گھر میں گیس سلنڈر پھٹنے سے آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے نتیجے میں تین بچوں اور تین خواتین سمیت آٹھ افراد بری جھلس چکے تھے۔ علاقے کے لوگوں نے ریسکیو 1122 کو اطلاع دی تھی جنہوں نے ان کو ایمبولنس کے ذریعے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال کے برن یونٹ لائے تھے مگر یہاں آگ سے جلنے والے مریضوں کی علاج معالجے کیلئے کوئی سہولت موجود نہیں ہے باوجود یکہ جلنے والے مریضوں کی علاج کیلئے غیر سرکاری ادارے کی مالی تعاون سے لاکھوں روپے کی لاگت سے عمارت بھی تیار ہوچکی ہے مگر اس میں عملہ نہیں ہے۔ 

ان جلنے والوں میں آٹھ افراد میں سے سات افراد کو پشاور برن یونٹ ریفر کئے تھے اور یہ سات زحمیوں کو برن اینڈ پلاسٹک سرجری سنٹر حیات آباد پشاور میں زیر علاج تھے ان میں سے آج شام کو ایک بچی تانیا جاں بحق ہوئی۔

پشاور سے ہمارے نمائندے کو فون پر باتیں کرتے ہوئے آیون کے سابق ناظم فضل الرحمان نے بتایا کہ یہ خاندان نہایت غریب، بے بس اور بے یارومددگار ہیں اور ہسپتال عملہ کے مطابق ان کی حالت بھی حطرناک بتائی جاتی ہے۔ فضل الرحمان نے بتایا کہ ان کی علاج معالجے کیلئے حطیر رقم کی ضرورت ہے ہسپتال سے جو کچھ مفت میں ملتا ہے اس کے علاوہ روزانہ دو لاکھ روپے کا خرچہ آتا ہے۔انہوں نے حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات سے اپیل کی ہے 

متاثرین میں مسمی شاکر اللہ ولد شیر عالم عمر 38 سال، منظور ولد شیر عالم عمر 27 سال، مسماۃ صفت بی بی زوجہ شاکر اللہ عمر تیس سال، گلشن بی بی زوجہ منظور عمر 23 سال، کہکشان بی بی دختر منظور عمر آٹھ سال، آیان علی ولد منظور عمر چھ سال، تانیہ بی بی دختر منظور عمر چھ سال جو کہ آج شام کو انتقال کرگئی۔

تانیہ کی جسم نوے فی صد جل چکا تھا اور وہ نہایت کسمپرسی کی حالت میں تھی۔ واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال میں بیرونی امداد سے برن ٹراما سنٹر کی عمارت تعمیر ہوچکا ہے لیکن اس کی عمارت ابھی تک حالی پڑی ہے اور اس مقصد کیلئے اسے استعمال نہیں کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ آگ سے جھلسنے والے تشویش ناک مریضوں کو بھی عام مریضوں کے ساتھ میڈیکل وارڈ میں داحل کئے جاتے ہیں۔ 

سابق ناظم فضل الرحمان اور مولاناغلام یوسف نے وفاقی اور صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات سے بھی اپیل کی ہے کہ گیس سلنڈر پھٹنے کے باعث جھلسنے والا یہ حاندان نہایت غریب ہے جو کسی کے کرائے کے مکان میں رہتے ہیں اور ان کو پشاور کے ہسپتال لے جاکر وہاں زیر علاج ہیں۔اور یہ لوگ اتنے غریب ہیں کہ دوائی تک نہیں خرید سکتے۔ علاقے کے لوگ ان کے ساتھ اپنی بساط کے مطابق مد د کرتے ہیں مگر وہ پورا نہیں ہوتا۔ 

افسوس ناک بات یہ ہے کہ ننھی تانیہ ہسپتال میں مر گئی مگر اس کی پور ی حاندان پشاور کے ہسپتال میں زیر علاج ہے اور اسے اب علاقے کے لوگ دفنائیں گے۔ان متاثرہ حاندان کے ساتھ مدد کیلئے سابق ناظم فضل الرحمان سے فون نمبر 03024175975 اور مولانا غلام یوسف کے ساتھ 03449709511پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں