اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

4 اکتوبر، 2019

چترال: تین دنوں میں دو لڑکیوں نے خودکشی کرلی، چترال میں یہ رجحان رکنے کا نام نہیں لے رہا

 

چترال: تین دنوں میں دو لڑکیوں نے خودکشی کرلی، چترال میں یہ رجحان رکنے کا نام نہیں لے رہا

• رواں ہفتے خودکشیوں کا یہ چھوتا واقعہ ہے۔ 

• ایون میں دو لڑکیوں نے پچھلے دنوں خودکشی کی تھی۔

• جونالی کوچ میں ڈبل ایم اے پاس لڑکی نے دریائے چترال میں چھلانگ لگاکر خودکشی کرلی

• مولکہو میں ایک لڑکی نے بارہ بور بندوق سے خود پر فائرنگ کرکے زندگی کا حاتمہ کرلی۔

• چترال کے خواتین میں خودکشیوں کی بڑھتی ہوئی رحجان پر عوام تشویش میں مبتلا

چترال (گل حماد فاروقی4 اکتوبر 2019) چترال کے بالائی علاقے ملکہو میں جماعت نہم کی ایک طالبہ نے خود پر بارہ بور بندوق سے گولی چلاکر زندگی کا حاتمہ کرلیا۔ ایس ایچ او تھانہ ملکہو سب انسپکٹر گل محمد کے مطابق مسماۃ فصیحہ بی بی دختر رستم خان سکنہ گوہ کیر جو اپنی بہن کے گھر موردیر گاؤ ں گئی تھی اور وہاں نامعلوم وجوہات کے بناء پر بارہ بور چھرے دار بندوق سے خود پر گولی چلا کر خودکشی کرلی۔ ملکہو پولیس نے اس سلسلے میں تفتیش کررہی ہے۔ فصیحہ کی لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال بونی لائی گئی تھی جسے بعد میں ورثاء کے حوالہ کرکے سپرد خاک کیا گیا۔



قبل ازیں یکم اکتوبر کو جونالی کوچ (بونی کے قریب) ایک جواں سال لڑکی نے دریائے چترال میں چھلانگ لگاکر خودکشی کرلی۔ ایس ایچ او تھانہ بونی ظہورالدین کے مطابق رشیدہ بی بی دختر سید بادشاہ نے دریائے چترال میں چھلانگ لگاکر زندگی کا حاتمہ کرلی۔ اس کی لاش دریا سے برآمد کرکے بونی ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کے بعد سپرد خاک کی گئی۔ اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس نے دو مرتبہ ماسٹر ڈگری لی تھی مگر کچھ دماغی بیماری میں مبتلا تھی۔

آیون گاؤ ں میں 15 ستمبر کو ایک جواں سال لڑکی جو آٹھویں جماعت کی طالبہ تھی اس نے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کرلی تھی۔

ایس ایچ او تھانہ آیون سب انسپکٹر صاحب الرحمان کے مطابق مسماۃ نرگس بی بی دختر صفدر علی شاہ جو اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی اس کا والد محنت مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب گیا ہوا ہے۔ اس نے معمولی تکرار پر گلے میں پھندا ڈال کر خود کشی کرلی۔

پولیس کے مطابق نرگس نے اپنے بھائی کے ساتھ موبائل فون پر تکرار کیا جو کہ بھائی نے اسے موبائل فون نہیں دیا اور والدہ نے بھی اسے ڈانٹا تھا کہ تم لڑکی ہو موبائیل فون کی تمھیں اتنی ضرورت نہیں ہے۔ جب اس کی ماں اپنے کسی رشتہ دار کے گھر مبارک باد کیلئے گئی تو نرگس نے موقع پاکر گلے میں پھندا ڈالا اور خود کشی کرلی۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال میں اس کی پوسٹ مارٹم کے بعد اسے سپرد خاک کی گئی۔ 

اس کی موت کی وجہ والدین کی بہت زیادہ لاڈ پیار بنی جو والدہ کی معمولی بات بھی برداشت نہ کرسکی اور اسنے خود کشی کرلی۔

18 ستمبر کو ایک اور جواں سال لڑکی کی اچانک موت یا خودکشی پولیس کیلئے معمہ بن گئی۔ پولیس کے مطابق فرھین بی بی دختر انور خان ساکن مزید خیل ضلع کوہاٹ جو ان دنوں کورو آیون میں مقیم ہے اس کی بیٹی کی اچانک موت اس کی والدہ طبعی موت قرا ر دے رہی ہے مگر پولیس نے مزید تفتیش کیلئے اس کی پوسٹ مارٹم پر زو ر دیا۔

اس کی والدہ کا کہنا ہے کہ فرھین بی بی نے کپڑے استری کی اور صحن میں آنے کے بعد بے ہوش ہوگئی۔جسے فوری طور پر ہسپتال لے جانے کی کوشش کی گئی مگر اس دوران اس کی موت واقع ہوئی۔پندرہ سالہ فرھین بی بی کے موت پر علاقے کے لوگ غم سے نڈھال تھے اور حیران و پریشان بھی کہ اچانک وہ کیسے مری۔

تاہم ذرایع نے بتایا کہ فرھین کے گلے اور چہرے پر زحم کے نشانات بھی دکھائی دے رہے تھے مگر یہ معلوم نہیں کہ یہ نشانات اس پر کی جانے والی تشدد کے وجہ سے ہیں یا کوئی اور وجہ۔

اس کا والد بھی محنت مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب میں ہے اور اس کی غیر موجودگی میں یہ واقعہ پیش آیا۔ آیون پولیس اس سلسلے میں مزید تفتیش کررہی ہے۔

چترال کے خواتین حاص کر جواں سال لڑکیوں میں بڑھتی ہوئی خودکشیوں کی رحجان سے عوام میں کافی تشویش پائی جاتی ہے مگر حکومتی سطح پر ابھی تک اس کی روک تھام کیلئے کوئی حاص قدم نہیں اٹھایا گیا۔ 

تاہم پچھلے سال ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت نے معروف ماہر دماغی امراد ڈاکٹر خالد مفتی کو فری میڈیکل کیمپ کیلئے چترال بلایا تھا جنہو ں نے ٹاؤن ہال چترال میں صرف ایک دن مریضوں کا معائنہ کیا مگر زیادہ تر لوگوں کو اس کی آمد کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھی اور لوگوں کو پتہ نہ ہونے کی وجہ سے دور دراز کے مریض ان کی خدمات سے محروم رہ گئے۔

واضح رہے کہ چترال کے کسی بھی ہسپتال میں ابھی تک کوئی سائکاٹرسٹ یعنی ماہر دماغی امراض کا کوئی ڈاکٹر نہیں ہے اور نہ ہی ایسے مایوس خواتین کیلئے کوئی پناہ گاہ موجود ہے جہاں وہ پناہ لے کر خودکشی سے بچ سکے۔خواتین میں بڑھتی ہوئی خودکشیوں کی رحجان پر تفصیل سے تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ اس کی روک تھام ہوسکے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں