اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

27 اکتوبر، 2019

چترال کے مستری حانوں میں اکثر مجبور بچے مستری کا کام سیکھتے ہیں۔ ورکشاپوں میں مستریوں کے پاس کوئی حفاظتی سامان نہیں۔ چائلڈ پروٹیکشن حاموش۔مستری خانوں کی حالت زار نہایت ناگفتہ بہہ ہے۔

چترال کے مستری حانوں میں اکثر مجبور بچے مستری کا کام سیکھتے ہیں۔ ورکشاپوں میں مستریوں کے پاس کوئی حفاظتی سامان نہیں۔ چائلڈ پروٹیکشن حاموش۔مستری خانوں کی حالت زار نہایت ناگفتہ بہہ ہے۔



چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے مستری خانوں کی حالت زار نہایت ناگفتہ بہہ ہے۔ ان مستری حانوں میں کام کرنے والے موٹر میکنیک کے پاس نہ تو حفاظتی سامان ہیں اور نہ ا ن کی تحفظ کیلئے کسی سرکاری یا غیر سرکاری اداروں کی طرف سے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ 



محمد اسحاق موٹر میکینک ایسوسی ایشن کا صدر ہے اور وہ اپنی تئیں ان کی حفاظت کیلئے تگ و دو کرتا ہے مگر ابھی تک اسے حاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئے ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان مستری خانوں میں کام کرنے والے مستری خود محفوظ نہیں ہیں۔ یہ لوگ سارا دن پٹرول، ڈیزل اور کیمکل سے کھیلتے ہیں اور گاڑی کے نیچے جاکر ان کی مرمت کرواتے ہیں۔ مگر نہ تو ان کے پاس ہلمٹ ہے کہ ان کی سر پر چوٹ لگنے سے ان کو بچائے نہ دستانے اور نہ محفوظ بوٹ۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے ایک مستری اس وقت جاں بحق ہوا جب وہ ایک بیٹری کو مرمت کررہا تھا کہ وہ اچانک دھماکے سے پھٹ گئی۔

انہوں نے کہا کہ یہاں نوجوان طبقہ اکثر منشیات کی لعنت میں مبتلا ہوتے ہیں ان کو منشیات سے بچانے کیلئے میں نے ٹورنمنٹ کا اہتمام کیا جس میں 45 محتلف ٹیموں نے حصہ لیا۔ مگر اس کے ساتھ کسی نے کوئی تعاون نہیں کی۔

ان مستری حانوں میں کم عمر بچے بھی کام کرتے نظر آئے۔ ہمارے نمائندے نے ان بچوں سے بات کرنے کی کوشش کی جن میں سے اکثر بات کرنے سے کتراتے تھے۔ تاہم چند بچوں نے بتایا کہ وہ پچھلے پانچ سالوں سے مستری کا کام کرتے ہیں جب ان سے پوچھا گیا کہ جب آ پ کے ہم عمر بچے صبح پینٹ شرٹ پہن کر ٹائی باند ھ کر سکول جاتے ہیں اور آپ گندے کپڑے پہن کر مستری خانہ جاتے ہو تو کیسے محسوس ہوتا ہے۔ تو ان کا کہنا ہے ہمیں دکھ ہوتا ہے مگر کیا کرے ہماری مجبوری ہے والدین ہماری تعلیم کی خرچے پورے نہیں کرسکتے۔ ان میں سے اکثر کی والدین معذور، نادار ہیں جن کا واحد سہارا یہ بچے ہوتے ہیں۔۔ان بچوں کا یہ عمر سکول جانے کا ہے ان کے ہاتھ میں پنسل، قلم اور کاپی ہونا چاہئے تھا مگر پنسل کی جگہہ ان کی معصوم ہاتھو ں میں ہتھوڑا، پلاس اور اوزار ہوتا ہے۔چند بچوں نے خواہش ظاہر کی کہ اگر حکومت یا کوئی غیر سرکاری ادارہ ان کی تعلیمی اخراجات برداشت کرے اور ان کے والدین کو دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرلے تو ہ تعلیم حاصل کرنے کیلئے ضرور سکول جائیں گے۔

مستری ایسوسی ایشن کے صدر محمد اسحاق نے صوبائی اور وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری اداروں سے بھی مطالبہ کیا کہ ان غریب بچوں کی تعلیم کا سرکاری طور پر بندوبست کی جائے اور ان کی والدین کو کچھ خرچہ دینے کی بندوبست کی جائے تاکہ یہ بچے مستری بننے کی بجائے ایک ڈاکٹر، انجنئیر یا کوئی بڑا آدمی بن جائے اور ملک و قوم کا خدمت کرسکے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں