اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

3 اکتوبر، 2019

لنگلینڈ سکول اینڈ کالج کی برطانوی پرنسپل میس کیری کے خلا ف طلباء کا احتجاج۔ مس کری کے خلاف بدعنوانی کے الزامات اور سکول کے نظام کو تباہ کرنے کے الزامات۔

 

لنگلینڈ سکول اینڈ کالج کی برطانوی پرنسپل میس کیری کے خلا ف طلباء کا احتجاج۔ مس کری کے خلاف بدعنوانی کے الزامات اور سکول کے نظام کو تباہ کرنے کے الزامات۔



چترال (گل حماد فاروقی) سیوج پبلک سکول جو بعد میں میجر جی ڈی لینگلینڈ کے نام ے منصوب ہوا اس سکول کے برطانوی خاتون پرنسپل Miss Carey Schofield کے خلاف سکول کے طلباء نے پر زور انداز میں احتجاج کیا۔ اس احتجاج میں بعض اساتذہ بھی شامل تھے۔ طلباء نے ڈپٹی کمشنر چترال کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور گو کیری گو کے نعرے لگائے۔ ان طلباء و طالبات نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرز پکڑے تھے جن پر Miss Carey Schofield کے حلاف نعرے درج تھے اور اس کے حلاف حکومت سے احتساب کرنے کے مطالبات کئے گئے تھے۔ جبکہ طلباء نے ڈی سی آفس میں ہی دھرنا دیا۔

سکول کے اساتذہ نے ڈی سی آفس میں جا کر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے ساتھ مذاکرات کئے کیونکہ ڈپٹی کمشنر چھٹی پر تھے۔ ان اساتذہ نے اے ڈی سی ذاکر حسین کو تمام حالات سے خبردارکیا۔جبکہ ان کے ساتھ بچوں کے والدین بھی احتجاج میں شامل تھے اور انہوں نے بھی اے ڈی سی کو شکایات کی انبھار لگادئے۔ اساتذہ نے کہا کہ سکول کی پالیسی پاکستان میں رائج الوقت نظام، انسانی حقوق اور تعلیمی پالیسی کے بالکل حلاف ہے جس کی وجہ سے یہ سکول تباہی کے کنارے کھڑا ہے۔ سکول میں پہلے طلباء کی تعدا د گیارہ سو تھی جو کم ہوکر صرف سات سو رہ گئی۔انہوں نے کہا کہ میس کیری کو جب ویزہ نہیں ملا تھا تو دس مہینے سکول سے باہر رہی مگر اس نے ایک ہی چیک کے ذریعے ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے بنک سے نکالے۔

طلباء نے جنگ بازار کے سکول عمارت میں احتجاج کیا اور Miss Carey Schofield کے حلاف نعرہ بازی کی۔ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے ایک طالب نے کہا کہ چترال کے ایک بااثر شحص کے داماد کو سکول کی یونیفارم کا ٹھیکہ دیا گیا ہے اور اسٹیشنری بھی ٹھیکہ پر دیا گیا ہے جو یونیفارم بازار میں چار ہزار روپے میں ملتا ہے جس میں پینٹ، شرٹ، کوٹ، بوٹ شامل ہیں وہ یونیفارم سکول میں ہم پر دس ہزار روپے کے عوض زبردستی فروخت کرتی ہے۔ ایک اور طالب علم نے کہا کہ پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی نے اعلان کیا تھا کہ چھٹیوں کے درمیان طلباء سے فیس نہیں لی جاے گی مگر یہاں معاملہ کچھ اور ہے میس کیری نہ صرف ہم سے چھٹیوں کے دوران فیس لیتی ہے بلکہ فیس جمع نہ کرنے کی صورت میں اس پر جرمانہ بھی لگادیتی ہے۔ چند اور طلباء نے شکایت کی کہ ان کے جو چاپلوسی کرنے والے ہیں ان کے بچوں کو مفت سبق پڑھاتی ہے مگر ہمارے ساتھ ان کا رویہ کچھ اور ہے اگر دو سگے بھائی ایک ہی کلاس میں پڑھتی ہے ان دونوں سے پورا فیس لیا جاتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے نائب صدر شاہد احمد نے بتایا کہ وزیر اعلےٰ خیبر پحتون خواہ نے ان کو دس کروڑ روپے کا گرانٹ دیا تھا کہ سکول میں ہال اور ہاسٹل تعمیر کی جائے مگر انہوں نے وہ پیسے کہاں لے گئی کسی کو پتہ نہیں۔چند طلباء نے شکایت کی کہ ان کو زیادہ تر سکول کی بسیں سعید اللہ خان پراچہ نے مفت دئے ہیں مگر ہم سے بہت زیادہ ٹرانسپورٹ فیس لی جاتی ہے۔ 

اساتذہ نے کہا کہ اسٹاف ہاؤس کے نام پر ڈیڑ ھ کروڑ روپے کی لاگت سے پرنسپل کی ایک منظور نظر شحص کے جائداد میں بنی ہے مگر اساتذہ کو اس عمارت میں جانے کی اجازت بھی نہیں ہے اور پرنسپل صاحبہ اپنی ذاتی مہمانوں کو وہاں ٹھراتی ہے۔شہزادہ گل نے کہا کہ Miss Carey Schofield کوئی ماہر تعلیم نہیں ہے وہ برطانیہ میں کسی چھوٹے اخبار کی رپورٹر تھی اس کی آنے سے ہمیں یہ امید تھی کہ وہ بچوں کو انگریزی پڑھائی گی مگر وہ سکول میں کوئی کلاس نہیں لیتی اور مفت میں دو لاکھ پچیس ہزار روپے ماہوار تنخواہ لیتی ہے۔ سابقہ ناظم ریاض احمد نے شکایت کی اس کی آنے سے بچوں کا مستقبل تاریک ہونے کا حطرہ ہے کیونکہ وہ بچوں کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ اور کئی مالی بدعنوانی میں ملوث ہے

انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ سکول میں نام نہاد بورڈ آف گورنر بنائی گئی ہے جس میں زیادہ تر اراکین غیر مقامی ہے اور صرف ون میں شو ہے۔ 

طلباء، اساتذہ اور والدین نے چیئرمین احتساب بیورو، وزیر اعلےٰ۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ Miss Carey Schofield کے حلاف تحقیقات کرے اور اس نے ایک ہی چیک کے ذریعے جو ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے نکالے ہیں وہ اس سے واپس لی جائے۔ اور اس نے جتنے مالی بدعنوانی کی ہے ان کا اس سے حساب کی جائے نیز ایک غیر جانبدار کمیٹی کے ذریعے سکول کا آڈٹ کی جائے۔ طلباء اور استاذہ نے متنبہ کیا کہ اگر میس کیری کے حلاف تحقیقات کرکے اس کا احتساب نہیں کیا گیا اور اسے اگر دوبارہ اسی سکول میں لانے کی کوشش کی گئی تو وہ اس سے بھی زیادہ پر تشدد احتجاج کریں گے جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر ہوں گی۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں