اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

8 اکتوبر، 2019

چترال کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں برن ٹراما اینڈ پلاسٹک سرجری سنٹر بیرون ملک کروڑوں روپے فنڈ سے تعمیر ہونے کے باوجود ابھی تک اس میں عملہ نہیں ہے۔

چترال کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں برن ٹراما اینڈ پلاسٹک سرجری سنٹر بیرون ملک کروڑوں روپے فنڈ سے تعمیر ہونے کے باوجود ابھی تک اس میں عملہ نہیں ہے۔



چترال میں برن سنٹر کے باوجود آگ جلنے سے زحمی مریضوں کو مجبوراً پشاور ریفر کیا جاتا ہے۔

چترال (گل حماد فاروقی) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال میں پیٹرپ فاوئنڈیشن کی مالی تعاون سے برن، ٹراما اینڈ ری کنسٹرکٹیو پلاسٹک سرجری، 

Burn-Trauma & Reconstructive / Plastic Surgery Center جس کا افتتاح کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس نے 29.09.2016 کو کیا تھا اس برن سنٹر پر ایک غیر ملکی ڈونر ادارے نے کروڑوں روپے لگائے تھے اور یہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال کو امسال اپریل میں حوالہ بھی ہوا ہے مگر بد قسمتی سے ابھی تک اس مرکز میں جلے ہوئے مریضوں، زحمیوں کا علاج نہیں ہوتا اور ان کو دیگر وارڈز میں داحل کرکے بعد میں پشاور ریفر کئے جاتے ہیں۔ 

گزشتہ دنوں آیون گاؤں میں جو گیس سلنڈر کی وجہ سے دھماکہ ہوا تھا اور پورے مکان میں آگ بھڑک اٹھی تھی اس کے ضد میں آٹھ افراد بری طرح جھلس چکے تھے۔ ان زحمیوں کو چترال ہسپتال لایا گیا مگر چونکہ یہاں برن سنٹر میں ایسے مریضوں کی علاج کیلئے کوئی بندوبست نہیں ہے لہذا ان کو ایمرجنسی اور دیگر وارڈوں میں داحل کیا گیا اگر چہ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اکبر شاہ اور تمام عملہ نے بہت محنت کرکے ان کو بچانے کی کوشش کی۔ اور ڈپٹی کمشنر نے بھی حود معائنہ کیا مگر یہاں سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ان زحمیوں کو برن اینڈ پلاسٹک سرجری سنٹر حیات آباد پشاور ریفر کئے گئے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ابھی تک ان میں سے تین بچے جا ں بحق ہوچکے ہیں جن میں ایسا بچہ بھی شامل ہے جو ابھی تک اس دنیا میں مولود بھی نہیں ہوا تھا۔




اس سلسلے میں ہمارے نمائندے نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال جاکر اس برن سنٹر کا دورہ کیا اور ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اکبر شاہ اور سرجن ڈاکٹر اعجاز سے حصوصی انٹرویو کیا۔

ڈاکٹر اکبر شاہ کے مطابق یہ برن سنٹر اپریل میں ہمارے حوالہ ہوا ہے مگر اس میں 92 آسامیاں حالی ہیں۔ چونکہ جلے ہوئے مریضوں کیلئے حاص علاج کی ضرورت ہوتی ہے اور اس میں سپیشلسٹ ڈاکٹروں کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے رینا فیلؤر اس میں بڑا مسئلہ ہے اور نیفرالوجسٹ کے بغیر ان کا علاج مشکل ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آیون کے مریضوں کو ہم نے بین الاقوامی معیار کے مطابق علاج کروایا مگر ہمارے پاس اس برن سنٹر میں حصوصی سٹاف نہیں ہے۔ 

ڈاکٹر اعجاز جو اس ہسپتال میں جنرل سرجن ہے انہوں نے بتایا کہ جلے ہوئے مریضوں کا جلد یعنی چمڑا جل جاتا ہے جو انسانی جسم کو بیماریوں اور حطرات سے بچاتا ہے تو جب سکن جل جاتا ہے تو مریض بہت کمزور پڑتا ہے اور ان کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے ہمارے ہاں چونکہ ایسے مریضوں کیلئے انتہائی نگہداشت کا یونٹ موجود نہیں ہے اسلئے ہم نے حطرہ مول نہیں لیا اور ان کو پشاور ریفر کیا۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے بھر پور کوشش کی کہ ان کا علاج یہاں ہوسکے۔

چترال کے سیاسی اور سماجی طبقہ فکر نے صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ چترال ہسپتال میں برن اینڈ پلاسٹک سرجری سنٹر میں فوری طور پر عملہ بھیج دے تاکہ آئندہ اس قسم کا ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں