اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

23 اکتوبر، 2019

چھاتی کے سرطان سے متعلق یوفون ٹاورز میں آگہی سیمینار، یوفون ٹاور کو پنک روشنیوں سے مزین کیا گیا

 

چھاتی کے سرطان سے متعلق یوفون ٹاورز میں آگہی سیمینار، یوفون ٹاور کو پنک روشنیوں سے مزین کیا گیا



کراچی، 23 اکتوبر، 2019۔ پاکستان میں ہر سال 40 ہزار خواتین چھاتی کے سرطان کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھوبیٹھتی ہیں جبکہ ایک کروڑ 2 لاکھ سے زائد خواتین میں چھاتی کا سرطان پھیلنے کا خدشہ رہتا ہے۔ چھاتی کے سرطان سے متعلق آگہی پھیلانے کے لئے پاکستانی ٹیلی کام کمپنی یوفون نے پنک ربن پاکستان کے اشتراک سے اسلام آباد میں اپنے ہیڈ کوارٹرز پر اپنے اسٹاف کے لئے خصوصی سیشن کا انعقاد کیا۔ 

اس سیشن میں چھاتی کے سرطان سے منسلک مسائل کی نشاندہی کی گئی۔ پروگرام میں چھاتی کے سرطان کی وقت سے پہلے خود تشخیص کرنے کے طریقے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ 

قابل علاج مرض ہونے کے باوجود چھاتی کے سرطان کے ساتھ بہت سی غلط فہمیاں منسلک ہیں جن کی وجہ سے اسکی کافی دیر سے تشخیص ہوتی ہے۔ پروگرام میں ماہرین نے انکشاف کیا کہ اس بیماری کی بروقت شناخت سے زندگی بچنے کی شرح بڑھ کر 90 فیصد تک ہوجاتی ہے۔ 

اس سیشن کے بعد مریضوں اور اس مرض سے صحت یاب خواتین سے اظہار یکجہتی کیلئے یوفون ٹاور کو پنک لائٹس سے روشن کیا گیا۔ یہ یوفون کی جانب سے دیرینہ روایت ہے کہ وہ اس طرح کے اقدامات کے لئے تعاون کرتا ہے اور سماجی طور پر ذمہ دار ادارے کے طور پر ان مسائل کو اجاگر کرتا ہے جن کا ہر پاکستانی کو براہ راست سامنا ہوتا ہے۔ 

عوام میں اس بیماری سے متعلق آگہی پھیلانے کے بارے میں پنک ربن پاکستان کے سی ای او عمر آفتاب نے کہا، "ہم ہر سال ہزاروں قیمتی جانیں لاعلمی، تاخیر سے تشخیص اور چھاتی کے کینسر سے متعلق غلط تصورات کی وجہ سے ضائع کردیتے ہیں۔ اس لئے آگہی ہی واحد بچاؤ کا راستہ ہے۔" 

اکتوبر کو چھاتی کے کینسر سے آگہی کا مہینہ قرار دے کر اسے بین الاقوامی سطح پر پنکٹوبر کے نام سے منایا جاتا ہے۔ اس ماہ کے دوران پنک ربن نہ صرف معلوماتی مواد کے ذریعے خواتین اور طالبات میں آگہی پھیلاتا ہے بلکہ وہ مقامی سطح پر مختلف تقاریب میں براہ راست رابطے کے ذریعے خواتین  اور لڑکیوں کو آگہی فراہم کرتا ہے۔ مختلف سطحوں پر آگہی سیشنز کے انعقاد کے ذریعے چھاتی کے کینسر سے متعلق غلط تصورات کو ختم کیا جاسکتا ہے جس کے نتیجے میں لوگ اس مرض سے زیادہ موثر انداز سے نبرد آزما ہوسکتے ہیں۔ 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں