اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

1 نومبر، 2019

مقبوضہ کشمیر کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے پر چین کا بھارت کے خلاف سخت ترین ردعمل سامنا آیا ہے، چین نے بھر پور مخلالفت کا اعلان کردیا ہے

 

مقبوضہ کشمیر کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے پر چین کا بھارت کے خلاف سخت ترین ردعمل سامنا آیا ہے، چین نے بھر پور مخلالفت کا اعلان کردیا ہے



بیجنگ (ٹائمزآف چترال نیوز ڈیسک 1 نومبر 2019) چین نے مقبوضہ کشمیر کی دو حصوں میں تقسیم کو غیر قانونی اور باطل عمل قرار دے دیا۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جینگ شوانگ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت نے باضابطہ طور پر نام نہاد جموں و کشمیر اور لداخ یونین کے علاقوں کا اعلان کیا جس میں چین کے کچھ علاقے بھی شامل ہیں جنہیں بھارت نے اپنے دائرہ اختیار میں شامل کیا ہے۔

جینگ شوانگ نے کہا کہ چین ان اقدامات کی بھرپور مخالفت کرتا ہے جس میں بھارت نے یک طرفہ طور پر اپنے مقامی قوانین اور انتظامی تقسیم کو تبدیل کر کے چین کی خود مختاری کو چیلنج کیا ہے جس سے چین کی سالمیت متاثر ہوگی۔ واضح رہے کہ مودی سرکار 5 اگست کے سیاہ فیصلے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے دوسرے مرحلے کے تحت جموں و کشمیر اور لداخ کو دو حصوں میں تقسیم کرکے بھارتی قوانین نافذ کردئیے۔نئے قوانین کے تحت دیگر ریاستوں کے ہندو شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور مستقل رہائش کا حق حاصل ہوگیا ہے۔

جمعرات کے روز سے  بھارت اور چین کے درمیان لفظی جاری ہے جو اب شد اختیار کرگئی ہے۔ یہ جنگ بھارت کے اس فیصلے کے بعد شروع ہوئی جس میں مقبوضہ کشمیر کو تقسیم کیا گیا ہے  اور اس نے متنازعہ ریاست کی آئینی خودمختاری کو باضابطہ طور پر کالعدم کردیا اور اسے مکمل طور پر ہندوستان میں ضم کرنے کی غرض سے اسے دو وفاقی علاقوں میں تقسیم کردیا ہے۔

مسلم اکثریتی کشمیر میں دکانیں اور دفاتر بند کردیئے گئے اور اس کے مرکزی شہر سری نگر میں سڑکیں بڑی حد تک ویران ہوگئیں کیونکہ جموں وکشمیر کی 173 سالہ سابقہ سلطنت مملکت کی سب سے بڑی تنظیم نو میں نئے منتظمین نے اپنے عہدے کا حلف بھی لیا۔

پاکستان، جو پورے کشمیر کا دعویدار ہے، نے اس اقدام کی مذمت کی ہے اور مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے کہا کہ کشمیر تاریخ سے چھوڑا ہوا تنازعہ ہے جسے پرامن طور پر حل کیا جانا چاہئے۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں