اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

14 نومبر، 2019

چترال کے علاقے سینگور میں پہلی بار شمسی توانائی سے چلنے والی آب نوشی سکیم مکمل۔ شمسی توانائی سے چلنے والا طاقتور موٹر کے ذریعے پانچ ہزار گیلن پانی فی گھنٹہ کے حساب سے کنویں سے نکل کر ساڑھے چار سو فٹ بلند ٹینکی میں پہنچایا جاتا ہے۔

 

چترال کے علاقے سینگور میں پہلی بار شمسی توانائی سے چلنے والی آب نوشی سکیم مکمل۔ شمسی توانائی سے چلنے والا طاقتور  موٹر کے ذریعے پانچ ہزار گیلن پانی فی گھنٹہ کے حساب سے  کنویں سے نکل کر ساڑھے چار سو فٹ بلند ٹینکی میں پہنچایا جاتا ہے۔
چترال(گل حماد فاروقی) صوبائی محکمہ پبلک ہیلتھ نے پہلی بار چترال میں کامیاب تجربہ کرکے سینگور کے مقام پر شمسی توانائی سے چلنے والی آبنوشی سکیم مکمل کروائی۔سینگور کے مقام پر ڈاکٹر کالونی کے قریب 
دس فٹ چھوڑا اور ایک سو اسی فٹ گہرا کنواں کھودا گیا۔ اس منصوبے پر تقریباً ڈھائی کروڑ روپے لاگت آئی۔ جس سے میراندہ، سینگور، سین جال اور شاہ میراندہ کے مکینوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کی جائے گی۔
یہ منصوبہ اپنی نوعیت کا پہلا  تجربہ ہے جو اتنی گہرائی سے شمسی توانائی سے چلنے والی موٹر کے زریعے پانی نکال کر 450 فٹ کے اونچائی پر ٹینکر میں ڈالا جاتا ہے جہاں سے ان چار دیہات کو پینے کی صاف پانی فراہم کی جائے گی۔ 
ہمارے نمائند ے سے باتیں کرتے ہوئے ایگزیکٹیو انجنیر محمد یعقوب نے کہا کہ اسے ایک چیلنج سمجھ کر ہم نے شروع کیا تھا اور تجرباتی بنیادوں پر اسے چلاکر کامیاب کریں گے اور اگر یہ  پہلا منصوبہ کامیاب ہوا تو اس کے بعد چترال کے طول و عرض میں شمسی توانائی سے چلنے والے اس قسم کے اور منصوبے بھی شروع کروایں جائیں گے جس میں نہ تو بجلی خرچ ہوتی ہے نہ ڈیزل بلکہ ایک دفعہ  سولر پینل لگاکر  اس کے ذریعے بیٹری چارج ہوتی ہے اور اس سے طاقتور موٹر بھی چلتی ہے۔
اس منصوبے کے تکمیل  پر سینگور اور مضافاتی علاقے کے لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا کیونکہ اس کی کامیابی پر ان علاقوں میں پینے کی صاف پانی کا مسئلہ مستقل طور پر حل ہوگا۔ علاقے کے لوگوں نے صوبائی حکومت اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجنئرنگ کا شکریہ ادا کیا ہے  جنہوں نے عوام کا دیرینہ مسئلہ حل کیا۔ 
XEN پبلک ہیلتھ انجنئیر محمد یعقوب نے بتایا کہ چترال میں جتنے بھی پانی کے منصوبے ہیں وہ ہمیشہ حطرات کی ضد میں رہتے ہیں حال ہی میں گولین واٹر سپلای سکیم بھی سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوا اسی طرح جتنے بھی پانی کی ذحائیر ہیں وہ چشموں سے نکلتی ہیں اور ان چشموں سے پانی لاتے وقت پائپ لائن سڑک کے کنارے، نہر یا  دریا کے کنارے سے گزرتا ہے۔ جب بھی سیلاب  یا زلزلہ آتا ہے  توان  پائپ لائن پر بھاری پتھر  یا پہاڑی تودے، برفانی تودے گر کر ان پائپ لائن کو بہت نقصان پہنچاتا ہے جس  کے باعث اکثر یہ پائپ لائن تباہ ہوجات ہیں اور علاقے کے لوگ مہینوں پینے کی پانی سے محروم رہتے ہیں۔ جس کے نسبت شمسی توانائی سے چلنے والا پانی کے سکیم نہایت کامیاب ہیں ان میں نقصانات کا حطرہ بہت کم ہے۔ جہاں مناسب جگہہ ملے وہاں کنواں کھودا جائے اور اس میں  شمسی پینل سے چلنے والے موٹر لگا کر ان سے پانی نکال کر ٹینکی میں ڈالا جائے جہاں سے پورے علاقے کو با ًسانی پانی کی فراہمی کی جاتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں