اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

21 نومبر، 2019

پی پی اے ایف نے اطالوی ترقیاتی تعاون کے ادارے کے اشتراک سے کمیونٹیز کے لئے تربیتی سیشنز کا انعقاد کیا

 



پی پی اے ایف نے اطالوی ترقیاتی تعاون کے ادارے کے اشتراک سے کمیونٹیز کے لئے تربیتی سیشنز کا انعقاد کیا


پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف) کے زیر اہتمام پسماندہ علاقوں کے افراد کے لئے تربیتی سیشنز کے آغاز پر پاکستان میں اطالوی ترقیاتی تعاون کی ڈائریکٹر ایمانیولا بینی پی پی آر کمیونٹی اراکین سے گفتگو کررہی ہیں۔ 


اسلام آباد، 12 نومبر، 2019۔ پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف) نے اطالوی ترقیاتی تعاون کے ادارے اور اٹلی کے لیوس بزنس اسکول کے اشتراک سے نوجوانوں میں تعلیم، صحت اور غذائیت سے متعلق بنیادی آگہی بڑھانے اور سیکھنے کے نئے مواقع کی فراہمی سے متعلق تربیتی سیشنز کا آغاز کیا ہے۔ اس سرگرمی میں اطالوی حکومت کے مالی تعاون کی بدولت خیبرپختونخوا، بلوچستان اور فاٹا میں پی پی اے ایف کے پروگرام فار پاورٹی ریڈکشن سے مقامی افراد مستفید ہوں گے۔ اس ضمن میں پہلی تربیتی سرگرمی کا آغاز پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر) میں کیا گیا۔ 

افتتاحی تقریب میں پاکستان میں اطالوی ترقیاتی تعاون کی ڈائریکٹر ایمانیولا بینی، پی پی اے ایف کی ہیڈ آف پروگرامز سیمی کمال اور پی سی آر ڈبلیو آر کے سربراہ محمد اشرف نے شرکت کی۔ ایمانیولا بینی نے پی پی اے ایف کی تخفیف غربت کے خاتمے کے لئے کاوشوں کو سراہا اور غربت سے نمٹنے کے لئے جدت انگیز طریقے اختیار کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے نوجوانوں کے کردار کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، "نوجوان تبدیلی لانے میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں اور پی پی اے ایف کے اشتراک سے مقامی سطح پر تربیتی سیشنز کے ذریعے ہمارا عزم ہے کہ مقامی آبادی کے افراد اپنی زندگیوں میں تبدیلی لانے کے لئے جدت انگیز طریقوں سے مطابقت حاصل کریں۔" 

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے پی پی اے ایف کی ہیڈ آف پروگرامز سیمی کمال نے کہا، "اس تربیت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ معیاری طریقے تلاش کرکے انہیں غربت کے خاتمہ اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لئے استعمال کیا جائے ۔ اس سے تبدیلی لانے والے افراد بااختیار ہوسکیں گے ۔ پی پی اے ایف گزشتہ 20 سالوں میں پسماندہ طبقات کو بے شمار خدمات فراہم کرچکا ہے اور ہم اپنے تجربہ و علم کو بروئے کار لاتے ہوئے اسی جذبے کے ساتھ یہ سفر جاری رکھیں گے۔" 

پی سی آر ڈبلیو آر کے سربراہ محمد اشرف نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "نئی کامیابیوں کی خواہش کی تکمیل کرنے والے نوجوان معاشرے کا ستون ہے، اب نوجوانوں پر وسائل لگانے کا وقت ہے تاکہ ہم روشن مستقبل دیکھ سکیں۔ عمل کے بغیر علم کی کوئی اہمیت نہیں، اس لئے یہ ہر ایک کے لئے ضروری ہے کہ وہ علم حاصل کرے اور اپنے علاقوں میں تبدیلی لانے کے لئے کام کرے۔" 

اس پانچ روزہ طویل تربیتی نشست کا انعقاد پی پی اے ایف کی جانب سے کیا گیا ہے جس میں لیوس بزنس اسکول کے اطالوی ماہرین حصہ لے رہے ہیں۔ یہ ماہرین معاشی ترقی، جدت، پائیداری اور تخلیقی حل نکالنے پر روشنی ڈالیں گے۔ 

اس تربیتی نشست میں بلوچستان ، خیبرپختونخوا، فاٹا اور سندھ کے مختلف دور دراز علاقوں کے مقامی افراد کے ساتھ خواتین کی فعال نمائندگی بھی موجود ہے۔ ایک مقامی فعال خاتون شیری رفیق نے اس تربیت کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، "میرا تعلق بلوچستان کے ضلع آواران سے ہے، میرا ضلع 1992 میں قائم ہوا لیکن اب تک تاحال میرے علاقے میں لڑکیوں کا کوئی کالج نہیں۔ میں اپنے علاقے کی موجودہ صورتحال تبدیل کرنے کی خواہاں ہوں اور خواتین تک تعلیم کی رسائی چاہتی ہوں۔" 

ان تربیتی سیشنز کو مختلف طرح کے مقامی افراد کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ ان میں خواتین کی قیادت، نوجوانوں کی شمولیت، کاروباری اور معاشی ترقی سے متعلق لوگوں کو کارآمد معلومات حاصل ہوں گی اور وہ جدید طریقوں سے آگہی حاصل کرکے اپنے علاقوں میں تبدیلی لانے کے لئے فعال انداز سے کام کرسکیں گے۔ 

غریبوں کو وسائل فراہم کرنے والے صف اول کے ادارے کے طور پر پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ ملک میں تخفیف غربت کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے جذبے سے کام کرکے غربت سے متعلق کثیر الجہتی مسائل کی نشاندہی کے ساتھ سماجی و معاشی تبدیلی لانے کے لئے کوشاں ہے۔ پی پی اے ایف پاکستان بھر میں رسائی رکھنے کے ساتھ ملک بھر کے 137اضلاع میں موجود ہے جبکہ اسکی 130 تنظیموں کے ساتھ ایک لاکھ سے زائد گاو ¿ں /آبادکاریوں کی شراکت داری ہے جبکہ ان کے ہمراہ ایک لاکھ 33ہزار سے زائد کمیونٹی ادارے اور نچلی سطح پر چار لاکھ 40 ہزار کریڈٹ/کامن انٹرسٹ گروپس ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں