اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

1 نومبر، 2019

کشمیر بنے گا پاکستان۔ جامعہ چترال کے طلباء و طالبات نے کشمیر کے ساتھ یوم یکجہتی کے طورپر تصویری مقابلے کا اہتمام کیا

 

کشمیر بنے گا پاکستان۔ جامعہ چترال کے طلباء و طالبات نے کشمیر کے ساتھ یوم یکجہتی کے طورپر تصویری مقابلے کا اہتمام کیا



چترال (گل حماد فاروقی) کشمیر میں ہونے والے مظالم کی مذمت اور کشمیری مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر جامعہ چترال میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔ پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری پراجیکٹ ڈائریکٹر یونیورسٹی آف چترال نے تقریب کی صدارت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس کے بعد پہلے پاکستان کا قومی ترانہ پیش کیا گیا جس کی احترام میں تمام شرکاء کھڑے ہوگئے۔ اس کے بعد کمشیر کا قومی ترانہ پیش کیا گیا۔: وطن ہمارا آزاد کشمیر:

کشمیری مسلمانوں کے ساتھ یکجہی کے طور پر چترال یونیورسٹی کے طلباء و طالبات میں تصویری مقابلے ہوئے۔ ان تصاویر میں طلبا ء و طالبات میں کشمیر ی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے حوالے سے تصویری حاکے بنائے تھے۔

ان طالبات نے اپنے بنائے ہوئے پینٹنگ اور تصاویر کو شرکاء کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں مسلمانوں پر جو ظلم ہورہے ہیں جس میں کئی نوجوانوں کو اغواء کئے گئے ہیں جواں سال لڑکیوں کو بھی اغوا کر کے غائب کردئے گئے یا ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ 




تصویری مقابلوں میں جوری کمیٹی کے سفارش پر حرا نازلی ایم ایجوکیشن کی طالبہ کو پہلی پوزیشن ہولڈر قرار دی گئی۔ ادریس احمد نے دوسری پوزیشن جبکہ نازیہ حسن ایم اے اردو نے تیسری پوزیشن حاصل کی جن کو ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری نے ایوارڈ دئیے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری نے کہا کہ کشمیر دو حصے تھے ایک حصے پر پاکستان بننے کے تھوڑے عرصے بعد لوگوں جاکر اس پر قبضہ کیا اور اسے آزاد کرایا گیا جبکہ دوسرے حصے پر جب لوگوں نے چڑھائی کی تو اس وقت ہندوستان کے وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں جاکر درخواست کی کہ کشمیر کے لوگوں کو حق خود ارادیت دی جائے اگر وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہے تو پاکستان سے ملے اگر ہندوستان کے ساتھ ملنا چاہے تو ان کو اپنی رائے کی مکمل آزادی دی جائے جس پر پاکستان بھی راضی ہوگیا مگر ستر سال گزر گئے نہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دی گئی اور نہ ان کی رائے پوچھی گئی۔

یونیورسٹی آف چترال نے ایک قرارداد کے ذریعے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ کشمیر میں طلبا و طالبات کو یونیورسٹی جانے سے بھی روکا جارہے ہیں لہذا ان کو یونیورسٹیوں میں جانے کی اجازت دی جائے اور حصول تعلیم پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگانی چاہئے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں