اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

8 نومبر، 2019

چترال : آغا خان ہیلتھ سروس کو ملنے والی مفت سرکاری دوائی بھی غریب مریضوں پر فروخت کرنے کا انکشاف۔

 

چترال : آغا خان ہیلتھ سروس کو ملنے والی مفت سرکاری دوائی بھی غریب مریضوں پر فروخت کرنے کا انکشاف۔

ابھی تک سرکاری خزانے سے ان ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی حالی آسامیوں کو پر کرنے اور ادویات وغیرہ کیلئے کروڑوں روپے دئے گئے ہیں مگر ان کا کوئی حساب نہیں۔

چترال(گل حمادفاروقی) آغا خان ہیلتھ سروس چترال (AKHSP) جو ایک غیر سرکاری ادارہ ہے صوبائی حکومت نے چترال کے تین ہسپتال ان کے حوالہ کئے ہیں۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت سب سے پہلے دیہی مرکز صحت شاہ گرام غالباً سال 2005 میں اس کے حوالہ ہوا۔اسی ہسپتال میں محکمہ صحت کی جانب سے سرکاری عملہ (ڈاکٹر، نرس، ڈسپنسر، پیرا میڈیک وغیرہ) گیارہ سٹاف کام کرتے ہیں جن کو سرکاری خزانے سے تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ 



ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر چترال کے دفتر سے موصولہ مصدقہ دستاویزان کے مطابق ان ہسپتالوں میں جن ڈاکٹروں، نرسوں وغیرہ کی آسامیاں حالی ہیں ان کی حالی آسامیوں پر دیگر ڈاکٹرز بھرتی کرنے، عوام کو مفت ادویات دینے، لیبارٹری، ایکسرے کے سامان، مرمت وغیرہ کی مد میں سال 2010 سے 2018 تک صرف جون کے مہینے کا بجٹ 30784144روپے AKHSP کو دئے گئے ہیں۔ 

اس کے بعد RHC مستوج بھی اسی این جی او کو حوالہ کیا گیا ہے جہاں سرکار کی طرف سے 19 سٹاف متعین ہیں جن کو سرکارتنخواہیں دیتی ہیں البتہ ڈاکٹروں کی کمی پورا کرنے، مفت ادویات فراہم کرنے وغیرہ کیلئے محکمہ صحت نے AKHSP کو سال2014 سے 2018 تک جون کے مہینے کی 13180329 روپے دئے ہیں۔

اس کے بعد تیسری نمبر پر تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال گرم چشمہ بھی AKHSP کو حوالہ ہوا۔ جہاں سرکار کی طرف سے 47 سٹاف ڈیوٹی کرتے ہیں جن میں ڈاکٹرز، نرسز وغیرہ شامل ہیں جبکہ AKHSP کی جانب سے صرف 23عملہ ہیں۔

ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے ذریعے اسی ہسپتال میں حالی آسامیں پر کرنے، مریضوں کو مفت ادویات، لیبارٹری ٹیسٹ، ایکسرے وغیرہ کیلئے سرکاری خزانے سے ان کو 34592472روپے دئے گئے ہیں جو صرف سال 2013 سے 2018 تک کا بجٹ ہے۔ اس کیلئے حکومت اور AKHSP کے درمیان باقاعدہ معاہدہ یعنی Memorandum of Understanding پر دسحط ہوئے ہیں۔ مگر AKHSP کے بارے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس معاہدے کی سراسر حلاف ورزی کررہی ہے۔ گرم چشمہ ہسپتال میں تعینات ایک مالی نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ یہاں نہ تو کسی غریب کے ساتھ رعایت کی جاتی ہے نہ عملہ کے ساتھ۔ میری بیوی بیمار پڑ گئی جس کی علاج کیلئے مجھ سے 36000 روپے لئے گئے۔ 

سرکاری ہسپتال میں اگر او پی ڈی چٹ دس روپے کا ملتا ہے تو یہاں 170 روپے کا اور سپشلسٹ ڈاکٹر کا چٹ بھی 280 روپے کا ملتا ہے۔سرکار کی طرف سے جو مفت ادویات ملتی ہے AKHSP ان ادویات کو غریب مریضوں پر فروخت کرتی ہے اور کسی کو مفت دوائی نہیں دیتے یہاں تک کہ ایکسرے کیلئے فلم اور سامان بھی سرکار دیتے ہیں مگر ان کی بھی بہت بھاری فیس وصول کی جاتی ہے۔ان کی لیبارٹی ٹیسٹ، ایکسرے، الٹرا ساؤنڈ وغیرہ کی فیس ڈیڑھ سو سے لیکر چھ سو روپے تک وصول کی جاتی ہے۔

اسی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے انکشاف کیا کہ ان پر ادارے کی جانب سے دباؤ ڈالاجاتا ہے کہ مریضوں کو ضرور لیبارٹری ٹیسٹ، ایکسرے اور الٹرا ساؤنڈ کیلئے ریفر کیا کرے تاکہ انکو زیادہ پیسے مل جائے اور ان ڈاکٹروں کو بھی بیس فی صد کمیشن دی جاتی ہے۔ 

سرکار کی جانب سے ڈپٹی کمشنر، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، سیکرٹری ہیلتھ، ڈی جی ہیلتھ وغیرہ نے MoU پر دسحط کئے ہیں اور اس کے تحت ہیلتھ کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو ان ہسپتالوں میں فیس تعین کرے گا مگر اس معاہدے کی سراسر حلاف ورزی ہورہی ہے۔ ہمارے نمائندے آغا خان ہیلتھ سروس کے زیر نگرانی چلنے والے سرکاری ہسپتالوں میں زیادہ تر پرنس کریم آغا خان کے پیر و کار اسماعیلی مسلم کمیونٹی سے رابطہ کیا تاکہ کوئی شرپسند اس کو سنی اسماعیلی فساد کا ہوا نہ دے۔ 

تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال گرم چشمہ کے ہیلتھ کمیٹی کے چئیرمین اسلام الدین جو سابقہ سنئیر بیوروکریٹ رہ چکا ہے نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ میں خود اسی کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہو ں مگر جب میں نے دیکھا کہ AKHSP والے عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیتا اور ان پر سرکاری دوائی بھی فروخت کرتے ہیں تو میں نے احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفےٰ دیا۔

ہسپتال میں کام کرنے والی نرسوں سے بات ہوئی تو ان بھی کہنا تھا کہ لیبارٹری وغیرہ میں ڈاکٹر نہیں ہے اور صرف ٹیکنیشن سے کام لیا جاتا ہے۔ 

اس علاقے کے ایک سابقہ کونسلر نے کہا کہ یہاں فیس بہت زیادہ لی جاتی ہے اگر فیس کم کی جائے تو عوام کیلئے بہتر ہوگا۔ 

ہسپتال کے میڈیکل انچارج نے بتایا کہ اس میں زیادہ عملہ سرکاری ہے اور غریب مریضوں کے ساتھ مدد کرنے کیلئے میں اپنے دوستوں سے دوائی کی سیمپل لاکر ان کو مفت دیتا ہوں۔

اس علاقے کے سابقہ ناظم عبد القیوم نے کہا کہ یہاں AKHSP والے عوام پر ظلم کررہے ہیں ان کو لوٹ رہے ہیں سرکار کی طرف سے عوام کیلئے مفت ادویات آتے ہیں مگر یہ اتنے ظالم ہیں کہ ان مفت ادویات کو بھی مریضوں پر فروخت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے ان کے حلاف چیف سیکرٹری خیبر پحتون خواہ، وزیر اعظم، سیکرٹری ہیلتھ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ، ڈپٹی کمشنر، ڈسٹرک ہیلتھ آفیسر وغیرہ کو باقاعدہ تحریری درخواستیں لکھ کر شکایتیں کی ہیں مگر سب بے کار۔ان لوگوں کے اتنے لمبے ہاتھ ہیں کہ ضلعی انتظامیہ ان کے سامنے بے بس ہیں اور ان کے حلاف کوئی کاروائی نہں کرسکتی۔

چند ناظمین نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ AKHSP والے بالائی افسران، سیکرٹری ہیلتھ، چیف سیکرٹری کو آغا خان کے سفید ہیلی کاپٹر میں لاکر ان کو چکر کرواتے ہیں بڑے بڑے ہوٹلوں میں ان کی دعوت کرکے ان کو خوش کرتے ہیں اور وہ عوام کے پیٹ میں چھرا گھونپ دیتے ہیں ان کے حلاف کوئی کاروائی نہیں کرتے۔

اس سلسلے میں ہمارے نمائندے نے سابقہ چار ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز سے رابطہ کرکے ان کی موقف جانی۔ تو ان DHOs کا کہنا تھا کہ وہ بے بس ہیں جب AKHSP کو دینے والے فنڈ میں تھوڑی سی تاحیر ہوتی تو ان کیلئے اوپر سے فون آتا کہ ان کو یہ فنڈ جلدی ریلیز کرے۔

اس سلسلے میں ہمارے نمائندے نے AKHSP کے منیجر معراج خان سے بھی ان کا موقف جاننے کی کوشش کی مگر انہو ں نے کیمرے کے سامنے انٹرویو دینے اور تحریری موقف دینے معذرت کرلی۔

تاہم اس نے زبانی طور پر بتایا کہ ہم حسار ے میں جارہے ہیں۔ مگر جب ان کو اسی ادارے کا ایک ثبوت دیا گیا جس میں دسمبر 2018 میں گرم چشمہ کے ہسپتال میں تقریباً بارہ لاکھ روپے سے زیادہ منافع ہوا تھا تو اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اسی طرح اس نے سرکاری سٹاف کی تعداد بتانے سے بھی معزوری ظاہرکی۔

اس ہسپتال کو پاکستان بیت المال اور محکمہ زکوۃ سے ملنے والی فنڈ الگ ہے مگر اس کے بارے میں انہوں نے کچھ نہیں بتایا۔

مستوج میں ایک بار ڈپٹی کمشنر کے کھلی کچہری میں لوگوں نے ان ہسپتالوں کے حلاف شکایات کے انبھار لگائے مگر ان شکایات پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔دسمبر 2018 میں یہ معاہدہ حتم ہوچکا ہے مگر ابھی تک سرکار کی طرف سے اس NGO کو ان ہسپتالوں کیلئے کروڑں روپے کا فنڈ دی جاتی ہے۔

چترال کے سیاسی اور سماجی طبقہ فکر نے چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، وزیر اعظم پاکستان، چئیرمین نیب، وزیر اعلےٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں ایک غیر جانبدار کمیٹی کی جانب سے تحقیقات کی جائے کہ ابھی تک AKHSP کو کروڑوں روپے کا فنڈ دیا گیا ہے اور جو ڈاکٹر بھرتی نہیں کئے گئے اس فنڈ کو ابھی تک واپس نہیں کیا اور سرکار کی طرف سے مفت ادویات بھی عوام پر فروخت کرتے ہیں۔ نیز ان ہسپتالوں میں موجود کوارٹرز کا کرایہ بھی ابھی تک نہیں دیا نہ ان ہسپتالوں سے لیبارٹری، ایکسرے، الٹرا ساؤنڈ وغیرہ سے کوئی فنڈ سرکاری خزانے میں واپس جمع کیا گیا سب کو AKHSP نے ہڑپ کیا۔ اس فنڈ کو ان سے واپس لیکر سرکاری خزانے میں جمع کیا جائے اور ان کو پابند کیا جائے تاکہ وہ اس فنڈ میں خوردبرد نہ کرے اور اسے ایمانداری سے عوام پر خرچ کرے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں