اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

8 نومبر، 2019

اقوام متحدہ جی ایم اوز بیجوں سے کینسر پھیلانے والے ممالک کے خلاف کاروائی کرے: سربراہ پاسبان

 

اقوام متحدہ جی ایم اوز بیجوں سے کینسر پھیلانے والے ممالک کے خلاف کاروائی کرے: سربراہ پاسبان

کینسر سے آگاہی کا دن منایا جانا اور جی ایم اوز بیجوں پر پابندی عائد نہ کرنا مضحکہ خیز ہے: اقبال ہاشمی




کراچی: پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیف ا ٓرگنائزر قبال ہاشمی اورنائب صدر طارق چاندی والا نے کہاہے کہ اقوام متحدہ کی ہدایات کے تحت دنیا بھر میں کینسر سے آگاہی کا دن منایا جانا اور پاکستان میں حکومت کی جانب سے کینسر کے سد باب کے لئے جی ایم اوز بیجوں پر پابندی عائدنہ کرنا انتہائی مضحکہ خیز ہے۔دنیا کے 70 فیصد ترقی یافتہ ممالک نے جی ایم اوز کو مہلک جان کر پابندی لگا دی ہے۔ کینسر سے آگاہی کے ایام منانااچھی بات ہے اور اس کے علاج کیلئے اسپتال اور ادارے قائم کرنا بھی بہت ضروری ہے لیکن سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ سبزیوں، دالوں، پھلوں اور درختوں کے لیب میں تیار کئے گئے مصنوعی بیجوں GMO's پر کڑی پابندی عائد کی جائے اور اس کی تجارت منسوخ قرار دی جائے۔ جی ایم اوز انسانوں میں فالج، کینسر، جگر اور معدے کے مہلک امراض پیدا کر رہے ہیں۔ تین چار فصلوں کے بعد کسانوں کی قیمتی اور زرخیز زمینوں کو بنجر کر دیتے ہیں۔ جن کھیتوں میں جی ایم اوز بیج بوئے جاتے ہیں وہ پھر کسی اور فصل کی کاشت کے قابل نہیں رہتے۔

  • مصنوعی بیجوں کی تجارت اور استعمال کینسر، فالج، جگر و معدے کے مہلک امراض کا باعث ہیں: طارق چاندی والا
  • پڑوسی ملک بھارت سے سبق حاصل کیا جائے جہاں ہزاروں کسان خودکشیوں پر مجبور ہوئے
  • اشرافیہ خود تو اپنے فارم ہاؤسز میں قدرتی بیج بوتی ہے عوام کو موت کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہے
  • مملکت پاکستان کے تمام اداروں کو کرپشن اور بد عنوانی کے کینسر سے نجات حاصل کرنی چاہئے
  • پاسبان نے جی ایم اوز بیجوں کے خلاف آگاہی مہم تیز کر دی، عالمی یوم آگاہی برائے کینسر پر اظہار خیال

اقبال ہاشمی اور طارق چاندی والا پاسبان پبلک سیکریٹیریٹ گلشن اقبال میں عالمی سطح پر کینسر کی آگاہی کے دن کے حوالے سے ایک وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔ طارق چاندی والا نے کہا کہ کینسر ذومعنی لفظ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک کینسر جو جسمانی بیماری کا نام ہے اور دوسرا کرپشن اور بد عنوانی کا کینسر جو ہمارے ملک کی اشرافیہ کی رگوں میں سرائیت کر چکا ہے۔ آج اس کینسر کو علاج کی ضرورت ہمیشہ سے زیادہ ہے۔ ملک کے تقریبا تمام ادارے اس مرض میں بری طرح مبتلا ہیں۔ خاص طور پر وہ ادارے جو براہ راست عوام کی فلاح و بہبود سے متعلق ہیں وہ اس مرض کا بری طرح شکار ہیں۔ اقبال ہاشمی نے کہا کہ بڑے بڑے جاگیردار، سیاستدان، سرمایہ دار اور اشرافیہ بشمو ل وزیر اعظم پاکستان عمران خان اپنے فارم ہاؤسز میں قدرتی بیجوں سے فصلیں اور پھل اگاتے ہیں۔ دوسری جانب غریب کسانوں اور عوام کو جی ایم اوز بیجوں پر کھلی چھوٹ دے کر موت کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہے۔ جی ایم اوز مستقبل کی حیاتیاتی جنگ کے تحت کمزور ملکوں کو زیر کرنے کی عالمی استعماری مہم کا حصہ ہیں۔ پی ٹی آئی کے چوٹی کے عہدیداران میں جی ایم اوز کی پاکستان میں تجارت کرنے والے افراد موجود ہیں۔ پاسبان رہنماؤں نے مزید کہا کہ جی ایم اوز کاشت کرنے والی زمین چند فصلوں کے بعد کاشت کے قابل نہیں رہتی اور اگر اس میں قدرتی بیج بوئے جائیں تو پھر ان کو بھی قبول نہیں کرتی۔ 

پہلی فصل میں پیداوار کے اضافہ کے اگلے ہی برس کسان کا زوال شروع ہو جا تا ہے۔زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، پڑوسی ملک بھارت میں کسان جی ایم اوز بیجوں کی کاشت سے مفلس، قلاش اور قرضدار ہو کر تباہ ہو چکے ہیں۔بھارت میں ہزاروں کسانوں کی خودکشیوں سے آخر سبق کیوں نہیں سیکھا جا رہا؟پاسبان رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاسبان جی ایم اوز بیجوں کے خلاف آگاہی مہم تیز کر رہی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ انسانیت کی حفاظت کیلئے جی ایم اوز بیجوں کی تیاری میں ملو ث ممالک کے خلاف کاروائی کی جائے۔ پاکستانی قوم سے استدعا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہ حیثیت قوم یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ کینسر سے آگاہی کے عالمی دن کو بطور بیماری منانے کے ساتھ کرپشن اور بدعنوانی کے کینسر کے خاتمے کے آغاز کا دن بھی منائیں۔پوری قوم متحد ہو کر کینسرکی بیماری اور کرپشن کے کینسر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پاسبان کی جدوجہد میں شامل ہو جائے #



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں