اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

20 نومبر، 2019

پشاور صدر میں چترال کے صحافی سے موبائل اور نقد رقم چرایا گیا۔ جیب تراشوں نے صحافی کے واسکٹ کے جیب کو اندر سے کاٹ کر موبائیل اور رقم نکالی۔ پولیس نے ابھی تک مقدمہ در ج نہیں کیا۔

 

پشاور صدر میں چترال کے صحافی سے موبائل اور نقد رقم چرایا گیا۔ جیب تراشوں نے صحافی کے واسکٹ کے جیب کو اندر سے کاٹ کر موبائیل اور رقم نکالی۔ پولیس نے ابھی تک مقدمہ در ج نہیں کیا۔



پشاور (نامہ نگار) چترال کے ایک صحافی کو پشاور کے جیب تراشوں نے قیمتی موبایل اور رقم سے محروم کردیا۔پولیس نے ابھی تک FIR درج نہیں کیا۔

تفصیلات کے مطابق چترال سے تعلق رکھنے والے صحافی گل حماد فاروقی پشاور صدر سٹیڈیم سے مزدا گاڑی میں بیٹھ کر خیبر بازار آرہا تھا۔ اس دوران کسی نے اس کے واسکٹ کا اندرونی جیب کاٹ دیا ہے اور موبائیل کو نکالنے کیلئے واسکٹ کا استر بھی کاٹ دیا ہے۔ جیب تراشوں نے دن دہاڑے ان کے جیب سے قمیتی موبائل اور بیس ہزار روپے نقدی نکالنے میں کامیاب ہوئے۔ متاثرہ صحافی نے تھانہ خان رازق شہید آکر رپورٹ درج کرنا چاہا تو اسے بتایا گیا کہ تھانہ شرقی جائے کیونکہ یہ علاقہ ان کے حدود میں نہیں آتا۔

صحافی نے تھانہ شرقی جاکر ایس ایچ او سے مل کر مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی مگر اس کا شکایت ایک سادہ کاغذ پر لکھ دیا گیا اور کوئی FIR درج نہیں کیا گیا۔ متاثرہ صحافی نے کیپٹل سٹی پولیس آفیسر کو بھی تحریری درخواست دی اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آپریشن سے بھی ملے ان کو بھی درخواست دی جسے تھانہ شرقی بھیجا گیا۔ تھانہ شرقی جاکر صحافی نے ایک بار پھر درخواست کی کہ ان چوروں کے حلاف FIR کاٹا جائے مگر ابھی تک نا معلوم چوروں کے حلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا۔

ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے گل حماد فاروقی نے بتایا کہ انہوں نے باقاعدہ پولیس کو موبائل کا آئی می نمبر IMEI 1: 862656031001296IMEI 2: 862656031024033 بھی فراہم کرکے درخواست کی کہ اس نمبر کے موبائل کو ٹریسنگ پر لگاکر تفتیش کردے تاکہ یہ موبائل اور نقدی رقم برآمد ہوسکے۔ نیز انہوں نے اس بات پر نہایت تشویش کا اظہار کیا کہ پشاور میں پولیس نہایت دیدہ دلیری کے ساتھ لوگوں کے جیبوں سے موبائل فون اور نقدی نکالتے ہیں۔ مگر ان کے حلاف ابھی تک کوئی حاص کاروائی نہیں ہوتی۔ متاثرہ صحافی نے انسپکٹر جنرل آف پولیس سے درخواست کی ہے کہ متعلقہ تھانے میں اس کی FIR درج کرنے کا ہدایت جاری کرے اور پولیس کو ہدایت کرے کہ اس کی چوری شدہ موبائل اور نقدی رقم چوروں سے برآمد کرکے ان کے حلاف قانونی کاروائی کرے تاکہ آئندہ معصوم شہریوں کے ساتھ اس قسم کی زیادتی نہ ہو۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں