-->

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

11 دسمبر، 2019

حسنین کی موت نے ثابت کردیا کہ اس ملک میں صرف اشرافیہ کے بچے محفوظ ہیں: پاسبان

 

حسنین کی موت نے ثابت کردیا کہ اس ملک میں صرف اشرافیہ کے بچے محفوظ ہیں: پاسبان



کراچی : پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیف آرگنائزر اقبال ہاشمی نے لاڑکانہ میں کتوں کے کاٹنے سے شدید زخمی ہہونے والے بچے حسنین کے دم توڑنے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حسنین کی موت نے ثابت کر دیا ہے کہ اس ملک میں صرف اشرافیہ کے بچے محفوظ ہیں۔یہ المناک موت سندھ حکومت کے منہ پر ایک طمانچہ ہے اور تمام ہم وطنوں کے لئے خطرے کی گھنٹی۔ آج حسنین جان کی بازی ہار گیا ہے،کل کوئی اور بچہ اس حادثے کا شکار ہوکر موت کی نیند سو جائے گا۔ یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔ اقتدار کی گدی پر قبضہ جمائے بے حس حکمرانوں کو نہ تو بچوں کی تعلیم و مستقبل کی فکر ہے نہ ان کی عزت اور جان کی۔ قصور کی زینب کی عصمت دری سے شروع ہونے والا سلسلہ آج پورے ملک میں پھیل چکا ہے،کسی بھی عام آدمی کا بچہ محفوظ نہیں ہے۔وزیر اعظم عمران خان صاحب کا زینب قتل سانحہ پر آواز بلند کرنا اور پولیس اصلاحات کا دعوی، کیا صرف ایک سیاسی نعرہ تھا؟ عوام کے بچے جیئیں یا مریں، حکمرانوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ان کے اپنے بچے محفوظ ہیں۔بچوں کو بہتر تعلیم و علاج کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار وں کی سرپرستی میں نا انصافی، عدم مساوات اور غربت کے باعث پاکستانی بچے بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔ 

یونیسیف کے عالمی دن کے موقعہ پر یہ المناک موت سندھ حکومت کے منہ پر ایک طمانچہ ہے: اقبال ہاشمی
قصور کی زینب کی عصمت دری سے شروع ہونے والا سلسلہ پورے ملک میں پھیل چکا ہے، کوئی بچہ محفوظ نہیں
وزیر اعظم عمران خان کا زینب قتل سانحہ پر آواز بلند کرنا اور پولیس اصلاحات کا دعوی، کیا صرف ایک سیاسی نعرہ تھا؟
طبقاتی نظام تعلیم اور مہنگائی کے ہاتھوں اسٹریٹ چلڈرنز کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ فوری حل طلب ہے
بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے،نسل کی بقاء اور مستقبل کا معاملہ ہے
حکومت ملک میں بچوں کی آبرو ریزی، اغواء اور قتل کے واقعات پر سنجیدگی سے نوٹس لے
بچوں کے تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں، پاسبان کا مطالبہ

اقبال ہاشمی نے کہا کہ یونیسیف کے عالمی دن کے موقع پر حسنین کی موت اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکومت ناکام ترین حکومتوں میں سے ایک ہے۔ جو حکمران اقتدار میں ہونے کے باوجود اپنے ملک کے معصوم بچوں کے لئے کچھ نہیں کر سکتے وہ عوام کی بہتری کے لئے خاک اقدامات کریں گے؟ کمسن بچوں کے خلاف ہراساں کئے جانے کے واقعات میں خافناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ کتوں کے بھنبھوڑنے کے واقعات اور ہلاکتوں کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے اور تا حال اس کے خلاف کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جا سکا۔ مہنگائی اور بیروزگاری کے مارے ماں باپ بچوں کی تعلیم کا سلسلہ منقطع کروانے پر مجبور ہیں، اسٹریٹ چلڈرنز میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ تعلیم کے دروازے بچوں کے لئے بند کئے جا رہے ہیں۔ کیا اس طرح ہمارا مستقبل سنور سکتا ہے؟ انہوں نے بچوں کے حقوق کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ بچوں کے تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں۔بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ یہ نئی نسل کی بقاء اور مستقبل کا معاملہ ہے۔بچوں کو انصاف، جان و مال اور عزت کا تحفظ اور پُر امن ماحول دینے کے لئے کوششیں کرنا ہوں گی۔اگر اپنی نسل کو بچانا ہے تو انہیں تحفظ دیں ورنہ ستر سال بعد بھی ہم وہیں کھڑے ہونگے جہاں آج ہیں۔حکومت ملک میں بچوں کی آبرو ریزی، اغواء اور قتل کے واقعات پر سنجیدگی سے نوٹس لے اور مجروں کو فوری اور کڑی سے کڑی سزا دے کر نشان عبرت بنائے تا کہ دوسرے لوگ اس سے سبق حاصل کریں۔کتوں کے کاٹنے کے واقعات کی روک تھام کے لئے فوری مہم چلائی جائے۔ شہر اور دیہات میں ریبیز کی ویکسین کی دستیابی یقینی بنائی جائے#


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں