معروف تاجر شہزادہ جان کو ہزاروں اشک بار آنکھوں کے سامنے سپرد خاک کیا گیا۔ نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔

معروف تاجر شہزادہ جان کو ہزاروں اشک بار آنکھوں کے سامنے سپرد خاک کیا گیا۔ نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔

چترال(گل حماد فاروقی) معروف تاجر حاجی شہزادہ جان ولد حریر جان مرحوم کو ہزاروں اشک بار آنکھوں کے سامنے سپرد خاک کیا گیا۔ شہزادہ جان  کل رات حرکت قلب بند ہونے سے اچانک انتقال کر گئے۔ ان کی نماز جنازہ کیلئے آنے والے لوگوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ شیاقو ٹیک   کے جامع مسجد میں نماز عصر پڑھنے والوں کیلئے جگہہ کم پڑ گئی اور مفتی صاحب نے فتوٰ ی دیا  کہ وہ گروہوں میں نماز باجماعت پڑھی جائے پہلے ایک گروپ  نے نما ز پڑھ کر مسجد حالی کردی اور اس کے بعد دوسرے گروپ نے دوسری مرتبہ جماعت پڑھ لی۔ 
ان کا نماز جنازہ شیاقو ٹیک کے فٹ بال گراؤنڈ میں پڑھائی گئی جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ نمازہ جنازہ  جماعت اسلامی کے امیر قاری جمشید نے پڑھائی اس موقع پر دروش سے تعلق رکھنے والے معروف شحصیت قاری جمال عبد الناصر نے عوام  کو پند و نصیحت کرتے ہوئے  کہا کہ نیک لوگوں کی یہی نشانی ہوتی ہے کہ ان کے نماز جنازہ میں اتنے لوگ شرکت کرتے ہیں کہ مسجد میں نمازیوں کیلئے جگہہ کم پڑتی ہے۔ 
شہزادہ جان کا گول دور پرانا پی آئی اے چوک میں دکان تھا اور وہ نہایت خوش اخلاق اور ہنس مک شحصیت کے مالک تھے  اور لوگوں  کے ساتھ نہایت ملنساری سے ملا کرتے تھے  ان کا والد بھی معروف تاجر حریر جان مرحوم  نامی گرامی شحصیت تھے۔ 
شہزادہ جان مرحوم  امجد حریر  محکمہ صحت، فرداد حسین اور انجم حریر کے بڑے بھائی تھے  جبکہ حاجی وزیر جان کے بھتیجے، الیاس احمد، زبیر احمد، سہیل احمد،  شعیب احمد ایڈوکیٹ کے چچا زاد بھائی تھے  ان کی عمر صرف 45 سال تھی اور حرکت قلب بند ہونے سے ان کا موت واقع ہوا۔ چترال میں خودکشی کے بعد حرکت قلب سے مرنے والوں کی تعداد دوسری نمبر پر ہے مگر بد قسمتی سے ان دونوں بیماریوں کیلئے کوئی سپیشلسٹ ڈاکٹر موجود نہیں ہے۔ نہ تو پورے چترال کوئی سائکاٹرسٹ ہے اور نہ کارڈیالوجسٹ جو یقینی طور پر ایک لمحہ فکریہ ہے۔

Previous Post Next Post