یروشلم پر خوف کے سائے، تحریر فیض العزیز

عنوان ۔ یروشلم پر خوف کے سائے۔      

کاتب۔ فیض العزیز فیض
دنیا کے جن شہروں کو عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ان میں سرفہرست یروشلم ہے۔ یہ روئے زمین پرواحد شہر ہے جسے تینوں سماوی مذاہب اسلام، مسیحیت اور یہودیت کے ماننے والے یکساں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہود کا عقیدہ ہے کہ یروشلم ہی وہ مقام ہے جہاں سے تخلیقِ کائنات کی ابتداء ہوئی۔ مسیحی سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کو یہیں مصلوب کیا گیا تھا اور یہیں ان کا سب سے مقدس کلیسا واقع ہے۔ مسلمانوں کے اعتقاد کے مطابق پیغمبر اسلام نے معراج پر جانے سے قبل اسی شہرمیں واقع مسجدِ اقصیٰ میں تمام نبیوں کی امامت کی تھی۔ یروشلم بنی نوع انسان کو ہدایت و بھلائی کی تبلیغ کرنے والے بےشمار انبیاء اور مصلحین کا مسکن بھی رہا ہے، یہاں ان الوہی وجودوں کی یادگاریں اور آثار موجود ہیں۔



یروشلم کو مختلف قوموں نےاپنے عقیدے اور تہذیب کی بناء پر کئی ناموں سے موسوم کیا ہے۔ یہودی اور مسیحی اسے یروشلم پکارتے ہیں اور یہودی علماء اس نام کو جدالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام سے منسوب کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک حضرت ابراہیم نے اسے جریح (JEREH) کا نام دیا اور شلم کا اضافہ شیلم (SHELM) یا شالم نے کیا جو 2008 قبل مسیح میں یہاں کا حکمران تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق یروشلم دو عبرانی لفظوں ’یرو‘ اور ’شلیم‘ سے مل کر بنا ہے جس کے معنیٰ ’ورثہ امن‘ (The Inheritance Of Peace) کے ہیں۔ کتابِ پیدائش کے مطابق دو چھوٹی بستیاں جیبس (JEBUS) اور سلم (SALAM) ایک ہوئیں تو یروشلم بنا اور انہی بستیوں کے نام سے نئے شہر کا نام بھی مرکب ہو گیا۔ 

جو بعد میں یروشلم بن گیا۔ کچھ مؤرخین دو سمتی الفاظ یوری (URI) بمعنیٰ شہر اور سلم (SALIM) (دیوتائے امن کا نام) کا مرکب قرار دیتے ہیں اور اسی بناء پر اسے ’دیوتائے امن کا شہر‘ کہتے ہیں۔ مسلمانوں نے اس شہر کو القدس (پاکیزہ شہر)، بیتُ المُقَدَّس (متبرک گھر) اور بیت المَقْدِس (پاک مقام) سے موسوم کیا ہے۔اسرائیلی پارلیمان نے 1950 ہی سے یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دے رکھا ہے اور پارلیمان و اعلیٰ عدلیہ سمیت کئی اہم مرکزی ادارے بھی یروشلم میں ہیں۔ لیکن دنیا اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے احترام میں یروشلم کی بجائے تل ابیب کو اسرائیل کا دارالحکومت مانتی ہے اور دنیا کے تمام ممالک نے اپنے سفارت خانے تل ابیب میں ہی قائم کر رکھے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کے مطابق ’یروشلم 70ء سے اسرائیل کا دارالحکومت ہے۔ یروشلم ہماری امیدوں، خوابوں اور دعاؤں کا مرکز رہا ہے۔ یروشلم یہودیوں کا تین ہزار سال سے دارالحکومت رہا ہے۔ یہاں پر ہماری عبادگاہیں رہی ہیں، ہمارے بادشاہوں نے حکمرانی کی ہے اور ہمارے پیغمبروں نے تبلیغ کی ہے۔

یروشلم یا بیت المقدس کہنے کو تو شہرِ امن اور متبرک شہر ہے مگر اس کی تاریخ بتاتی ہے کہ بمشکل دس دن ہی اسے گزرے ہوں گے جب اس کے باسیوں کو امن و سکون نصیب ہوا ہوگا۔ نوع انسانی کی خون آشام تاریخ اپنے آپ کو بار بار دہراتی رہی ہے‘ اس شہر پر قبضے کے لیے ہونے والی لڑائیوں کا شمار ناممکن اور یہاں مرنے و مجروح ہونے والوں کی گنتی انسانی ذہن کو تھکا دینے والی ہے۔ یہ مقدس شہر کتنی ہی بار اجڑا اور پھر اسی تابانی کے ساتھ دوبارہ آباد ہوا۔ حملہ آوروں نے ہر بار اس کی اینٹ سے اینٹ بجائی مگر آبادکاروں نے پھر اسے جوش و خروش سے تعمیر کیا۔ حالیہ امریکی فیصلہ یروشلم کو پرامن بنائے گا یا اس کی تاریخ میں ایک اور بربادی کا اضافہ کرے گا‘ اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کر سکتا ہے۔ سرِدست یروشلم پر خوف کے سائے ایک بار پھر گہرے ہو گئے ہیں۔


Previous Post Next Post