-->

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

10 جنوری، 2020

یو این ایچ سی آر اور پی پی اے ایف نے افغان پناہ گزینوں اور انکے پاکستانی میزبانوں کیلئے آمدن کے منصوبے کا آغاز کردیا

 

یو این ایچ سی آر اور پی پی اے ایف نے افغان پناہ گزینوں اور انکے پاکستانی میزبانوں کیلئے آمدن کے منصوبے کا آغاز کردیا 



اسلام آباد (8 جنوری، 2020) اقوام متحدہ کا ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر)اور پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف) نے افغان پناہ گزینوں اور انکے میزبان پاکستانی لوگوں کیلئے پائیدار آمدن کے منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ 

اس منصوبے کی لاگت 320 ملین روپے ہے۔ پی پی اے ایف کے لائیولی ہوڈ پروگرام سے پہلے ہی 3 ہزار پاکستانی گھرانے مستفید ہوچکے ہیں۔ اس نئے منصوبے سے مزید تین ہزار گھرانے مستفید ہوں گے اور اس سلسلے میں خیبرپختونخوا کے دو علاقوں مانسہرہ اور پشاور جبکہ بلوچستان کے علاقے چاغی میں پروگرام نافذ کیا جائے گا۔ 

اس منصوبے کے تحت انتہائی غریب اور پسماندہ گھرانوں کو زراعت کے شعبے میں اور اپنا کام شروع کرنے میں جن میں لائیو اسٹاک کے ساتھ ساتھ مالیاتی خدمات کی رسائی بھی فراہم کی جائے گی۔

یو این ایچ سی آر کا یہ منصوبہ حکومت کے غربت کے خاتمے کا پروگرام۔احساس پروگرام سے بھی مماثلت رکھتا ہے اور یہ پروگرام حکومت کے غربت میں کمی لانے کے منصوبے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ 

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین پاکستان کی نمائندہ رووینڈر رینی مینیک ڈیویلا نے کہاکہ ایسے پروجیکٹس سے انتہائی غربت میں گھرے لوگوں کی زندگیوں میں مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے افغان پناہ گزینوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور انکے مقامی میزبانوں کو غربت سے باہر نکلنے میں مدد ملے گی جبکہ انہیں روزگار کے موثر مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ 

انہوں نے مزید کہا، " ایک بار پناہ گزینوں کو مختلف اقسام کی درکار مہارتیں حاصل ہو جائیں تو پھر وہ اپنی خود کفالت کی جانب کام کرسکیں گے اور بااختیار ہوجائیں گے۔ یہ لوگ نہ صرف اپنے علاقے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں گے بلکہ جب وہ افغانستان واپس لوٹیں گے تو اس وقت بھی وہ معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔"

پی پی اے ایف کے چیف ایگزیکٹو آفیسر قاضی عظمت عیسیٰ نے بتایا کہ اس پروجیکٹ سے پاکستان میں رہائش پذیر ہزاروں افغان پناہ گزین مستفید ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ غریب طبقوں کو غربت سے باہر نکالنے اورانکے لئے آمدن کے پائیدار مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ جس سے انکی مجموعی صلاحیتوں میں بہتری آئے گی اور وہ مالیاتی طور پر بااختیار بنیں گے۔ "

اس پروگرام میں ایسے گھرانوں کو شامل کیا جاتا ہے جن کی یومیہ آمدن 1.25 ڈالر سے کم ہو اور وہ بنیادی سہولیات سے محروم ہوں۔ لوگوں کو آمدن کے مواقع فراہم کرنے اور انہیں خود کفیل بنانے کے لئے جدید اور رائج طریقوں کو اپنایا جاتا ہے۔ 


گزشتہ سال یو این ایچ سی آر اور پی پی اے ایف نے خیبرپختونخوا کے علاقے صوابی اور بلوچستان کے علاقے پشین میں 1.2 ملین ڈالر مالیت کا پائلٹ پروجیکٹ نافذ کیا تھا۔ اس پروجیکٹ سے 2 ہزار گھرانے بشمول 70 فیصد افغان پناہ گزین اور 30 فیصد انکے پاکستانی گھرانے مستفید ہوئے تھے۔ 

پی پی اے ایف کے غربت کے خاتمے کا طریقہ سماجی طور پر منظم، آمدن میں اضافے اور مالیاتی سہولیات کے امتزاج سے کام کرتا ہے۔ یہ طریقہ کار فوری ضروریات کے لئے تعاون کے ساتھ طویل المیعاد بنیادوں پر انسانی سرمایہ اور وسائل کی ترقی کے لئے معاون ہے۔ 

پی پی اے ایف ملک میں کمیونٹی کی بنیاد پر ترقی لانے والا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ یہ نجی شعبے میں کام کرنے والا ادارہ ہے جو انتہائی غریب ترین اور پسماندہ دیہی طبقات کو سرکاری پالیسی کے تعاون سے وسیع اقسام کی مالیاتی اور غیرمالیاتی خدمات فراہم کرتا ہے۔ پی پی اے ایف کی جانب سے اپنی شراکتی تنظیموں اور کمیونٹی اداروں کی صلاحیتوں میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری سے پاکستان بھر کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں غربت کا خاتمہ کیا جاچکا ہے۔ 




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں