-->

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

27 فروری، 2020

چترال ریشن میں دکانوں پر چوروں کا حملہ، تالہ توڑ ، دیوار توڑ چور گروہ ایک بار پھر سرگرم، اب تک کئی دکانیں توڑی گئی ہیں؛ پولیس حفاطت کی ذمہ داری لینے سے معذرت خواہ

 

چترال ریشن میں دکانوں پر چوروں کا حملہ،  تالہ توڑ ، دیوار توڑ چور گروہ ایک بار پھر سرگرم، اب تک کئی دکانیں توڑی گئی ہیں؛ پولیس حفاطت کی ذمہ داری  لینے سے معذرت خواہ



چترال (ٹائمزآف چترال نمائندہ خاص 27 فروری 20 )   چترال ریشن میں دکانوں پر تالہ توڑ ، دیوار توڑ چور گروہ سرگرم ہوگیا ہے۔ اب تک متعدد دکانوں کا صفایا کر چکے ہیں۔  ریشن بازار میں واقع متعدد دکانوں کو گزشتہ ہفتے رات نا معلوم  چور گروہ نے تالے اور دیواریں توڑ کر  لوٹ چکا ہے۔  ایک ہی رات کو 4 سے پانچ دکانیں میں داخل ہوئے ہیں اور پیسوں سمیت قیمتی اشیاء لیکر فرار  ہوگئے تھے۔ گزشتہ رات پھر اس بار پھر گروہ نے دکانوں پر دھاوا بول دیا۔ چترال ، ریشن کے علاقے راغین میں دینار علی نامی شخص کی موبائل کی  دکان میں  چھت توڑ کر اور برابر والی گیرج کی دیوار توڑ کر داخل ہوئے اور نقدی سمیت قیمتی موبائل لیکر فرار ہوئے۔ 

پولیس کو اطلاع دی گئی تاہم پولیس آئی جائے وقوعہ کا جائزہ لینے کے بعد دکانوں کی حفاظت کی ذمہ دکانداروں پر ڈال دی۔  لوگوں کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ان کی دکانوں کی حفاظت نہیں کر سکتے، اپنے املاک کی حفاظت وہ خود کریں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر چترال پولیس کر رہی ہے تو کیا کر رہی ہے۔ شہر کی طرح دیہات میں پولیس کا کام تھانوں میں بیٹھنے کے علاوہ ہوتا  کیا ہے۔  کیوں نہ ہر گاؤن میں رات کے پہرے کے لئے پولیس کی 2 نفری تعینات کئے جاتے۔ پولیس گشت کیوں نہیں کر رہی ۔ کیا تھانوں میں رہنے کے لئے پولیس ہے۔  عوام کا حکومت اور آئی جی پولیس خیبر پختونخواہ سے سوال ہے کہ آخر عوام اور ان کے املاک کی حفاظت کون کریگا۔ چوروں کو پکڑ کر ان کے لوٹے ہوئے مال کون واپس دلائے گا۔ 




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں