سی اینڈ ڈبلیو ان ایکشن۔ میڈیا میں خبر آنے پر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے چترال ائیرپورٹ روڈ پر بہتا ہوا پانی بند کرکے سڑک کی مرمت شروع کردی۔

سی اینڈ ڈبلیو ان ایکشن۔ میڈیا میں خبر آنے پر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے چترال ائیرپورٹ روڈ پر بہتا ہوا پانی بند کرکے سڑک کی مرمت شروع کردی۔



چترال (نامہ نگار) چترال ائیرپورٹ، گرم چشمہ روڈ پر کئی دنوں سے پانی بہہ رہا تھا جس کی وجہ سے نہ صرف اس سڑک پر چلنے والے راہ گیروں کو مشکلات کا سامنا تھا بلکہ پانی کی وجہ سے سڑک بھی تباہ ہورہا تھا اور دریا کی جانب اس کی کٹائی ہورہی تھی۔ چترال کے مقامی صحافی گل حماد فاروقی نے اس سڑک کے بارے میں میڈیا میں خبر چلایا جس پر حکومت نے ایکشن لیتے ہوئے فوری طور پر اس سڑک کی مرمت کا کام شروع کیا۔ 





محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس (مواصلات) کے ایگزیکٹیو انجنئیر عثمان یوسف شنواری نے فوری طور پر ٹھیکدار کو کام پر لگایا۔ کیلاش قبیلے سے تعلق رکھنے والے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں پہلے سب انجنئیر خالد بشیر نے بتایا کہ ایکسئین نے ان کو ہدایت کی کہ اس سڑک پر بہتا ہوا پانی کو فوری رکوادیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فی الحال سڑک کے بیچ میں پائپ رکھا جس کے اندر سے پانی بہہ کر سڑ ک کو بچایا جائے گا اور بعد میں اس کا ٹنڈر ہونے کے بعد چیو پل سے ائیر پورٹ تک سڑ ک کو تارکولی بنایا جائے گا۔ 

واضح رہے کہ چیو پل کے قریب یہ سڑک پچھلے سال دریا میں گر چکا تھا جو نہایت حطرناک تھا اور اس سے قدرے فاصلے پر دو سال قبل بھی اسی طرح سڑک ٹوٹنے کی وجہ سے ایک مسافر گاڑی دریا میں گرگیا تھا جس میں نو لوگ جاں بحق ہوئے تھے۔ اسی جگہہ پچھلے سال ایک بار پھر سڑک دریا کی جانب گر چکا تھا جس میں ایک بار پھر بڑے حادثے کا حطرہ تھا۔ اسی صحافی نے دو مرتبہ اس حطرناک جگہہ پر میڈیا میں خبر چلایا جس پر پانچ مہینے بعد کاروائی ہوئی اور اس کی بھی مرمت کا کام شروع ہوا۔ اس حطرناک جگہہ پر میڈیا میں بار بار خبر چلانے کا واحد مقصد یہ تھا کہ کہیں ایک بار پھر خدا نحواستہ اس میں مسافر گاڑی گر کر قیمتی جانیں ضائع نہو۔

چترال کے عوام نے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے موجودہ ایگزیکٹیو انجنئر عثمان شنواری کا شکریہ ادا کیا کہ چلو دیر آئد درست آئد۔ کم از کم اس حطرناک جگہہ کی مرمت کرکے انسانی جانوں کو بچانے کی کوشش تو کی گئی۔ امید ہے کہ صوبائی حکومت بھی بہت جلد اپنا وعدہ پورا کرکے چترال کی خوبصورتی کیلئے بیوٹی فیکیشن آف چترال کے نام پر جو پچاس کروڑ روپے کا اعلان کیا گیا تھا اس وعدے کو عملی جامہ پہنا کر چترال کی سڑکوں کی مرمت اور پحتگی کے ساتھ ساتھ دریا کی جانب سڑک کے کنارے حفاظتی دیواریں مظبوط قسم کی تعمیر کرائیں گے تاکہ سیاح دریا میں گرنے سے بچ جائے۔ 


Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

Previous Post Next Post