دریائے چترال میں مٹی اور کچرا ڈالنے سے دریا کا پانی زہر آلود ہونے اور دریا کا سطح بلند ہونے کا خطرہ۔ حکام نوٹس لے۔

دریائے چترال میں مٹی اور کچرا ڈالنے سے دریا کا پانی زہر آلود ہونے اور دریا کا سطح بلند ہونے کا خطرہ۔ حکام نوٹس لے۔



چترال (گل حماد فاروقی) دریا ئے چترال میں ٹنوں کے حساب سے مٹی، ملبہ اور گندگی پھینکنے سے دریا کا سطح بلند ہونے کا حطرہ ہے اور پانی بھی آلودہ ہوکر زہریلا بن جاتا ہے۔ چترال ائیرپورٹ، گرم چشمہ روڈ پر چیو پل کے قریب دریا میں بیسیوں ٹرک مٹی اور ملبہ گرایا گیا ہے جس سے دریا کا سطح کافی حد تک بلند ہوا ہے مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ ماحولیات تحفظ ایکٹ Environmental Protection Act کی یہ سراسر حلاف ورزی کرنے پر انتظامیہ کو کانوں خبر نہیں ہوئی۔اسی جگہہ دنیا جہاں کی گندگی دریا مین پھینکا گیا ہے جو نظر بھی آتا ہے اور اس کی بدبو سے بھی راہگیر پریشاں ہوتے ہیں۔



اسی پانی کو نیچے جاکر لوگ استعمال کرتے ہیں اور دروش کے بعض علاقوں میں دریا کے کنارے رہنے والے لوگ اسی پانی کو پینے اور کھانا پکانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسی پانی کو نیچے اضلاع میں لوگ آبپاشی کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ ماہرین کا حیال ہے کہ زہریلا پانی کی استعمال سے ہیپا ٹائٹس بی اور سی کی موذی بیماری لاحق ہوتی ہے جو بعض اوقات لا علاج بن جاتی ہے۔ دریائے چترال میں ٹنوں کے حساب سے چیو پل کے قریب یہ ملبہ انتظامیہ کی ناک کے نیچے گرایا جاتا ہے مگر ابھی تک اس پر ضلعی انتظامیہ اور تحصیل میونسپل انتظامیہ کو یا تو کانوں کان خبر نہیں ہوئی یا انہوں نے چھپ کی سادھ لی ہے۔ 

ہمارے نمائندے میں انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی میں کام کرنے والے ایک ماہر سے رابطہ کیا جن کا جواب تھا کہ دریا میں کسی قسم کی بھی گندگی، گھٹر لائن کی ڈالنا اور مرغیوں کی فضلہ وغیرہ ڈالنے سے پانی آلودہ ہوجاتا ہے اور یہ زہر آلود پانی پینے سے متعدد بیماریاں لگ جاتی ہیں۔ 

اس سلسلے میں ہمارے نمائندے نے ڈپٹی کمشنر چترال سے بارہا رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر ان سے رابطہ نہ ہوسکا تو اسسٹنٹ کمشنر چترال عبد الولی خان سے رابطہ کیا انہوں نے نہ صرف ان کی بات سنی بلکہ اسی وقت جاکر موقع کا ملاحظہ کیا۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ دریائے چترال میں ٹنوں کے حساب سے یہ مٹی، پتھر، ملبہ، گندگی پھیکنے سے لوگوں کو روکنا کس کی ذمہ داری ہے تو سب سے پہلے انہوں نے ہمارے نمائندے کا شکریہ ادا کیا کہ اتنے حساس معاملے کی طرف ان کی توجہ مبذول کرایا اور اس کے بعد ان کا جواب تھا کہ یہ ضلع انتظامیہ کا کام ہے۔ انہوں نے اپنے عملہ کو حکم دیا کہ جس نے بھی یہ مٹی اور ملبہ دریا میں گرایا ہے ان سے رابطہ کرکے اسے واپس دریا سے نکالا جائے ورنہ اس کے حلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔ 

دریں اثناء اے سی چترال عبد الولی خان نے چترال پریس کلب کے عمارت میں واقع ہسپتال روڈ پر ادویات کی دکانوں کا بھی معائنہ کیا جہاں صرف ایک کیمسٹ والے کے پاس ماسک موجود تھی اور باقی کے پاس بھی ماسک نہیں تھی۔ اس کی وجہ پوچھنے پر پتہ چلا کہ پشاور اور نیچے اضلاع سے ڈسٹری بیوٹر نے اس کی قیمت چارگنا کردی ہے اسلئے وہ نہیں منگواتے۔ اے سی چترال نے اس کے بعد شاہی بازار میں پٹھانوں کے مارکیٹ کا معائنہ کیا جہاں ان پٹھانوں کے پاس نہ صرف وافر مقدار میں ماسک موجود تھے بلکہ ان کی قیمت بھی نہایت مناسب تھی۔ ڈسپوز ایبل ماسک دس روپے کا، سنگل کپڑے والا ماسک بیس روپے، ڈبل کپڑے والا ماسک تیس روپے، خواتین والا ماسک جس پر نقش و نگار بھی ہوئی تھی وہ پچاس روپے کا ملتا تھا۔ اے سی چترال نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا اور دکانداروں پر زور دیا کہ وہ مصیبت کے اس وقت میں ذخیرہ اندوزی اور قیمتیں بڑھانے سے گریز کرے اور انتظامیہ کے شانہ بشانہ عوام کی خدمت میں اپنا کردار ادا کرے۔ 

واضح رہے کہ دریائے چترال میں مقامی مرغی فروش چوری چھپے مرغیوں کا فضلہ بھی ڈالتے ہیں اور چیو پل کے قریب جہاں ایک پہاڑی کو کسی نے خریدا ہے اسے کاٹ کر اس کا سارا مٹی دریا میں ڈالا ہے جس سے دریا کا سطح بلند ہورہا ہے اور محالف سمت میں رہنے والے لوگوں کیلئے حطرہ ہے کہ سیلاب کی صورت میں ان کی آبادی زیر آب آسکتا ہے۔ تاہم اسسٹنٹ کمشنر چترال نے ہمارے نمائندے کے نشان دہی پر یقین دہائی کرائی ہے کہ وہ اس ملبے اور مٹی کو اسی شحص سے واپس دریا سے نکلوادے گا جس نے یہ دریا میں ڈالا ہے۔ انہوں نے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی جانب سے کلورٹ اور پانی کی نکاسی کے کام کا بھی معائنہ کیا اور اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کام ناقص ہے اور وہ اسے ہرگز ایسا نہیں کرنے دیں گے۔


Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

Previous Post Next Post