-->

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

25 مارچ، 2020

چترال سے اور مشتبہ مریض کو ٹیسٹ کے لئے پشاور بھیج دیا گیا، حنیف اللہ ایک ہفتہ قبل کراچی سے آیا تھا، پورے چترال میں کہیں بھی کورونا وائریس ٹیسٹ، سکریننگ اور لیبارٹری کی کوئی سہولت موجود نہیں

 

چترال سے اور مشتبہ مریض کو ٹیسٹ کے لئے پشاور بھیج دیا گیا،  حنیف اللہ ایک ہفتہ قبل کراچی سے آیا تھا، پورے چترال میں کہیں بھی کورونا وائریس ٹیسٹ، سکریننگ اور لیبارٹری کی کوئی سہولت موجود نہیں



چترال (گل حماد فاروقی) چترال میں ایک تیسرا مشتبہ مریض کو بھی پشاور ریفرکیا گیا۔ حنیف اللہ نامی طالب علم جو گورنمنٹ ڈگری کالج میں سیکنڈ ائیر کا طالب علم ہے وہ ایک ہفتہ قبل کراچی سے آیا تھا۔ طبیعت حراب ہونے پر اسے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال لے گئے جہاں کورونا وائریس کی تشحیص کی سہولیات موجود نہ ہونے کی وجہ سے اسے پشاور ریفر کیا گیا۔ مریض کے گھر اور رشتہ داروں کے دو گھرانوں میں بھی پولیس اور چترال لیوی پہرہ دے رہے ہیں متاثرہ گھروں میں لوگوں کی آمد و رفت پر پابندی لگائی گئی ہے۔ 

سماجی کارکن اقبال مراد جن کا تعلق بالائی چترال کے تحصیل تورکہو سے ہے اور بکر آباد میں عرضہ دراز سے مقیم ہے انہوں نے سوشل میڈیا پر چند تصاویر لگائے ہیں جس میں اقبال مراد خود کھڑا ہے اور اس کے گھر کے باہر لان میں ایک پولیس اور تین چترال لیویز اہلکار کرسیوں پر بیٹھ کر پہرہ دے رہے ہیں۔ اقبال مراد نے سوشل میڈیا میں ایک پوسٹ بھی لگایا ہے جس میں چترالی زبان میں سارا قصہ بیان کیا ہے۔ 

ہمارے نمائندے نے اقبال مراد کو فون کرکے تفصیلات جاننا چاہی تو اقبال مراد نے بتایا کہ اس کا بھتیجا حنیف اللہ ولد عزت اللہ جو گورنمنٹ ڈگری کالج چترال میں سیکنڈ ائیر کا طالب علم ہے وہ 19 مارچ کو کراچی گیاتھا وہاں سے واپسی پر اسے زکام، بخار اور درد کا تکلیف ہونے لگا جبکہ میرے بھتیجے کا پہلے حادثہ ہوا تھا جس میں وہ زحمی ہوا تھا اس کے بعد اس دماغی حالت بھی کمزور ہے اکثر اسے بھولنے کی بیماری لگتی ہے اور اس کے بعد اسے مرگی کا دورہ بھی پڑتا تھا Elipsy۔ 

اقبال مراد کے مطابق جب حنیف اللہ کی طبیعت زیادہ حراب ہوئی تو اسے ہم ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال لے گئے جبکہ اس کا والد بھی ہسپتال میں میڈیکل ٹیکنیشن ہے۔ ہسپتال میں چونکہ کورونا وائریس کی تشحیص کیلئے نہ تو کوئی سکینر مشین موجود ہے نہ لیبارٹری اسلئے مریض کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور ریفر کیا گیا اقبال مراد نے یہ بھی شکایت کی کہ میرے بھائی کو مریض کے پاس ایمبولنس کے اندر ہی بٹھایا گیا جسے نہ ماسک دیا گیا نہ حفاظتی لباس۔ جبکہ ایمبولنس کے ڈرائیور کے پاس ماسک، اور حصوصی لباس میں وہ ملبوس تھا او ر فرنٹ سیٹ پر کسی اور شحص کو بٹھایا گیا۔ 

اس کے مطابق مریض کو وہاں سے پولیس ہسپتال لے گئے تاہم ابھی تک اس کا جو ٹیسٹ ہوا ہے اس کا رزلٹ نہیں آیا ہے۔انہوں نے یہ بھی شکوہ کیا کہ مریض کے پاس نہ تو چترال کا ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر پوچھنے آیا نہ ہسپتال کا میڈیکل سپرنٹنڈنٹ۔ جبکہ مریض کا والد خود ہسپتال کا عملہ ہے۔ اس کے مطابق مریض کو جب پشاور لے گئے تو وہاں ان کے ساتھ طب کے عملہ نے بہت تعاون کیا اور ان کے ساتھ نہایت اچھا برتاؤ کیا۔ اس کے مطابق اس کے گھر میں اور میرے برادری کے دو گھرانوں میں بھی ایک پالیس اور تین چترال لیویز اہلکار ڈیوٹی پر مامور ہیں اور ہمار ا باہر آنا جانا یا باہر سے کسی کو ہمارے گھر آنا منع ہے تاکہ ہم کورنٹائن میں رہ کر خود کو بھی اور دوسرے لوگوں کو بھی محفوظ رکھ سکے۔ 

انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ایک طرف ملک بھر میں حالات اتنے سنگین ہیں اور حکومت دعوے کررہے ہیں کہ ہم اس وبا کے ساتھ جنگی بنیادوں پر نبرد آزما ہوں گے مگر لوئیر اور اپر چترال کے دونوں اضلاع میں کورونا وائریس کی تشحیص کیلئے کوئی سکینر، لیبارٹری یا کوئی مشنری تک موجود نہیں ہے جس سے اس بات کی تصدیق ہوسکے کہ مریض میں کورونا وائریس موجود ہے یا نہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ چترال سے پشاور جانے میں پندرہ گھنٹے لگتے ہیں اگر کسی مشتبہ مریض میں خد نحواستہ کورونا کا وائریس موجود ہو تو وہ چترال سے پشاور تک پورا علاقہ متاثر کرسکتا ہے۔انہوں نے وزیر اعظم پاکستان، وزیر اعلےٰ خیبر پحتون خواہ سے اپیل کی ہے کہ چترال کے دونوں اضلاع میں کم از کم ایک ایک ایسا مرکز صحت ہنگامی بنیادوں پر قائم کیا جائے جہاں کورونا وائریس کی تشحیص سے لیکر علاج معالجے تک تمام سہولیات میسر ہو۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں