-->

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

21 مارچ، 2020

چترال میں نہ تو کرونا وائریس سے نمٹنے کا کوئی معقل انتظام نہیں، علاج نا مکمن، ضلعی انتظامیہ منتحب نمائندوں سے مشاورت کے بغیر غلط فیصلے کرتے ہیں، عوام پریشان ۔ رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی کا پریس کانفرنس سے خطاب۔

چترال میں نہ تو کرونا وائریس سے نمٹنے کا کوئی معقل انتظام نہیں، علاج نا مکمن، ضلعی انتظامیہ منتحب نمائندوں سے مشاورت کے بغیر غلط فیصلے کرتے ہیں، عوام پریشان ۔ رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی کا پریس کانفرنس سے خطاب۔



چترال (گل حماد فاروقی) چترال کی ضلع انتظامیہ کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے سینکڑوں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ۔ چترال میں نہ تو کرونا وائریس کی روک تھام کیلئے محکمہ صحت کے پاس علاج کی سہولت ہے نہ اس کی تشحیص کیلئے کوئی لیبارٹری یا مشنری موجود ہے یہاں تک کہ چترال بھر کے ہسپتالوں میں سرینکر مشین تک نہیں ہے جس سے کرونا وایریس کی تشحیص ہوسکے۔ جب تک منتحب نمائندوں، مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا کوئی بھی منصوبہ کامیاب نہیں ہوگا ان حیالات کااظہار چترال سے منتحب رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کی۔

ان کے ہمراہ جماعت اسلامی کے تحصیل امیر خان حیات اللہ خان، جنرل سیکرٹری فضل ربی جان اور جماعت اسلامی کے یوتھ ونگ کے صدر وجیہ الدین بھی موجود تھے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر لوؤر چترال کی فیصلوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ من مانی کرتے ہیں اور منتحب نمائندوں کو نہ تو اعتماد میں لیتے ہیں اور نہ ان سے مشاورت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وبا پاکستان میں ایک ماہ سے بھی زیادہ عرصہ پہلے آچکی ہے ضلعی انتظامیہ کو چاہئے تھا کہ سب سے پہلے اپنے ڈاکٹروں اور محکمہ صحت کے عملہ کو ٹریننگ دیکر ان کو وہ محفوظ لباس فراہم کرتا جو کورونا وایریس کے مریضوں کا معائنہ کرتے ہوئے ان کی جان بھی محفوظ رہے مگر ابھی تک ان کے پاس کوئی تیاری یا انتظام نہیں ہے۔ 

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں ایسولیشن وارڈ برائے نام تو بنایا گیا ہے مگر وہاں وینٹی لیٹر چار سالوں سے حراب ہے اور اسے کسی چلایا نہیں ہے اس کے علاہ کرونا وایریس کے مشکوک مریضوں کی معائنہ کیلئے سکریننگ مشین تک چترال ہسپتال میں یا قرنطینہ مرکز میں موجود نہیں ہے نہ یہاں لیبارٹری کی سہولت دستیاب ہے جس میں اس وبا ء کی ٹیسٹ کرکے پتہ چل سکے کہ مریض میں یہ وائریس ہے یا نہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اپر چترال کیلئے جو فنڈ کا اعلان کی گئی ہے وہ نہایت کم ہے اسے چار کروڑ تک بڑھایا جائے اور لوئر چترال کیلئے پانچ کروڑ روپے کا فنڈ دیا جائے مگر اس فنڈ کو صحیح معنوں میں ایمانداری خرچ کی جائے تاکہ اس میں کسی قسم کا بدعنوانی نہ ہو۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا چترالی نے صوبائی حکومت پر بھی تنقید کی کہ انہوں نے تین سرکاری ہسپتالوں کو ایک غیر سرکاری ادارے کو دیا ہے جس کیلئے وہ سالانہ کروڑوں روپے کا فنڈ بھی دیتا ہے مگر وہاں کے لوگ ہمیشہ شکایت کرتے آرہے ہیں کہ ان کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جاتی اور ان کو بہت مہنگا علاج فراہم کی جاتی ہے۔

ایم این اے چترالی نے خبردار کیا کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی اس قسم غلط پالیسیوں کی وجہ سے لوگ مشکلات کا شکار ہوں گے اور وہ تنگ آمد بجنگ آمد پر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کرونا وایریس کی روک تھام پر مکمل طور پر حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ دینے کو تیار ہیں بشرطیکہ انتظامیہ ہمیں اعتماد میں لے۔

اس کے بعد ہمارے نمائندے نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کا بھی دورہ کیا اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شمیم سے مل کر ہسپتال کے بارے میں معلومات حاصل کی انہوں نے تصدیق کرلی کہ ایسولیشن وارڈ میں جو چار عدد ونٹی لیٹر نصب ہیں وہ چار سالوں سے کام نہیں کرتے اور نہ ہی ان کے پاس کرونا وایریس کی سکریننگ مشین یا لیبارٹری موجود ہے۔ انہوں نے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ زیادہ تر اپنے گھروں میں رہے اور کسی بھی شک کی بنیاد پر مریض کو چودہ دنوں تک علیحدگی میں رکھے طبیعت زیادہ حراب ہو تو ہسپتال سے رجوع کرے اور بلا وجہ ہسپتال نہ آئے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں