ضلعی انتظامیہ چترال نے کرونا وائرس سے ممکنہ خطرات کے پیش نظر ضلع میں داخل ہونے والے تمام مسافروں کی مختلف پوائنٹس پر ٹسٹ اور سکریننگ کا فیصلہ

ضلعی انتظامیہ چترال نے کرونا وائرس سے ممکنہ خطرات کے پیش نظر ضلع میں داخل ہونے والے تمام مسافروں کی مختلف  پوائنٹس پر ٹسٹ اور سکریننگ کا فیصلہ

چترال(محکم الدین )  ضلعی انتظامیہ چترال نے کرونا وائرس سے ممکنہ خطرات کے پیش نظر ضلع میں داخل ہونے والے تمام مسافروں کی مختلف  پوائنٹس پر ٹسٹ اور سکریننگ کا فیصلہ کیا ہے ۔  ملک میں کرونا وائرس سے متاثر افراد کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے  لویر چترال کے ڈپٹی کمشنر نوید احمد نے  لواری ٹنل، ارندو بارڈر، ارسون اور چترال ائر پورٹ پر ضلعے میں داخل ہونے والے مسافروں کی اسکریننگ کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس وائرس سے متاثرہ کوئی  بھی شخص چترال میں کرونا وائرس پھیلانے کا باعث نہ بن سکے۔ ذرائع کے  مطابق ان مسافروں کی اسکریننگ کی جائے گی جن میں کروناوائرس سے متاثر ہونے کے جملہ علامات میں سے  کوئی ایک علامت پائی جائے۔ جن میں بخار اور ہائی ٹمپریچرکے ساتھ کھانسی اور زکام شامل ہیں۔ فیصلے کے مطابق لواری ٹنل سے چترال میں داخل ہونے والوں کی اسکریننگ بیسک ہیلتھ یونٹ عشریت میں، ارندو بارڈر کے مسافروں کی بیسک ہیلتھ یونٹ ارندو، ارسون بارڈر کے مسافروں کا تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال دروش اور ہوائی جہاز سے آنے والے مسافروں کی ٹسٹ اور سکریننگ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال میں کی جائے گی۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر بڑے اجتماعات ، کھیلوں کے مقابلے اور غیر ضروری بھیڑ  سے احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ضلع اپرچترال کے ڈپٹی کمشنر شاہ سعود نے گلگت بلتستان کے شندور سے آنے والے مسافروں کی اسکریننگ کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا قریب ترین ہسپتال رورل ہیلتھ سنٹر مستوج ہے۔  درین اثناء لویر چترال کے ڈپٹی کمشنر نوید احمد نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ضروری عوامی اجتماعات اور سفر سے گریز کیا جائے اور اس حوالے سے افواہوں اور غیر مستند خبروں کے پھیلانے سے پرہیز کریں ۔ کیونکہ اس قسم کے من گھڑت خبروں اور افواہوں کی وجہ سے    افراتفری پھیلے گی ۔ جس کے نتیجے میں  صورت حال بگڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کرونا وائرس سے انفرادی طور پر بچاؤ کے لئے دئیے گئے اختیاطی تدابیر پر مکمل عمل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ درین اثنا بڑی تعداد میں گلگت بلتستان میں محنت مزدوری کرنے والے افراد شندور کے راستے چترال میں داخل ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ایران سے آنے والے زائرین کے ساتھ وائرس گلگت بلتستان پہنچنےکی خبر یں میڈیا میں آچکی ہیں ۔ جبکہ گلگت چترال کا قریب ترین علاقہ ہونے کی وجہ سے کسی بھی قسم کی کوتاہی کے نتیجے میں چترال کیلئے خطرات موجود ہیں ۔
Previous Post Next Post