-->

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

4 اپریل، 2020

پشاور سے چترال آنی والی فلائنگ کوچ حادثے کا شکار۔ 18 افراد سوارتھے، تین مسافر زحمی

پشاور سے چترال آنی والی فلائنگ کوچ حادثے کا شکار۔ 18 افراد سوارتھے،  تین مسافر زحمی



فلائنگ کوچ میں 18 مسافر سوار تھے کہ جو سعید آباد کے قریب بڑے پتھر سے ٹکرا گئے۔

ریسکیو 1122 نے اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ گئے اور زحمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال لایا۔

چترال (گل حماد فاروقی) آج صبح پشاور سے چترال آتے ہوئے ایک فلائنگ کوچ ویگن جس میں 18 افراد سوار تھے چترال کے مقام سید آباد میں بڑے پھتر سے ٹکرا کر اچانک الٹ گء جس کی اطلاع ریسکیو 1122 چترال کنٹرول کو صبح 4 بجکر 10 منٹ پر دی گئی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیم موقعے پر پر پہنچی اور زخمیوں کو ریسکیو 1122 کے ایمبولینس میں فرسٹ ائیڈ دیکر ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال منتقل کیا.

فلائنگ کوچ ویگن میں 18 افراد سوار تھے جن میں تین افراد زیادہ زخمی تھے اور باقی افراد کو معمولی چوٹیں آئی ہیں.زحمیوں میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ زحمیوں میں بانس نذر اور اس کی بیٹی جن کا تعلق اپر چترال یارخون سے ہے اورحسینہ بی بی کا تعلق بھی اپر چترال تورکہو سے ہے اس کے ساتھ کوئی مرد بھی نہیں تھا اور وہ اکیلی سفر کررہی تھی جسے بھی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال منتقل کیا گیا۔

واضح رہے کہ پشاور سے چترال مسافر گاڑیاں اکثر رات کے تاریکی میں سفر کرتے ہیں جو اس قسم کے حادثات کے شکار ہوتے ہیں چند سال قبل لواری ٹاپ پر بھی ایک کوسٹر الٹ گیا تھا جس میں تیرہ افراد جاں بحق ہوئے تھے اور تریچ سے تعلق رکھنے والے ایک عالم دین کے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد بھی اس حادثے میں جاں بحق ہوئے تھے۔جس کے حلاف عوامی حلقوں نے بار بار آواز اٹھایا کہ ان پر پابندی لگایا جائے مگر اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔

نیز ضلعی انتظامیہ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ پشاور سے آنے والے مسافروں کو لواری کے قریب عشریت میں 

قرنطینہ مرکز میں ٹھرائے جاتے ہیں یا دروش کے قرنطینہ مرکز میں تاکہ ممکنہ کورونا وائریس کی وباء چترال میں نہ پھیلے مگر اس سے معلوم ہوا کہ یہ مسافر براہ راست پشاور سے آرہے تھے اور انتظامیہ نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایک گاڑی میں صرف دو سے چار سواری تک بیٹھ سکتے ہیں مگر اس فلائنگ کوچ میں 18 سواری غیر قانونی طور پر بیٹھے تھے اور انتظامیہ کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی یا انہوں نے غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو چھوڑ دیا جس سے کورونا کی وباء یہاں بھی پھیل سکتی ہے۔ 

چترال کے سیاسی اور سماجی طبقہ فکر نے اس بات پر نہایت مایوسی اور برہمی کا اظہار کیا کہ اگر انتظامیہ حکومتی پالیسی کی خود حلاف ورزی کرکے اٹھارہ مسافروں کو رات کے تاریکی میں ایک ہی گاڑی میں بغٖیر کسی روک ٹوک کے چترال میں چھوڑتے ہیں تو اس سے اس حطرناک وباء کی یہاں پھیلنے کا حطرہ ہے۔ انہوں نے صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مجرمانہ غفلت کے مرتکب سرکاری اہلکاروں کے حلاف قانونی کاروائی کی جائے کیونکہ اگر حکومت نے کروڑوں روپے کا ریلیف گرانٹ بھیجا ہے وہ کہاں خرچ ہوتا ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں