-->

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

30 اپریل، 2020

ای ایم پی جی اور او ایل ایکس گروپ نے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا ء میں کاروبار ضم کرنے کا اعلان کر دیا

ای ایم پی جی اور او ایل ایکس گروپ نے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا ء میں کاروبار ضم کرنے کا اعلان کر دیا



اس ڈیل میں او ایل ایکس گروپ کے پاکستان، مصر، لبنان اور متحدہ عرب امارات کے کاروبار شامل ہیں

اس کاروباری معاہدے میں ای ایم پی جی کے شئیر ہولڈرز اور او ایل ایکس کی جانب سے مشترکہ ۱۵۰ ملین ڈالر نقد شامل ہیں

معاہدے کے بعد ای ایم پی جی کی کاروباری قدر 1 ارب ڈالر ہو چکی ہے۔

کراچی (29 اپریل 2020) خطے میں اُ بھرتی ہوئی پراپرٹی مارکیٹس کے معروف نام ایمرجنگ مارکیٹس پراپرٹی گروپ (ای ایم پی جی) اور عالمی سطح پر کلاسیفائیڈ کاروبارکے لئے مشہور نام او ایل ایکس گروپ نے پاکستان ، مصر، لبنان اور متحدہ عرب امارات کیلئے اپنے کاروبار کو ضم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کاروباری معاہدے میں ای ایم پی جی کے شئیر ہولڈرز اور او ایل ایکس کی جانب سے مشترکہ ۱۵۰ ملین ڈالر نقد شامل ہیں

اس معاہدے کے بعد ای ایم پی جی کی کاروباری قدر 1 ارب ڈالر ہو چُکی ہے۔اس کے بعد او ایل ایکس کے ان چار ممالک میں آپریشنز ای ایم پی جی سرانجام دے گا اور او ایل ایکس گروپ ای ایم پی جی کے ۳۹ فیصد حصص کی ملکیت کے ساتھ اس کمپنی کا سب سے بڑا انفرادی حصص دار بھی ہوگا۔ 

ای ایم پی جی اس سرمایے کو مارکیٹ میں نئی خدمات متعارف کروانے، صارفین کے تجربے کو مزید بہتر کرنے،ڈیٹا کی شفافیت اور مارکیٹ انٹیلی جنس کے معاملات کو کاروبار کیلئے اور صارفین کیلئے مزید بہتر کرنے میں صرف کرے گا۔مصر اور لبنان میں ای ایم پی جی موجودہ او ایل ایکس گروپ کے پلیٹ فارمز کو چلانے کے ساتھ ساتھ رئیل اسٹیٹ صارفین کیلئے نئی خدمات متعارف کروائے گا اور صارفین کو تمام ضمن میں اعلیٰ اور بہترین کام کا تجربہ فراہم کیا جائے گا۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات میں دونوں گروپس کے پلیٹ فارم ای ایم پی جی کے زیر انتظام ہوں گےاور وہ اپنے مقامی ناموں سے ہی کام کریں گے۔ 

ان مارکیٹس میں سالانہ تقریباً ۹۰ ارب ڈالر کی پراپرٹیز کی فروخت عمل پذیر ہوتی ہے جس سے رئیل اسٹیٹ ایجنسیز کو سالانہ تقریباً ۲ ارب ڈالر کا کمیشن حاصل ہوتا ہے ۔اس سے ای ایم پی جی کے پاس ان مارکیٹس میں کاروبار کو فروغ دینے کا شاندار موقع موجود ہے ۔ 

ای ایم پی جی کے سی ای او عمران علی خان نے کہا کہ اپنے قیام سے ہی ای ایم پی جی نے تیزی سے ترقی کی منازل طے کی ہیں،جس میں ہماری پراپرٹی کے حوالے منفرد اور کارآمد سوچ اور جدید ٹیکنالوجی کے درست استعمال کا اہم کردار ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے دنیا بھر کے ایک ارب صارفین کو مسائل کے درست حل دینے کے سفر میں ہم ایک قدم اور آگے بڑھے ہیں۔ 

او ایل ایکس گروپ کے سی ای او مارٹن شیبوور نے کہا کہ اِن چار مارکیٹس میں ہم نے جو تعمیر کیا ہے،اُس پر مجھے فخر ہے،ہمارے برانڈز ہر گھر میں معروف ہیں اور اس وقت لاکھوں لوگوں کوخدمات کی فراہمی اور مختلف اشیاء کی خریداری میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ای ایم پی جی کے ساتھ پراپرٹی کے کاروباری سفر میں آگے بڑھنا دلچسپ امر ہے،ای ایم پی جی کے سب سے بڑے شراکت دار ہونے کے ناطے یہ ہمارے لئے ایک شاندار موقع ہوگا کہ کیسے اِن کی سروسز کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے اور کیسے مستقبل میں کلاسفائیڈ کے کاروبار سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ 

ای ایم پی جی اس وقت خلیجی خطے میں بیوت کے نام سے ، پاکستان میں زمین،بنگلہ دیش میں بی پراپرٹی،مراکش اور تیونس میں مبوّب اور تھائی لینڈ میں کائیڈی کے نام سے کام کر رہی ہے۔اس ڈیل کے بعد ایک جانب تو مصر اور لبنان میں اپنے قدم بڑھاتے ہوئےای ایم پی جی پاکستان، سعودی عرب،کویت، قطر اور اومان میں او ایل ایکس کے پلیٹ فارمز کو چلائے گی اور دوسری جانب متحدہ عرب امارات میں ڈوبی زل کا پلیٹ فارم بھی گروپ کے زیر انتظام ہوگا۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں