-->

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

13 مئی، 2020

کرونا وائرس نے کیلاش قبیلے کے عالمی سطح پر معروف سالانہ تہوار کو بھی متاثر کیا ، وادی میں ہوٹل مالکان شدید مالی مشکلات کا شکار

 

کرونا وائرس نے کیلاش قبیلے کے عالمی سطح پر معروف سالانہ تہوار کو بھی متاثر کیا ، وادی میں ہوٹل مالکان شدید مالی مشکلات کا شکار 



چترال(گل حما د فاروقی) کرونا وائریس نے جہاں پورے دنیا میں تباہی مچائی وہاں کیلاش قبیلے کے سالانہ تہوار کو بھی بری طرح متاثر کرگیا جس کے نتیجے میں کیلاش وادی میں مقیم چالیس ہوٹل مالکان جو سال بھر اس تہوار کا انتظار کرتے ہیں ان کو بھی لے ڈوبا۔ پچھلے سال ایک محتاط اندازے کے مطابق وادی کیلاش میں ساٹھ ہزار گاڑیاں آئی تھی جس میں ڈھائی لاکھ سیاح نے بمبوریت میں قیام کیا تھا۔

پچھلے سال اتنی بڑی تعداد میں سیاح آئے تھے کہ ہوٹل میں جگہہ نہ ملنے کی وجہ سے لوگ فٹ پاتھوں، اور کھیتوں میں بھی سونے لگے تھے۔ عام طور پر کیلاش وادی کے ہوٹل میں کمرہ فی رات ڈیڑھ سے پانچ ہزار تک ملتا ہے مگرحد سے زیادہ رش ہونے کی وجہ سے پندرہ ہزار میں بھی ایک کمرہ بک ہوا تھا۔

چترال میں ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر ادریس خان کے مطابق چترال میں ایک سو پانچ ہوٹل ہیں اور بعض ہوٹل اس سیزن میں فی رات تین لاکھ روپے بھی کما تے ہیں مگر امسال کرونا وائریس کی وجہ سے کوئی بھی سیاح نہیں آیا۔

وادی کیلاش کے تینوں وادیوں میں ہوٹل مالکان چھ مہینے شدید برف باری کے باعث ہوٹل بند ہونے کی نقصان برداشت کرتے ہیں اور وہ صرف کیلاش قبیلے کے سالانہ تہوار چیلم جوش (جوشی) کا انتظار کرتے ہیں اور سال بھر کا خرچہ اسی تہوار میں آنے والے سیاحوں سے نکل آتا ہے۔ وادی بمبوریت میں اس تہوار میں جو سیاح آتے ہیں وہ ان ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں جواس وادی کے لوگوں کا واحد ذریعہ ہے اس کے علاوہ یہاں متعدد دکانیں ہیں جن میں دو کیلاش خواتین کے بھی دکانیں ہیں ان دکانوں میں Antique کی چیزوں کے علاوہ کیلاش لباس اور دیگر چیزیں بھی رکھے گئے ہیں ان کا بھی اچھا حاصا دکانداری ہوتی ہے۔ یہ سب ملاکر وادی کیلاش میں ایک دن میں بیس لاکھ روپے کا آمدنی آیا کرتی تھی مگر بد بخت کرونا وائریس نے ان کو بھی لے ڈوبا اور اب امسال چیلم جوش کا تہوار نہایت پیمانے پر منایا جائے گا جس میں کوئی سیاح متوقع نہیں ہے۔ 

چترال میں دفعہ 144 نافذ کردیا گیا ہے کوئی بھی غیر مقامی شحص این او سی کے بغیر چترال میں نہیں آسکتا اور اگر کوئی مقامی شحص بھی چترال آئے اور اس کے پاس اپنا کرونا ٹیسٹ نہ ہو تو اسے قرنطینہ مرکز میں چودہ دن گزارنا پڑتاہے۔ 

ہوٹل ایسوسی ایشن کے ضلعی صدر ادریس خان نے بتایا کہ کرونا وائریس کی وجہ سے ان کے ہوٹل ویران پڑے ہیں اور کوئی بھی سیاح نہیں آتا۔ ڈاکٹر محمد عدنان بھٹہ نے پچھلے سال کڑاکاڑ میں ایک کروڑ کی لاگت سے ہوٹل تعمیر کرایا مگر اس مرتبہ اس کے ہوٹل کو بھی تھالہ لگا ہے اور کوئی بھی سیاح اس کا رح نہیں کرتا۔ اس وباء کی وجہ سے کیلاش لوگ بھی بری طرح متاثر ہوئے جن کا سال بھر اس تہوار کو انتظار ہوتا ہے اور اس تہوار میں جب ملکی اور غیر ملکی سیاح آتے ہیں تو وہ ان کی دکانوں سے چیزیں خریدتے ہیں چند لوگ آپس میں شراب بھی فروخت کرتے ہیں مگر ایک تو روزہ دوسرا کرونا تو ان دونوں فیکٹر کی وجہ سے کیلاش لوگوں کا معیشت بری طرح متاثر ہوا۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں