-->

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

14 مئی، 2020

چترال کی سرزمین آیون کو پھولوں کا گلستان کہنابجا ہوگا ، وادی میں ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت رنگ برنگے پھول کے باغات سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لاتے ہیں

چترال کی سرزمین آیون کو پھولوں کا گلستان کہنابجا ہوگا ، وادی میں ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت رنگ برنگے پھول کے باغات سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لاتے ہیں




چترال (گل حماد فاروقی) آیون چترال کا وہ خوبصورت وادی ہے جہاں قدرت نے اس وادی کو بے انتہاء خوبصورتی بحشی ہے مگر اس میں علاقے کے باذوق لوگوں نے بھی اپنی تئیں اضافہ کیا ہوا ہے۔ آیون کے ہر دوسرے گھر میں پھولوں کا باغ ضرور پایا جاتا ہے جس میں محتلف اقسام، و انواع اور رنگ برنگی پھولوں کے پودے پائے جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ یہاں کے لوگوں کا آپس میں کسی اور چیز سے نہیں بلکہ پھولوں کے باغوں کا مقابلہ رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس وادی میں ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت پھولوں کا باغ ضرور دیکھنے کو ملتا ہے۔

مگران سب میں حاجی محبوب اعظم کے گھر میں جو باغ ہے اس کی بات کچھ اور ہے لگتا ہے کہ اس نے سب کو مات ماری ہے۔ اس خوبصورت باغ میں ایک ایک پھول کے کئی اقسام اور رنگ موجود ہیں۔ صرف گلاب کے بیس سے زیادہ اقسام اور رنگیں پائے جاتے ہیں۔ یہ جاذب نظر پھول سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لانے پر مجبور کرتے ہیں۔ 

اس باغ کی رکھوالی کیلئے محبوب اعظم نے حصوصی طور پر پشاور سے ایک پیشہ ور اور تجربہ کار مالی فدا ء حسین کو بلایا ہے جو ان پھولوں کی دیکھ بال کرتا ہے۔ اس کے مطابق اس خوبصورت باغ میں گلاب، جلیبن، ڈاگ فلاؤر کے محتلف اقسام، پینزی، پیٹونیا، اس کے علاوہ اس میں فروٹ کے پودے بھی پائے جاتے ہیں جن میں سر فہرست مالٹا، چیری، فروٹر، لیمو، ناشپاتی اور دیگر کئی قسم کے پھلدار درخت بھی پائے جاتے ہیں۔ 

فداء حسین کا کہنا ہے کہ جب بھی کوئی سیاح آیون آتا ہے وہ ضرور اس خوبصورت باغ کودیکھنے کیلئے یہاں آتا ہے اور یہاں تصویریں اتارتے ہیں۔ اس باغ میں حصوصی طور پر پھولوں کو ایک حاص تربیت سے لگائے گئے ہیں جن میں ہر کیٹگری کے پھول اپنے اپنے کیاری میں لگے ہیں جو نہایت اچھے لگتے ہیں۔ نفسا نفسی اور پریشانی کے اس دور میں انسان جب اس خوبصورت باغ کو دیکھنے کیلئے آتا ہے تو دنیا و ما فیہا کا غم بھلاکر چند لمحوں کیلئے سکون کی زندگی گزارتا ہے اور اس قدرتی حسن کو دیکھ کر انسان تازہ دم رہتا ہے جس سے وہ ذہنی اور جسمانی طور پر وہ صحت مند ہوکر محتلف بیماریوں سے بچ جاتا ہے۔ 

واضح رہے کہ اس باغ کی حاص بات یہ ہے کہ یہاں پانی کیلئے نالہ اور آبشار نما جگہہ بنایا گیا ہے جہاں سے پانی جب گرتا ہے تو اس کی اپنی ہی ایک حاص موسیقی انسان کو جذباتی کرتا ہے۔ اس محل نما گھر کے خوبصورتی میں اس باغ نے مزید اضافہ کیا ہوا ہے جن میں زیادہ تر پھول باہر سے منگوائے گئے ہیں۔ اس باغ کیلئے شائد کسی شاعر نے یہ شعر پڑھا تھا کہ

اگر فردوس بر روئے زمین است
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است








کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں