-->

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

22 جولائی، 2020

چترال ، بونی 103 سالہ شخص نے کورونا کو شکست دےدی، آغا خان ہیلتھ سروسز کے ایمرجنسی ریسپانس سینٹر میں 103 سالہ بزرگ صحت ہوکر گھر چلے گئے

 چترال ، بونی 103 سالہ شخص نے کورونا کو شکست دےدی،  آغا خان ہیلتھ سروسز کے ایمرجنسی ریسپانس سینٹر میں 103 سالہ بزرگ صحت ہوکر  گھر چلے گئے



اپرچترال کے پہاڑی علاقوں سے تعلق رکھنے والے عزیز عبد العلیم کو بونی کے ایمرجنسی سینٹر میں داخل کیا گیا تھا

چترال ، بونی ( 21 جولائی 2020) :  اپر چترال کے دوردراز پہاڑی علاقوں سے تعلق رکھنے والے 103سالہ بزرگ، عزیز عبدالعلیم نے کووِڈ 19- (COVID-19)کو شکست دے دی۔ 

عزیز عبدالعلیم کو حال ہی میں، اپر چترال کے علاقے بونی میں،قائم کیے گئے آغا خان ہیلتھ سروس ایمرجنسی ریسپانس سینٹر میں یکم جولائی کو داخل کیا گیا تھا۔ ان کا کووِڈ 19-کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔ اْن کا علاج فوراً شروع کر دیا گیا تھا اور ایمرجنسی سینٹر میں تقریباً دو ہفتے داخل رہنے کے بعد وہ صحت یاب ہوگئے اور اِس دوران انہیں اضافی آکسیجن کی ضرورت نہیں پڑی۔ صحت بہتر ہونے، اور کسی قسم کی علامات ظاہر نہ کرنے پر انہیں 13جولائی، 2020ء کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔

گھر جانے سے قبل عملے کے ساتھ



اس بارے میں آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان(AKHS,P) کے ریجنل ہیڈ فار چترال معراج الدّین نے کہا:”ہم نے جناب عزیز کی عمر زیادہ ہونے کے باعث ایک انتہائی نازک حالت والے مریض کے طور پر علاج کیا اور مناسب طبی دیکھ بھال فراہم کرنے کے ساتھ نفسیاتی اور اخلاقی مدد بھی فراہم کی۔ فکرمندی کے ایسے موقع پر نفسیاتی اور اخلاقی مدد کی بھی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ اِس سہولت پر ہم نے بہت کم وقت میں کووِڈ 19- کے 59 مریضوں کا کامیابی سے علاج کیا ہے جن میں بعض زیادہ عمر کے افراد بھی تھے۔“

اپر چترال کے علاقے بونی میں کووِڈ 19-کے مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے انتظاما ت کے پیش نظر آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان نے مئی کے آغاز میں ایک ایمرجنسی ریسپانس سینٹر قائم کیا تھا جس کے لیے فنڈز گلوبل افیئرز کینیڈا، یورپین یونین، یونائٹڈنیشنز پاپولیشن فنڈ (UNFPA) اور آغا خان ڈیویلپمنٹ فنڈ (AKDN)کے اندرونی ذرائع سے حاصل کیے گئے تھے۔بونی میں ایمرجنسی ریسپانس سینٹر کا قیام، آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک کی اْن اضافی کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد پاکستان کے درودراز اور پہاڑوں میں گھری الگ تھلگ کمیونٹیرز کو،کووِڈ 19- کی وبا کے دوران معیاری ہیلتھ کیئر کی فراہمی یقینی بنانا تھا۔ 

”ہم اپنے والد کی انتہائی خراب صحت کے پیش نظر بہت تشویش میں تھے۔ ہمیں اْن کے بچنے کی کوئی امید نہیں تھی تاہم، جب میرے والد صاحب کوہسپتال کے فارغ کیا گیا تو ہم سب بہت خوش تھے۔ اُنہوں نے ریسپانس سینٹر میں موجود عملے کے تمام افراد اور ہر اْس شخص کا شکریہ ادا کیا جس نے اْن کی دیکھ بھال میں حصہ لیا تھا۔“ عزیز عبدالعلیم کے بیٹے سہیل عزیز نے کہا۔

کووِڈ 19-کے مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے 28بستروں پر مشتمل دیکھ بھال کی اِس سہولت میں مرد اور خواتین مریضوں کو الگ الگ رکھا جاتا ہے اور   کووِڈ 19-کی درمیانی، شدید اور نازک  علامتیں رکھنے والے مریضوں کے علاج کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اِس سہولت کو 32 افراد پر مشتمل عملہ چلاتا ہے جن میں 8 ڈاکٹرز اور 20 نرسیں شامل ہیں۔ اُنہیں فراہم کی گئی تمام لازمی اشیاء میں ادویات اور مریضوں کے لیے پرسنل پروٹیکٹو ایکوپمنٹ (PPE)  شامل ہیں۔

دوسرے ایمرجنسی سینٹر کا افتتاح، گزشتہ ماہ، گرم چشمہ میں ہوا تھا جبکہ تیسرے سینٹر کا افتتاح،اسی ماہ کے آغاز میں، مستوج میں ہوا تھا جس سے چترال میں میں مجموعی گنجائش بڑھ کر 72 بستر تک ہو گئی ہے۔اس کے علاوہ، گلگت-بلتستان میں بھی آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان کی جانب سے، ہنزہ کے مقام پر، قائم کی گئی کووِڈ 19- کے مریضوں کے لیے51 بستروں پر مشتمل نئی سہولت کا افتتاح، توقع ہے، اگست میں ہو گا۔

وبا کی ہنگامی ضرورت کے پیش نظر تیزی سے قابل تنصیب، آسانی سے تعمیر ہونے والی اور مطابقت پیدا کرنے والی ٹیکنالوجیز کی ضرورت تھی۔ آغا خان ہیلتھ سروسز نے پاکستان کے دوردراز اور پہاڑی علاقوں میں تعمیرات کے حوالے سے آغا خان ایجنسی برائے ہیبی ٹیٹ (AKAH) کی مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چترال اور گلگت-بلتستان میں تیزی سے ایمرجنسی ریسپانس سینٹرز قائم کیے ہیں۔اِن ریسپانس سینٹرز کی کم سے کم وقت میں تعمیر کے لیے اپنے پارٹنرز مثلاً بیٹر شیلٹر (Better Shelter) جیسے پری –فیبریکیٹیڈ میٹریل اور ماڈیولرکے لیے مدد حاصل کی گئی ہے۔

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال، کراچی نے ان ایمرجنسی سینٹرز کے عملے کو تربیت فراہم کی ہے تاکہ یہ بات یقینی بنائی جا سکے کہ اِن علاقوں میں فراہم کی جانے والی ہیلتھ کیئرتازہ ترین معلومات اور تجربات پر مشتمل ہے اور اعلیٰ ترین معیار کے مطابق ہے کیوں کہ کووِڈ 19-کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اور نت نئی معلومات سامنے آ رہی ہیں۔ دی آغا خان یونیورسٹی ہسپتال(AKUH) اور صحت کے عالمی ماہرین آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان کے طبی عملے کوکووِڈ 19- کے علاج سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تربیت فراہم کی ہے جن میں ناز ک حالت والے مریضوں کی دیکھ بھال، ویسٹ منیجمنٹ، پی پی ای کٹس کا استعمال، اسکریننگ نمونے کے جمع کرنے، اسٹور کرنے اور نقل و حمل کے بارے میں حکمت عملی شامل ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں