-->

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

18 جولائی، 2020

اپر چترال میں سڑک کا المناک حادثہ۔ خاتون اور ڈرائیور سمیت چار افراد جاں بحق دو زحمی

 

اپر چترال میں سڑک کا المناک حادثہ۔ خاتون اور ڈرائیور سمیت چار افراد جاں بحق دو زحمی




چترال (گل حماد فاروقی 18 جولائی 2020) چترال کے بالائی علاقے اُجنو (تورکہو) جانے والی سیرا سوزکی جیپ دریا میں گرنے سے چار افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ بد قسمت گاڑی ویرکوپ کے قریب دریائے موڑکہو میں گر گئی۔ جاں بحق ہونے والوں میں ماں، بیٹا، بیٹی اور ڈرائیور شامل ہیں جن میں سے ماں اور بیٹی کی لاش دریائے مولکہو سے مقامی رضاکاروں نے نکالی جبکہ بیٹے اور ڈرائیور کی تلاش جاری ہے۔ 

ایس ایچ او تھانہ ملکہو کے مطابق بونی کے معروف شاعر اور ادیب ذاکر محمد ذحمی کے چھوٹے بھائی شراف الدین کاشفی اپنے اہل حانہ کے ساتھ چترال سے اُجنو تورکہو جارہا تھا اس گاری میں ذاکر زحمی کا بھائی شراف الدین، اس کی بیوی، بیٹا اور بیٹی بھی بیٹھے تھے۔ بد قسمتی سے جب یہ گاڑی ویرکوپ کے قریب پہنچ گیا جہاں سڑک نہایت حراب ہے اور چڑھای پر جانا پڑتا ہے مگر یہ گاڑی چڑھائی پر نہیں چڑھ سکا اور نیچے دریا میں گر گیا جبکہ یہ چڑھائی سے پیچھے آنے لگا اور کئی سو فٹ نیچے دریا میں گر گیا۔

اس حادثے میں شراف الدین کاشفی زحمی ہوا جبکہ ڈرائیور منیر احمد، اس کی بیوی، بیٹی اور بیٹا موقع ہی پر جاں بحق ہوئے۔ پولیس کے مطابق بیٹی اور بیوی کی لاش دریا سے نکالی گئی جبکہ بیٹے اور ڈرائیور کی تلاش جاری ہے۔ 

عینی شاہدین نے بتایا کہ استارو کا پُل اور سڑک انتہائی حراب حالت میں ہے جس کی وجہ سے شراف الدین نے متبادل محفوظ راستہ چنا مگر اسے کیا معلوم کہ اجل اس کے انتطار میں بیٹھا ہے۔ جب وہ نیشکو پل کے قریب پہنچ گیا تو اسکا گاڑی چڑھائی پر نہیں چڑھ سکا اور گاڑی پیچھے آکر کئی فٹ نیچے دریا میں گر گیا جس کے نتیجے میں ایک ہی حاندان کے چار افراد جاں بحق ہوئے۔ 

واضح رہے کہ تورکہو کا یہ سڑک انتہائی حراب حالت میں ہے اور لوگ مجبوراً ملکہو کے دور دراز راستے سے سفر کرنے پر مجبور ہیں تاکہ ان کی جان بچ جائے مگروہاں بھی انتہائی حطرناک چڑھائی ہے جس پر کمزور گاڑی نہیں چڑھ سکتا اور اس قسم کے حادثات پیش آتے ہیں۔ 

مقامی لوگ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں ملکہو اور تورکہو میں سڑکوں او ر دریا پر لکڑی کے جھولے پُلوں کو فوری طور پر پحتہ بنایا جائے تاکہ یہاں کے لوگوں کی جان بچ سکے۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں