-->

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

21 اگست، 2020

پی پی اے ایف اور فیس کے درمیان اشتراک، زندہ ثقافتی ورثہ کے نام سے پہلا آرٹ ریزیڈنسی پروگرام متعارف کرادیا

 

پی پی اے ایف اور فیس کے درمیان اشتراک، زندہ ثقافتی ورثہ کے نام سے پہلا آرٹ ریزیڈنسی پروگرام متعارف کرادیا


اسلام آباد (16 اگست، 2020) پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف) اور فاؤنڈیشن برائے آرٹس، کلچر اور ایجوکیشن (فیس) نے زندہ ثقافتی ورثہ (Heritage Live) کے نام سے ملک کا پہلا میوزک ریزیڈنسی پروگرام متعارف کرایا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ معدومیت کے شکار موسیقی کے ٓٓآلات اور سازوں کو زندہ رکھنے کے ساتھ مقامی لوک موسیقاروں کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کے لئے کاروباری ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی مہارتوں سے آراستہ کیا جائے۔ اس پروگرام سے پسماندہ طبقے کے موسیقاروں کو پائیدار آمدن کا ذریعہ پیدا ہوگا اور وہ خطرات سے دوچار اپنی لوک ثقافت کو محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرسکیں گے۔ 

اس سلسلے میں آرٹ ریزیڈنسی پروگرام کی افتتاحی تقریب اسلام آباد کے لوک ورثہ۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فاک اینڈ ٹریڈیشنل ہیریٹیج میں منعقد ہوئی۔ سینیٹر فیصل جاوید نے افتتاحی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور اس منفرد اقدام پر پی پی اے ایف اور فیس کی کاوشوں کو سراہا۔ 

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا، "فنکار قوم کا چہرہ ہوتے ہیں، اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ترقی کرے تو پھر ہمیں اپنی فنکار برادری کی بااختیاری کے لئے لازمی کام کرنا ہوگا۔ میں پی پی اے ایف اور فیس کو اس درست سمت میں قدم اٹھانے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ آرٹ ریزیڈنسی پروگرام کی بدولت پاکستان کا مثبت تاثر دنیا کے سانے لاسکیں گے۔ اس پروگرام کے ذریعے مقامی لوک فنکار وں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے آگہی حاصل ہوگی، جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ڈیجیٹل دنیا متنوع قسم کی دنیا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف وہ اپنی حالت بہتر بناسکیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی ان خدمات کو سراہنے کا موقع بھی حاصل ہوجائے گا۔ "

پی پی اے ایف کے سی ای او قاضی عظمت عیسیٰ نے جدت انگیز اقدامات کے ذریعے ملک کے پسماندہ طبقوں میں غربت کے خاتمہ کے لئے پی پی اے ایف کے کردار روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، "پی پی اے ایف مقامی ثقافت کو بچانے اور غربت کے شکار افراد کی مدد میں پیش پیش رہتا ہے۔ اس ریزیڈنسی پروگرام کی شروعات کے لئے دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلا یہ کہ ہم پاکستان کے ایسے دور دراز علاقوں کے فنکاروں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا ارادہ کرتے ہیں جو گمنام رہے۔ دوسرا یہ کہ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ فن کار ہماری پہچان ہیں اور یہ انتہائی ضروری ہے کہ انہیں معاشرے میں جائز مقام دیا جائے۔ اس پروگرام سے اپنے فن کاروں کی آمدن کے ذرائع پیدا ہونے میں مدد ملے گی اور پاکستان بھر میں ان کی رسائی بڑھے گی۔ " 

فلاحی ادارے فیس کے بانی زیجاہ فضلی نے کہا، "فاؤنڈیشن آف آرٹس، کلچر اور ایجوکیشن (فیس) کا سال 2014 سے عزم ہے کہ آرٹ اور ثقافتی اقدامات کے ذریعے فنکاروں کی برداری کو مستحکم بنایا جائے اور اب فیس میوزک میلہ، انڈس بلوز اور وومارٹ ڈاٹ پی کے جیسے بڑے منصوبوں پر کام کرنے والی یہ سب سے بڑی ثقافتی تنظیم ہے۔ اسکے نئے پروگرامز میں پہلی بار میوزک ریزیڈنسی پروگرام زندہ ثقافتی ورثہ شامل ہوا ہے جس کے لئے پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ کے ساتھ اشتراک کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے ہماری خواہش ہے کہ پاکستان کے مقامی لوک موسیقاروں کو معاشی طور پر بااختیار بنایا جائے، ان کے آلات اور سازوں کو محفوظ بنایا جائے جو معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔" 

یہ پروگرام 16 اگست 2020 سے اسلام آباد کے لوک ورثہ میں شروع ہورہا ہے اور 2 ستمبر 2020 کو اختتام پذیر ہورہا ہے۔ اس پروگرام کے لئے 20 مقامی موسیقار منتخب کئے گئے ہیں۔ ان میں 10 موسیقار اپنے شعبے میں چوٹی کے استاد ہیں جبکہ باقی دس افراد ان سے یہ فن سیکھنے والے معاون ساتھی ہیں۔ اس پروگرام میں چار ماہرین کی جانب سے تربیت کا جامع پروگرام ان موسیقاروں کو روشناس کرایا جائے گا اور اختتام پر ہر موسیقار اپنے معاون ساتھی کے ساتھ ایک گیت ریکارڈ کرائے گا۔ اس پروگرام میں چار اہم موضوعات کا احاطہ کیا جائے گا جن میں موسیقی کی تربیت، کاروباری تربیت، شخصیت میں نکھار لانے اور ٹیکنالوجیکل مہارتیں شامل ہیں۔ 

ان موسیقاروں کو ملک بھر سے منتخب کیا گیا ہے اور یہ ملک کے پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ماہر موسیقار منفرد سازوں کے لئے انتہائی نایاب آلات استعمال کرتے ہیں جن میں سارندہ، بورندو، رانتی، اور چاردہ کی آوازیں شامل ہیں جن کا استعمال طویل عرصے سے ختم ہوچکا ہے۔ 

اس پروگرام میں شامل دس چوٹی کے ماہر مقامی موسیقاروں میں بلوچستان سے بجلا بگٹی (نورسوربجانے والے)، سندھ سے ستار جوگی (مرلی/بین بجانے والے)، ذوالفقار فقیر (بورندوبجانے والے)، خیبرپختونخوا سے اعجاز سرحدی (سارندہ بجانے والے)، کالاشہ سے روزی خان (اشفوئن بجانے والے)، پنجاب سے لال بھیل (رانتی بجانے والے)، عطاء اللہ چنبل (نقارہ بجانے والے)، گلشن جہاں (گائک)، گلگت بلتستان سے گلباز کریم (چاردہ بجانے والے) اور واحد الن فقیر ہیں۔ 

اس پروگرام میں موسیقاروں کو رہنمائی فراہم کی جائے گی کہ یوٹیوب اور انسٹاگرام جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو کیسے استعمال میں لاکر آمدن کے ذرائع پیدا کئے جاسکتے ہیں جبکہ اپنی پہچان بنانے کے ساتھ ماہرانہ انداز سے گفتگو بھی سکھائی جائے گی۔ 

پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ ملک میں تخفیف غربت اور غریبوں کو وسائل فراہم کرنے والا نجی شعبے میں صف اول کا ادارہ ہے۔ یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے جذبے سے کام کرکے غربت سے متعلق کثیر الجہتی مسائل کی نشاندہی کے ساتھ سماجی و معاشی تبدیلی لانے کے لئے کوشاں ہے۔ پی پی اے ایف پاکستان بھر میں رسائی رکھنے کے ساتھ ملک بھر کے 144اضلاع میں موجود ہے جبکہ اسکی 130 تنظیموں کی ایک لاکھ سے زائد گاؤں /آبادیوں میں شراکت داری ہے جبکہ ان کے ہمراہ کمیونٹی ادارے اور نچلی سطح پر 5لاکھ 74ہزار 500کریڈٹ/کامن انٹرسٹ گروپس موجود ہیں۔

فیس ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو گلوکاروں اور فنکاروں کو اپنے حلقوں میں متعلقہ اور سماجی طور پر قابل عمل مواد تخلیق کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، انہیں بڑی تعداد میں سامعین اور شائقین سے جوڑنے کے مواقع فراہم کرتا ہے اور اس سلسلے میں آمدن کے ذرائع پیدا کرتا ہے۔ اپنے آسانی سے دستیاب پروگرامز اور ملٹی میڈیا پروڈکشنز میں اشتراک کے ذریعے فیس پاکستانی قوم کو ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے اور ایسے آئیڈیاز سامنے لاتا ہے جس سے سماج میں مثبت انداز سے تبدیلی آئے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں