-->

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

17 اکتوبر، 2020

ہنداراب نیشنل پارک سے شندور کا الحاق ایک غلط فہمی کا نتیجہ تھا ریکارڈ درست کیا جارہا ہے، وزیر اعظم کے مشیر برائے ماحولیات کا اپر چترال کا دورہ اور تباہ شدہ پلوں اور سڑکوں کا معائنہ

 

ہنداراب نیشنل پارک سے  شندور کا الحاق ایک غلط فہمی کا نتیجہ تھا  ریکارڈ درست کیا جارہا ہے، وزیر اعظم کے مشیر برائے ماحولیات  کا اپر چترال کا دورہ اور  تباہ شدہ پلوں اور سڑکوں کا معائنہ

چترال (نیوز ڈیسک) وزیر اعظم کے مشیر برائے ماحولیات   ملک امین اسلم نے حال ہی میں  بالائی چترال کا دورہ کیا اور ضلع میں حالیہ فلیش فلڈز سے تباہ شدہ سڑکوں اور پلوں کا معائنہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر شاہ سعود نے مشیر کو اپر چترال میں نئے قائم ہونے والے ضلع کی تاریخ ، گلیشیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (جی ایل او ایف) کے خطرہ اور سیاحت کے امکانات کے بارے میں بتایا۔ ملک امین اسلم نے کہا کہ بالائی چترال ضلع میں سیاحت کے وسیع امکانات موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے یہ علاقہ قدرتی آفات کا شکار بھی ہوا تھا کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جی ایل او ایف یعنی   برفانی جھیلوں کے پھٹ جانے سے ہونے والے سیلابوں کی وجہ سے یہ علاقہ قدرتی آفات کا شکار ہوا تھا۔


انہوں نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ لوگوں کی حفاظت اور انفراسٹرکچر کے لئے بروقت ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔ مشیر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کو انفراسٹرکچر کی نشاندہی کرنی چاہئے ، جو موسم کی شدید صورتحال کی وجہ سے ہونے والی آفات کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت انسانی آبادی اور ملک کے ہر حصے میں پودوں اور حیوانات کے تحفظ کے لئے ہر اقدام کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یو این ڈی پی فنڈز کے ذریعے عمل میں لایا جانے والا جی ایل او ایف پروجیکٹ نے ضلع کے تباہی سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور انسانی نقصان کے خطرے کو کم کرنے کے لئے متعدد سیلاب انتباہی اسٹیشن قائم کیے ہیں۔ 

مشیر نے ضلعی انتظامیہ کو مناسب انداز میں شندور اور بروگل میلوں کے انعقاد کے لئے تجاویز بھی دیں۔  انہوں نے کہا ، ہنداراب نیشنل پارک سے  شندور کا الحاق ایک غلط فہمی کا نتیجہ تھا لیکن اب ریکارڈ کو درست کیا جارہا ہے۔  ملک امین اسلم نے بعد میں گولین گول وادی اور ریشون گاؤں میں حالیہ فلیش فلوڈز سے تباہ شدہ سڑکوں اور پلوں کا دورہ کیا۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں