پاک چین دوستی کا نیا باب رقم۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین کے افتتاح کے ساتھ پاکستان باضابطہ سب وے دور میں داخل

لاہور، 25 اکتوبر، 2020۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین کے تاریخی افتتاح کی تقریب 25 اکتوبر کو لاہور میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر تقریب میں وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، چین کے قونصل جنرل لونگ ڈنگ بن اور پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ جہانزیب خان کھچی نے شرکت کی۔ تقریب میں ایک ویڈیو پورٹل کے ذریعے اورنج لائن ٹرین کا افتتاح دونوں ممالک کے مہمانان ِخصوصی کی موجودگی میں سیٹی کی آواز سے ہوا اور اس طرح باضابطہ طور پر سب وے دور میں پاکستان کے داخل ہونے کا اعلان کیا گیا۔ 

چین کے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام اور چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے تحت اورنج لائن میٹرو ٹرین لاہور،بڑے پیمانے پر جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ پہلا ریل ٹرانزٹ پروجیکٹ ہے۔ یہ پروجیکٹ چائنا اسٹیٹ ریلوے گروپ کمپنی لمیٹڈ اور چائنا نارتھ انڈسٹری کمپنی لمیٹڈ (سی آر۔ نورنکو) کا مشترکہ پروجیکٹ تھا۔ اس کے ٹریک کی مجموعی لمبائی 27 کلومیٹر ہے اور یہ 26 اسٹیشنز پر محیط ہے۔ ڈیرہ گجراں میں واقع ڈپو اس روٹ کا شمالی اختتام ہے اور علی ٹاؤن اسٹیبلنگ یارڈ جنوب میں واقع اس روٹ کی آخری حد ہے۔ 

نورنکو انٹرنیشنل نے قائدانہ طور پر فروری 2020میں گوانگزو میٹرو گروپ (جی ایم جی) اور پاکستان ڈائیوو کمپنی کے ساتھ اشتراک قائم کرکے جوائنٹ وینچر ٹیم تشکیل دی جس نے اگلے آٹھ سالوں کے لئے اورنج لائن ٹرین کے آپریشن اور مینٹیننس کا کنٹرایکٹ کامیابی سے حاصل کرلیا ہے۔عالمی وبا کے باعث لاک ڈاؤن کے باوجود جوائنٹ وینچر ٹیم نے اہلکاروں کی بھرتیاں، تکنیکی تربیت کی فراہمی، جوائنٹ کمیشننگ، دوبارہ معائنہ، اور ٹرائل آپریشن کا عمل ریموٹ ویڈیو اور سینٹرلائزڈ آئیسولیشن جیسے جدید ماڈلز کے ذریعے جامع انداز سے سرانجام دیا اور اسکے نتیجے میں اورنج لائن سب وے کے آغاز اور باضابطہ افتتاح کے لئے تمام تیاریاں مکمل ہوئیں۔ 

اورنج لائن ٹرین حکومت پاکستان کا اقدام ہے تاکہ اپنے شہریوں کا معیار زندگی بہتر بنایا جائے اور یہ مقامی لوگوں کے لئے روزگار کا بھی اہم ذریعہ ہے۔ اسکی تعمیر کے دوران لاہور کے شہریوں کے لئے 7ہزار سے زائد مقامی طور پر ملازمتیں فراہم کیں جبکہ اسکے باضابطہ افتتاح کے ساتھ شہر میں تقریبا 2 ہزار ملازمتیں فراہم کی جائیں گی جس سے شہر میں روزگار کی صورتحال بہتر ہوگی۔ اورنج لائن کے آغاز سے تقریبا ڈھائی لاکھ افراد کو روزانہ سفر کی سہولت حاصل ہوگی اور وہ شہر کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں سفر کرسکیں گے جس کی بدولت ان کے سفر کا دورانیہ ڈھائی گھنٹے سے کم ہوکر محض45 منٹ رہ جائے گا۔


اورنج لائن میٹرو ٹرین سے نہ صرف شہریوں کے سفر میں نہایت آسانی پیدا ہوگی بلکہ لاہور میں سماجی و معاشی ترقی کو بھی فروغ ملے گا اور شہر کو جدید اور مزید ترقی یافتہ بنانے کے عمل میں تیزی آئے گی۔ لاہور میں ہریالی کی ترقی کے قوانین اور پاکستان کی قومی ترقیاتی حکمت عملی کی پاسداری کرتے ہوئے اورنج لائن میٹرو ریل ٹرانزٹ سسٹم کے آغاز کے ساتھ پاکستان سب وے کے دور میں باضابطہ داخل ہوگیا ہے۔ 

اورنج لائن میٹرو ٹرین پروجیکٹ کے معاہدے پر چینی صدر ذی جن پنگ کی موجودگی میں دستخط ہوئے اور اسے چینی کمپنیوں چائنا اسٹیٹ ریلوے گروپ کمپنی لمیٹڈ اور چائنا نارتھ انڈسٹری کمپنی لمیٹڈ نے تعمیر کیا۔ لاہور کے شہری اورنج لائن کو چینی صدر کی جانب سے پاکستانی عوام کیلئے تحفہ قرار دیتے ہیں اور اسے دونوں ممالک کی دوستی کا پھول سمجھتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دوستی کے اس پھول نے آخر کار جڑیں پکڑلی ہیں اور اب یہ پھول مشترکہ تقدیر اور باہمی تعاون کی بارش میں کھل اٹھا ہے۔ اورنج لائن کے افتتاح سے چین اور پاکستان کے درمیان گہری دوستی کا واضح اظہار ہوتا ہے جس سے نہ صرف ضرورت کے وقت دوست کی موجودگی کا تصور اجاگر ہوتا ہے بلکہ باہمی تعاون کے استفادے کے ساتھ مشترکہ ترقی بھی منسلک ہے۔ حکومت سے لیکر کاروباری اداروں، قومی سطح کے رہنماؤں سے لیکر سرکاری سطح تک حقیقی کاوشوں اور تعاون کی بدولت پاکستان اور چین کے درمیان اس لامحدود دوستی کا ایک نیا باب رقم ہورہا ہے۔ 

Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

Previous Post Next Post