-->

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

15 اکتوبر، 2020

پاکستان سنٹر آف ایکسلنس ریسرچ اینڈ سیکورٹی سٹڈیز کی جانب سے چترال یونیورسٹی میں دو روزہ ورکشاپ احتتام پذیر۔ شرکاء میں اسناد تقسیم کئے گئے۔

 

پاکستان سنٹر آف ایکسلنس ریسرچ اینڈ سیکورٹی سٹڈیز کی جانب سے چترال یونیورسٹی میں  دو روزہ  ورکشاپ احتتام پذیر۔ شرکاء میں اسناد تقسیم کئے گئے۔


چترال (ٹائمزآف چترال ،گل حماد فاروقی14 اکتوبر 2020) جامعہ چترال میں طلبا ء و طالبات کیلئے پاکستان سنٹر آف اکسلنس کی جانب سے باہمی مذاکرات پر دو روزہ ورکشاپ احتتام پذیر ہوا۔ اس ورکشاپ کا بنیادی مقصد طلباء و طالبات میں برداشت، سوالات، اور بنیادی حقوق وغیرہ کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا تھا۔ 

پراجیکٹ منیجر فرحانہ کنول نے مقامی صحافیوں  کو بتایا کہ یہ ایک خود محتار ادارہ ہے جو پچھلے دس سالوں سے محتلف  موضوعات پر کام کررہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت محتلف  جامعات کے ساتھ مشترکہ طور پر کام کر رہی ہے  انہوں نے کہا کہ ان سرگرمیوں کا بنیادی مقصد بچوں اور بچیوں میں تنقیدی سوچ کو  فروغ دے سکے، سوال کرنے کا اہمیت کیا ہے اور سوال پوچھنے سے ان کو کیا مل سکتا ہے  کیونکہ سوال ہی کے ذریعے ان کے لئے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ 




فرحانہ کنول کا کہنا ہے کہ انہوں نے دو دنوں میں چار سیشن (نشست) کروائے  پہلا سیشن اکوالٹی ڈایورسٹی ٹولرینس، دوسرا سیشن سماجی ہم آہنگی پر تھا،  تیسرا  سیشن لیڈر شپ اور موٹیویشن پر تھا جس پر صدام حسین نے شرکاء پر بریفنگ دی۔ جبکہ آحری سیشن پیش بلڈنگ اور کانفگرنس  پر تھا۔ اسی جامعہ کی ایک طالبہ نگینہ حکیم نے کہا  اس سیشن سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے  کو ملا کیونکہ ہمیں سماجی تصادم کے بارے میں  پہلے کوئی معلومات نہیں تھی اور سماجی زندگی میں ہمیں ایک دوسرے کو برداشت اور رویوں کو مثبت بنانے کے بارے میں بہت معلومات حاصل ہوئی۔

ایک اور طالبہ نازش نے کہا کہ یہ سیشن ہمارے لئے نہایت مفید تھا اور نوجوان نسل کو بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور اس قسم کے سیشن ہونے چاہئے۔ انہوں نے کہا خواتین میں خودکشی کی بڑھتی ہوئی رحجان بھی عدم برداشت کا نتیجہ ہے۔  اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کی طالبہ کاملہ بی بی نے کہا کہ پہلے ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ ہمیں کس قسم کے سوالات پوچھنے چاہئے اور ہم سماجی مسائل کو کیسے حل کروائے اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حوصلہ بڑھا۔ 

کمپیوٹر سائنس کی طالبہ  حافظہ نذار  نے کہا کہ سیشن کے بعد میرے اندر کمیونیکیشن کا  سکل بہت بڑھ گیا اور ہم اپنی بات آسان طریقے سے ایک دوسرے کو بتاسکتے ہیں اور اب میں نے جو کچھ یہاں سے سیکھا اسے میں اپنے گھر والوں کو بھی بتاؤں گی۔ ایسے سیشن ضرور ہونا چاہئے تاکہ طلبا ء اور طالبات اپنی مسائل کے بارے میں  ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرات کر سکے۔ 

فرحانہ کنول نے طلباء و طالبات کے ساتھ  سوال و جواب کا حصوصی نشست بھی رکھا جس میں محتلف سماجی اقدار  پر شرکاء سے سوالات پوچھے گئے۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں