ذہنی صحت کی بین الاقوامی کانفرنس میں ذہنی امراض کی2 ماہر پاکستانی خواتین شرکت کریں گی ، کانفرنس کا انعقاد چاڈڈ کر رہا ہے

 ذہنی صحت کی بین الاقوامی کانفرنس میں ذہنی امراض کی2  ماہر پاکستانی خواتین شرکت کریں گی ، کانفرنس کا انعقاد چاڈڈ  کر رہا ہے

کراچی:  ذہنی امراض کی دو پاکستانی ماہر اور کاظم ٹرسٹ کے مشاورتی بورڈ میں شامل ڈاکٹر زینب ایف زادے اور ڈاکٹر عائشہ میاں دو روزہ بین الاقوامی سالانہ کانفرنس میں شرکت کررہی ہیں جس کا 6 نومبر کو آغاز ہوگا اور یہ 7 نومبر کو اختتام پذیر ہوگی۔ اس بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد چاڈڈ (CHADD) تنظیم کی جانب سے کیا جارہا ہے۔ یہ تنظیم بچوں اور بڑوں میں ارتکاز میں کمی / انتہائی فعالیت کے عدم توازن (اے ڈی ایچ ڈی) کے شعبے میں کام کرتی ہے۔ اس ادارے کی بنیاد 1986 میں اس وقت رکھی گئی جب والدین کو اپنے بچوں میں اے ڈی ایچ ڈی بیماری کی وجہ سے اکیلے پن کے باعث انتہائی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کانفرنس کے شریک منتظمین میں بین الاقوامی پروفیشنل ممبر شپ آرگنائزیشن اے سی او (اے ڈی ایچ ڈی کوچز آرگنائزیشن) اور اٹنشن ڈیفیشیٹ ڈس آرڈر ایسوسی ایشن (اے ڈی ڈی اے) شامل ہیں، اور پہلی مرتبہ پاکستان سے ایک ادارہ کاظم ٹرسٹ اسکے اسپانسرز میں شامل ہے۔ 

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے اس اہم بین الاقوامی کانفرنس میں پاکستان سے بھی دو ماہرین شرکت کر رہی ہیں۔ اس کانفرنس میں پروفیسر ڈاکٹر زینب ایف زادے  اپنے موضوع "حوصلہ گرانے اور اے ڈی ایچ ڈی: پاکستانی والدین کے لئے رکاوٹیں اور چیلنجز" پر اظہار خیال کریں گی۔ اسی طرح، ڈاکٹر عائشہ میاں کا موضوع "اے ڈی ایچ ڈی اور پاکستان۔ مواقع اور چیلنجز" ہے۔ دونوں مقررین انتہائی تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ کلینیکل سائیکولوجیکل اور نیورولوجیکل ہیلتھ کے شعبے میں کام کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں اور اپنے کیرئیر کے دوران مختلف بین الاقوامی اور مقامی اسپتالوں، جامعات اور دیگر اداروں میں مختلف ذمہ داریوں کے ساتھ خدمات فراہم کرچکی ہیں۔ 

کاظم ٹرسٹ ایک غیرمنافع بخش تنظیم ہے جس نے ان دونوں ماہرین کی اس اہم بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کو ممکن بنایا ہے۔ سال 2008 میں یہ تنظیم کراچی میں قائم ہوئی جس کا مقصد بچوں اور بڑوں میں ارتکاز میں کمی اور انتہائی فعالیت کے عدم توازن (اے ڈی ایچ ڈی)، سیکھنے میں مشکلات (ایل ڈی)، آٹزم (اے ایس ڈی) اور ایک سے زائد بیماریوں کے علاج کے پروگرامز کی تیاری اور آگہی پھیلانا ہے۔ یہ مالی طور پر خود کفیل تنظیم ہے اور کسی سے عطیات کی وصولی یا چند ہ جمع نہیں کرتی ہے۔ 

ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی آبادی کا ایک قابل ذکر حصہ مختلف سطح پر اے ڈی ایچ ڈی کے مسائل سے متاثر ہے، جن میں اکثریت اپنی اس بیماری سے لاعلم ہے جس کے باعث ان کی شخصیت اور طرز زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مزید برآں، یہ بیماریاں قابل علاج ہیں لیکن لوگوں میں اس حوالے سے آگہی بھی نہیں ہے۔ یہاں ایک پریشان کن اور خطرناک بات یہ ہے کہ انسانی جینز میں خرابی کا مطلب ہے کہ یہ بیماریاں اگلی نسلوں میں منتقل ہوسکتی ہے۔ پاکستان اور دیگر ممالک میں تمام تنظیموں کی جانب سے اس طرح کی بیماریوں کی تشخیص اور خرابیوں کے علاج کے لئے کام کرنا انتہائی قابل تعریف ہے۔ 

Post a Comment

Thank you for your valuable comments and for taking the time to point out options to improve our service. Please have your opinion on this post below.

Previous Post Next Post