ایمریٹس گروپ نے مالیاتی نتائج کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں خسارے کا سامنا، سال 2020-21کی پہلی ششماہی کے مالیاتی نتائج کا اعلان کردیا

ایمریٹس گروپ  نے مالیاتی نتائج کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں خسارے کا سامنا،  سال 2020-21کی پہلی ششماہی کے مالیاتی نتائج کا اعلان کردیا 


کراچی/دبئی  12 نومبر، 2020۔ ایمریٹس گروپ نے مالی سال2020-21کی پہلی ششماہی کے مالیاتی نتائج کا اعلان کیا ہے۔ گروپ ریونیو سال2020-21کی پہلی ششماہی میں گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں 74 فیصد کمی سے 3.7 ارب ڈالر رہا۔ ریونیو میں ڈرامائی طور پر کمی کی وجہ عالمی وبا کرونا وائرس ہے جس کی وجہ سے کئی ہفتوں تک فضائی سفر بند رہا اور دنیا کے مختلف ممالک نے اپنی سرحدیں بند کیں اور سفری پابندی عائد کیں۔ عالمی وبا کی روک تھام کے اقدامات کے سلسلے میں ایمریٹس اور ڈناٹا نے دبئی میں اپریل اور مئی کے دوران 8 ہفتوں کے لئے شیڈول مسافر پروازیں بھی معطل کیں 

گروپ کو سال2020-21کی پہلی ششماہی میں 3.8 ارب ڈالر نقصان کا سامنا رہا۔ گروپ کی کیش پوزیشن 30 ستمبر 2020 کو 5.6 ارب ڈالر رہی جو 31 مارچ کو 2020 کو 7 ارب ڈالر تھی۔ 

ایمریٹس ایئرلائن اور گروپ کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو عزت مآب شیخ احمد بن سعید المختوم نے کہا، "ہم نے موجودہ مالیاتی سال کا آغاز لاک ڈاؤن سے کیا جب فضائی ٹریفک تقریبا منجمد ہوگیا۔ ایوی ایشن اور ٹریول انڈسٹری میں اس غیریقینی صورتحال کے دوران ایمریٹس گروپ کو گزشتہ 30 سال میں پہلی بار ششماہی نقصان ہوا۔" 

"مسافروں کے لئے فضائی سفر ختم ہوگیا جس پر ایمریٹس اور ڈناٹا نے تیزی سے دیگر مواقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے عمل کرنے کے ساتھ کارگو کی طلب پوری کرنے کی بھی صلاحیت کرلی۔ اس سے ہمیں گزشتہ سال اسی مدت کے مقابلے میں اپنا ریونیو صفر سے بڑھا کر 26 فیصد تک بحالی میں مدد ملی۔"

انہوں نے کہا، "ان مشکل حالات میں ایمریٹس گروپ پرعزم رہا اورہمارے کاروباری ماڈل کے استحکام کا ثبوت یوں ملتا ہے کہ سالوں پر محیط مہارتوں، ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر پر مسلسل سرمایہ کاری کا فائدہ اب ہم لاگت اور آپریشنل مہارت کی شکل میں اٹھا رہے ہیں۔ ایمریٹس اور ڈناٹا نے مستعد ڈیجیٹل صلاحتیں حاصل کرنے کے ساتھ مستحکم برانڈز بھی قائم کئے جس کی بدولت ہم نے بہتر انداز سے خدمات جاری رکھیں اور گزشتہ چھ ماہ کے دوران کاروباری و صارفین سے متعلق آن لائن سرگرمیوں کی جانب تیزی سے منتقل ہوئے۔" 

شیخ احمد نے کہا، "ہم اپنے صارفین کے مسلسل تعاون پر مشکور ہیں اور اسٹیک ہولڈرز کی اجتماعی کاوشوں پر سراہتے ہیں جن کی بدولت دبئی کے لئے ایوی ایشن اور دیگر معاشی سرگرمی کی اتنی تیزی اور بحفاظت انداز سے بحالی ممکن ہوپائی۔ کوئی بھی مستقبل کی پیشگوئی نہیں کرسکتا لیکن ہم پرامید ہیں کہ کرونا کی ویکسین کی دستیابی کے بعد سفری طلب میں نمایاں بحالی آئے گی اور ہم انہیں خدمات کی فراہمی کے لئے پرجوش ہیں۔ اسی دوران ایمریٹس اور ڈناٹا اپنے صارفین کو خدمات کی فراہمی کیلئے وسائل فراہم کرنے اور طلب پوری کرنے کے لئے بدستور تیار ہیں۔" 

انہوں نے مزید کہا، "ہم اپنے کیش ریزروز مستحکم انداز سے سنبھالنے میں کامیاب رہے اور اپنے حصص یافتہ گان اور وسیع مالیاتی کمیونٹی کے ذریعے ہم نے اس بات کو یقینی بنانے کا عمل جاری رکھا ہے کہ کاروبار قائم رہنے کے لئے ہمارے پاس مناسب فنڈز کی رسائی ہو اور ہم اس چیلنج سے آگے نکلنے کا راستہ دیکھ سکیں۔ سال2020-21کی پہلی ششماہی میں ہمارے شیئرہولڈر نے سرمائے کی فراہمی سے ایمریٹس میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور اس سے ہمیں بحالی کے راستے پر واپس آنے میں مدد ملے گی۔" 

ایمریٹس گروپ کے ملازمین کی تعداد 31 مارچ 2020 کے مقابلے میں 30 ستمبر 2020 کو 24 فیصد کی نمایاں کمی سے مجموعی طور پر 81 ہزار 334 ہوگئی۔ یہ کمپنی کی مجموعی گنجائش اور مستقبل میں کاروباری سرگرمیوں اور عام انڈسٹری صورتحال سے ہم آہنگ ہے۔ ایمریٹس اور ڈناٹا نے ہر طرح سے بامہارت افرادی قوت کے تحفظ کے لئے ہر طرح کا طریقہ تلاش کرنے کا عمل جاری رکھا جن میں جاب سیور پروگرامز میں شرکت شامل ہے، جہاں جہاں وہ موجود ہے۔  

سال 2020-21کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران ایمریٹس کے فضائی بیڑے سے تین جہاز ریٹائرڈ ہوئے۔ متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ہدایت کے مطابق ایمریٹس نے عارضی طور پر 25 مارچ کو مسافروں کے لئے پروازیں معطل کیں اور حکومتوں اور سفارتخانوں سے مل کر کام کیا تاکہ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ٹرانزٹ مسافروں کی بحالی تک مسافروں کو واپس پہنچانے کی خدمات فراہم کی جائیں۔ 

ایمریٹس نے 21 مئی کو مسافروں کے لئے بتدریج شیڈول آپریشنز کا دوبارہ آغاز کیا اور 30 ستمبر تک ایئرلائن مسافروں اور کارگو خدمات 104 شہروں میں فراہم کررہی ہے۔ ایمریٹس نے یکم اپریل اور 30 ستمبر 2020 کے درمیان 15 لاکھ مسافروں کو سفری خدمات پیش کیں جو گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں 95 فیصد کم تھیں۔ تاہم، کارگو کا حجم 35 فیصد کمی سے 8 لاکھ ٹن بڑھا جبکہ کارکردگی میں 106 فیصد اضافہ ہوا۔ اس سے کرونا کے عالمی بحران کے دوران ایئرفریٹ کی غیرمعمولی صورتحال کی عکاسی ہوتی ہے۔ جس میں مسافر پروازوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی جبکہ ایئرفریٹ کی طلب میں مستحکم انداز سے اضافہ ہوا۔

ایمریٹس کا کارگو حجم گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں 65 فیصد زائد رہا۔ سال 2020-21کی پہلی ششماہی میں ایمریٹس کا نقصان 3.4  ارب ڈالر رہا جس کا گزشتہ سال اسی عرصے میں 235 ملین ڈالر منافع تھا۔ ایمریٹس کا ریونیو بشمول آپریٹنگ آمدن گزشتہ سال اسی عرصے میں ریکارڈ 12.9ارب ڈالر کے مقابلے میں 75 فیصد کمی سے 3.2 ارب ڈالر رہا۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ عالمی سطح پر کرونا سے متعلق پروازیں اور سفری پابندیاں عائد تھیں۔ ایمریٹس کی آپریٹنگ لاگت 67 فیصد مجموعی گنجائش کے برخلاف 52 فیصد کم رہی۔ فیول کی لاگت گزشتہ سال اسی مدت کے مقابلے میں 83 فیصد کم رہی۔ 

کرونا کے باعث ڈناٹا کا گراؤنڈ ہینڈلنگ، کیٹرنگ اور سفری خدمات کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا کیونکہ ایئرلائنوں نے اپنے فلائٹ شیڈولز اور خدمات کم کردیں یا آپریشنز مکمل طور پر منجمد کردیئے۔ ڈناٹا کا ریونیو بشمول دیگر آپریٹنگ آمدن گزشتہ سال 2 ارب ڈالر کے مقابلے میں 68 فیصد کمی سے 644 ملین ڈالر رہا۔ 

ڈناٹا کے ایئرپورٹ آپریشنز کا ریونیو گزشتہ سال اسی مدت کے مقابلے میں 54 فیصد کمی سے 454 ملین ڈالر رہا۔ اس نے 12 فیصد کمی سے 13 لاکھ ٹن کارگو ہینڈل کیا۔ ڈناٹا کے ٹریول ڈیویژن کا ریونیو گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں 95 فیصد کمی سے 488 ملین ڈالر رہا۔ ڈناٹا کے فلائٹ کیٹرنگ ڈیویژن کا مجموعی ریونیو 76 فیصد کمی سے 116 ملین ڈالر رہا۔ کھانوں کے باکس کی گزشتہ برس کی ریکارڈ 5 کروڑ 19 لاکھ تعداد کے مقابلے میں 84 فیصد کمی سے 83 لاکھ رہی۔ 

Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

Previous Post Next Post