مالی سال 2020کی تیسری سہ ماہی میں صارفین کے اعتماد میں بہتری آئی؛ لاک ڈاؤن کے خاتمے، تجارتی سرگرمیوں کی بحالی اور مستقبل میں بہتری کی توقعات صارفین کے اعتماد میں اضافے کی بنیادی وجہ بنیں ؛ سروے رپورٹ

مالی سال 2020کی تیسری سہ ماہی میں صارفین کے اعتماد میں بہتری آئی ہے۔ سروے رپورٹ
لاک ڈاؤن کے خاتمے، تجارتی سرگرمیوں کی بحالی اور مستقبل میں بہتری کی توقعات صارفین کے اعتماد میں اضافے کی بنیادی وجہ بنیں
 
کراچی 24نومبر2020: ڈن اینڈ بریڈاسٹریٹ پاکستان اور گیلپ پاکستان نے مشترکہ طومالی سال 2020کی تیسری سہ ماہی  پر  پاکستان کے صارفین کے اعتمادکے اعشاریوں پر مبنی(کنزیومرکانفیڈینس انڈیکسCCI) اپنی تیسری رپورٹ جاری کردی ہے۔رپورٹ کے مطابق تیسری سہ ماہی میں سی سی آئی دوسرے سہ ماہی کے 79.1پوائنٹس کے مقابلے میں 88.7پوائنٹس رہا جو سہ ماہی در سہ ماہی بارہ فیصد اضافہ کو ظاہر کرتا ہے۔لیکن مالی سال 2020کی تینوں سہ ماہیوں میں مجموعی طور پر صارفین کا اعتماد مایوسی کا شکا ررہا۔ تاہم تیسری سہ ماہی میں صارفین کے اعتماد میں بہتری دیکھنے میں آئی  جس میں لاک ڈاؤن کے خاتمے، تجارتی سرگرمیوں کی بحالی اور مستقبل میں بہتری کی امین کی وجہ سے صارفین کے اعتماد میں سہ ماہی در سہ ماہی15.3فیصد اضافہ ہوا۔ 

ڈن اینڈ بریڈ اسٹریٹ کے کنڑی منیجر نعمان لاکھانی نے کہا کہ پاکستان کنزیومرکانفیڈنس رپورٹ کے تیسرے شمارے میں صارفین کے اعتماد میں تبدیلیوں کا مقابلہ 2020کی پہلی سہ ماہی(کرونا سے پہلے)دوسرے سہ ماہی(لاک ڈاؤن کے دوران) اور تیسری سہ ماہی (لاک ڈاؤن کے مکمل خاتمے)سے کیا گیا ہے۔گذشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں موجودہ سہ ماہی میں صارفین کے اعتماد میں 7فیصد اضافہ خوش آئند ہے جس سے ملک میں معاشی سرگرمیوں کی بحالی کا اشارہ ملتا ہے۔ میں اس انڈیکس کو آنے والے سالوں میں معاشی بہبود کا بیرو میٹر تصور کرتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ رپورٹ پاکستان میں پالیسی سازوں، ترقیاتی مالیاتی اداروں، چھوٹے اور درمیانی درجے کے کاروباری اداروں، نجی شعبے سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ ریگولیٹرزاور تعلیمی و تحقیقی اداروں کیلئے معلوماتی اور کارآمدہونے کے علاوہ  یہ رپورٹ خاص طورمختلف صنعتوں کو صارفین کی ذہنیت اور مارکیٹ کی نبض کو سمجھنے میں مددگارثابت ہوگی۔

گیلپ پاکستان کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بلال اعجاز گیلانی نے سروے رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عام طور پر پاکستانی لوگ پر امید ہیں اور تیسری سہ ماہی میں  اعتماد کے اعشاریوں کا اوپر جانا بھی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ معیشت اور صارفین پر Covid-10کے اثرات آہستہ اہستہ ختم ہورہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ گیلپ پاکستان کے خیال میں مہنگای اور بے روزگاری آگے بڑھنے کے اس رجحان کیلئے اہم خطرات ہیں۔اگر ان دونوں خطرات کا موئثر طریقے سے مقابلہ نہیں کیا گیا تو حالیہ ساری کامیابیاں ضائع ہوسکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2020کی تینوں سہ ماہیوں میں ملکی معیشت کے بارے میں صارفین کے خیالات میں اضافہ ہوا ہے جو مستقبل کے بارے میں صارفین کے حوصلہ افزاء جذبات کو ظاہر کرتے ہیں۔رپورٹ میں صارفین کی گھریلو مالی صورتِ حال کے اعشاریئے گرین زون میں داخل کئے گئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ Covid-19میں کمی کی وجہ سے لوگوں کی گھریلو آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔ تیسری سہ ماہی کے دوران، مستبقل کی توقعات میں بہتری کی وجہ سے گھریلو مالیاتی صورتِ حال وہ واحد CCI پیرامیٹر تھا جو مجموع طور پر پر امید تھا۔ جس میں 30فیصد صارفین کو امید تھی کہ اگلے چھ ماہ میں ان کی آمدنی میں بہتری آئے گی۔ 

اس کے برعکس بڑھتی ہوئی افراطِ زر اور بے روزگاری مستبقل کے بارے میں صارفین کے اعتماد اور جوش میں کمی لارہی ہے۔ دوسری سہ ماہی کے 82فیصد صارفین کے مقابلے میں تیسری سہ ماہی کے سروے کے دوران 91فیصد صارفین کا خیال تھا کہ اگلے چھ مہینوں میں روزمرہ کی ضروریات کی چیزوں میں اضافہ بلکہ بہت اضافہ ہوگا۔
جبکہ پہلی سہ ماہی کے 71فیصد اور دوسرے سہ ماہی کے 80فیصد صارفین کے مقابلے میں تیسری سہ ماہی میں ہر 5میں چار(77فیصد) صارفین کے مطابق بے روزگار میں اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح پہلی سہ ماہی کے 57فیصد اور دوسری سہ ماہی کے 64فیصد صارفین کے مقابلے میں تیسری سہ ماہی میں ہر تین میں دو (66فیصد)صارفین نے گھریلو بچت میں کمی کی شکایت کی۔

مجموعی طور پر تمام صوبوں (دیہی اور شہری) میں مختلف عمر اور صنف کے صارفین دوسری سہ ماہی کے مقابلے میں تیسری سہ ماہی میں مستقبل کے بارے میں زیادہ پر امید تھے۔سی سی آئی رپورٹ مجموعی معاشی صورتِ حال پر صارفین کے اعتماد اوران کے ذاتی مالی حالات کو مدِ نظر رکھ کر تیار کی گئی ہے۔ سی سی آئی انڈیکس گھریلو مالی صورتِ حال، ملکی معاشی حالات، بے روزگاری اور گھریلو بچت جیسے چار کلیدی پیرامیٹرز کا احاطہ کرتا ہے۔سی سی انڈیکس موجودہ صورتِ حال(گذشتہ چھ ماہ میں محسوس کی جانے والی معاشی تبدیلیاں)کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں صارفین کی آئندہ توقعات(آئندہ چھ ماہ میں متوقع تبدیلیاں)کی عکاسی کرتا ہے۔

سروے میں صارفین کے اعتماد کے اعشاریوں کی حد صفر سے 200پوائنٹس تک مقرر کی گئی تھی جبکہ 100پوائنٹس کو غیر جانبدارقرار دیا گیا تھا۔سروے میں 100پوائنٹس سے کم اسکور مایوسی کی نشاندہی کرتا ہے۔ 
 

Previous Post Next Post