پی ایس او نے بقایاجات وصولی عدم وصولی پر 3 سرکاری کمپنیوں کے حصص مانگ لئے، 88 ارب کی وصولی کیلئے ماڑی گیس،اوجی ڈی سی ایل،پی پی ایل کے 28 فیصدحصص دیں

پی ایس او نے بقایاجات وصولی عدم وصولی پر 3 سرکاری کمپنیوں کے حصص مانگ لئے،  88 ارب کی وصولی کیلئے ماڑی گیس،اوجی ڈی سی ایل،پی پی ایل کے 28 فیصدحصص دیں

کراچی (این این آئی۔ 23 نومبر2020ء) پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او)نے حکومتی پاور سیکٹر کے ذمہ کئی سالوں سے واجب الادا اربوں روپے کے بقایاجات کی وصولی کیلئے ایک منفرد منصوبہ پیش کردیاہے، جس کے تحت تیل وگیس کی 3 حکومتی کمپنیوں کے حصص پی ایس او کو منتقل کرنے سے نہ صرف کمپنی کی مالی حالت بہتر ہوگی بلکہ پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کیلئے بینکوں سے قرض لینے کی سہولت بھی بڑھ جائے گی۔

ذرائع کے مطابق سیکرٹری پٹرولیم کو لکھے گئے مراسلہ میں پی ایس او نے ماڑی گیس، او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کے ذمہ 88 ارب روپے کے بقایاجات کو وصول کرنے کیلئے 28 فیصد حصص منتقل کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے ۔ مراسلے میں ماڑی گیس کے 12 ارب روپے کے 8 فیصد حصص، او جی ڈی سی ایل کے 67 ارب کے 15 فیصد حصص اور پی پی ایل کے 9 ارب روپے کے 5 فیصد حصص پی ایس او کو منتقل کرنے کا پلان دیا گیا ہے ۔

اس سے ایک طرف تیل وگیس کمپنیوں کے واجب الادا بقایاجات جبکہ دوسری طرف پی ایس او کے ذمہ واجب الادا گردشی قرضہ کم کیا جاسکے گا۔ واضح رہے کہ پی ایس او نے حکومتی اور نجی پاور کمپنیوں سے 319 ارب روپے وصول کرنے ہیں جبکہ پی ایس او نے مقامی آئل ریفائنریوں کے 17ارب روپے دینے ہیں اور ان مقامی ریفائنریوں نے ماڑی گیس، اوجی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کے خام تیل کی فراہمی کے بقایاجات بھی دینے ہیں۔

پی ایس او کے مراسلہ کے مطابق ماڑی گیس کمپنی کے حصص کی کل مالیت 148 ارب روپے ہے جس میں حکومتی حصہ 18 فیصد ہے ، اسی طرح ماڑی گیس میں حکومتی حصہ کی کل مالیت 27 ارب روپے بنتی ہے ، اسی طرح او جی ڈی سی ایل کے کل حصص کی مالیت 447 ارب روپے ہے جس میں حکومتی حصہ 75 فیصد ہے جس کی مالیت 335 ارب روپے ہے جبکہ پی پی ایل کے کل حصص کی مالیت 179 ارب روپے ہے جس میں حکومتی حصہ 68 فیصد ہے اور اس کی مالیت 122 ارب روپے بنتی ہے ۔ اس سے پہلے پی ایس او نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد 30 روپے فی لیٹر ڈیویلپمنٹ لیوی میں سے 3 سے 5 روپے فی لیٹر گردشی قرضہ کم کرنے کیلئے مختص کرنے کی درخواست کی تھی۔

Post a Comment

Thank you for your valuable comments and for taking the time to point out options to improve our service. Please have your opinion on this post below.

Previous Post Next Post